0

تحریک انصاف کی ایک ساتھ 4 بڑی وکٹیں گرگئیں

لاہور (ویب ڈیسک) ن لیگ ، ق لیگ میں برف پگھل رہی ہے ،رابطوں کی اطلاعات ملیں ہیں۔ ترقیاتی عمل میں بیورو کریسی کا بڑھتا کردار اراکین اسمبلی سے ہضم نہیں ہورہا سردار شہاب سیاسی ماہر ہیں ، ایک جھٹکے میں پی ٹی آئی کے 4ٹکٹ لے اڑے تھے۔ نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 20ارکان کی جانب سے الگ گروپ بنانے ،اپنی

شکایات، تحفظات اور مطالبات کیلئے سیاسی کردار ادا کرنے کا اعلان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل خصوصاً ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے پریشانی کاشکار ہیں،ترقیاتی عمل میں بیورو کریسی کا بڑھتا کردار اراکین اسمبلی سے ہضم نہیں ہورہا،گروپ کے رہنماسردار شہاب سیاسی پتے کھیلنے کے ماہر ہیں ، ایک جھٹکے میں پی ٹی آئی کے 4ٹکٹ لے اڑے تھے ۔ مذکورہ گروپ کے حوالے سے ن لیگ اور ق لیگ کی لیڈرشپ کے رابطوں کی بھی خبریں ہیں،بعض واقفان حال مذکورہ گروپ کو عثمان بزدار کو بااختیار بنانے کی ایک منظم کوشش بھی قرار دے رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروپ میں زیادہ تر ارکان وہی ہیں جنہوں نے حکومت کے قیام کے وقت پارلیمانی پارٹی کے پہلے اجلاس میں ہی وزیراعلیٰ پنجاب کو بااختیار بنانے پر زور دیا تھا۔ بہرحال گروپنگ کا باقاعدہ اعلان پنجاب کی سطح پر بے چینی کا آئینہ دار ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی اراکین اپنی حکومت سے ہی خوش کیوں

نہیں۔ کیا ناراض اراکین کے اس گروپ کو فارورڈ بلاک قرار دیا جا سکتا ہے ۔ مذکورہ گروپ کے قیام کو کیا پنجاب میں کسی عدم اعتماد کا ذریعہ قرار دیا جا سکتا ہے اور کیا پنجاب میں عدم اعتماد ممکن ہے ۔ نمبرز گیم اس کی اجازت دیتی ہے ۔ پنجاب کی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بات بڑی واضح ہے کہ پنجاب میں بننے والے وزیراعلیٰ کے حوالے سے شروع دن سے یہ تاثر نمایاں رہا کہ وہ ایک کمزور وزیراعلیٰ ہیں جبکہ عمران خان انہیں اپنے انداز میں وسیم اکرم پلس قرار دے کر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ حالات وواقعات اور پنجاب کی سطح پر ہونے والے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کو پنجاب سے نہیں بلکہ بنی گالہ سے چلایا جا رہا ہے ۔ مذکورہ طریقہ کار کا حکومت کو نقصان یہ ہوا کہ

یہاں گورننس نظر آئی نہ ہی ترقیاتی عمل منظم انداز میں چل سکا اور خصوصاً عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ حکومت کو اس سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی کے حوالے سے عمومی رائے یہی تھی کہ انہوں نے پنجاب کو دیگر صوبوں کے معاملہ میں بہتر انداز میں چلایا۔ بیوروکریسی متوسط تھی تو شہباز شریف ان سے زیادہ مضبوط تر تھے ، عثمان بزدار اس صورتحال میں وزیراعلیٰ بنے کہ وہ سب سے آخر میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں میں سے تھے ، جب انہیں وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان ہوا تو نہ تو 95 فیصد اراکین اسمبلی ان کو جانتے تھے اور نہ ہی نامزد وزیراعلیٰ کی ان سے واقفیت تھی۔ بہرحال ان کی حکومت کے قیام کے بعد اب تک یہ تاثر سب سے نمایاں تھا اور ہے کہ سب سے اہم صوبے کا کپتان سب سے غیر موثر اور کمزور ہے۔

ایک ساتھ تحریک انصاف کی 4 بڑی وکٹیں گرناس صورتحال میں پھر پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں چل رہی ہیں، اس حوالے سے چودھری پرویزالٰہی کا نام سامنے آ رہا ہے جبکہ پرویزالٰہی نے از خود اس خواہش کا اظہار نہیں کیا لیکن تبدیلی کی خبروں کا مظہر دراصل خود تحریک انصاف کی اندرونی بے چینی ہے اور اراکین اسمبلی اب کھلم کھلا یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ڈیویلپمنٹ فنڈز سمیت پوسٹنگ، ٹرانسفر میں ان کا کردار یکسر ختم کر کے سب کچھ چیف سیکرٹری اور دیگر انتظامی افسروں کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں