0

جماعت اسلامی میں سوگ، فائرنگ میں مرکزی رہنما جاں بحق ہوگیا

 تحصیل فیروز والا کے قریب مخالفین کی فائرنگ کے نتیجے میں کار میں سوار 3 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ۔مقتولین تحصیل فیروز والا کی عدالت سے پیشی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ مخالفین کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے،پولیس کے مطابق مقتولین کی اپنے مخالفین سے پرانی دشمنی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار مخالفین نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے تینوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے،ملزمان فائرنگ کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لیا اور پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کی جانب سے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے اب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تین افراد کا تعلق جماعت اسلام سے تھا۔واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے علاقے فیروز والا میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کر

کے پچھلی نشست پر بیٹھے تین افراد کو قتل کر دیا۔تینوں افراد عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد مرید کے واپس جا رہے تھے۔راستے میں رانا ٹاؤن کے قریب ان پر مخالفین کی جانب سے گولیاں برسائی گئیں۔گاڑی میں ڈرائیور اور ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا شخص خالد معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔جاں بحق افراد کی شناخت صداقت علی صداقت،شبیر حسین سرویا اور اسد ہاشمی کے نام سے ہوئی۔صداقت جماعت اسلام و وسطی پنجاب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری تھے جب کہ شبیر احمد سرویا اور اسد ہاشمی جماعت اسلامی کے رکن تھے۔لواحقین نے لاشیں جی ٹی روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا اور ٹریفک بلاک کر دی۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے فیروزوالا میں تین کارکنوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس 

ہمارے کارکنوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے،انہوں نے کہا قاتلوں نے اس سے قبل مقتول شبیر سرویا کے گھر پر حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں