0

حریم شاہ کے دم سے پارلیمنٹ میں رونق تھی مگر افسوس ۔۔۔۔ باریش رکن قومی اسمبلی کا متنازعہ بیان منظر عام پر آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام متعلقہ رکن موجود ہیں ، اگرکوئی نہیں ہے تو صرف حریم شاہ نہیں ہے، کونسل کے فیصلوں پرفواد چوہدری کا بیان ایک آئینی ادارے کی توہین ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف فواد چوہدری کے بیان

پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل میں مذہبی اسکالر، آئینی و قانونی ماہرین بطور رکن شامل ہیں، اگر نہیں ہیں تو صرف حریم شاہ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ناقص کارکردگی اور بد زبانی کے باعث فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات لے لی گئی تھی، فواد چوہدری دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنی کارکردگی دکھائیں یا مستعفی ہوجائیں۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کی جانب سے نیب آرڈیننس کی بعض شقوں

کو غیر شرعی قرار دیے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز اور وفاقی وزیر سائنس ایںڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے کیخلاف بیانات داغ دیے۔فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے باہر ہے جس سے مذہبی طبقات کی سوچ کو کوئی مدد نہ ملی ہو، ہونا یہ چاہیے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انتہائی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت اور اپوزیشن

کے درمیان نیب قوانین آرڈیننسز کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے اور حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے۔نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ پہلے آرڈیننس میں 5 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی تھی جب کہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے حکومت نیب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز

کو بھی شامل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاس کردہ 9 آرڈیننسز پر حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈلاک برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا 9 آرڈیننسز کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے واپس لینے پر اصرار ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 9 آرڈیننسز کو صدر مملکت سے سمری کی منظوری کے ذریعے واپس لے لیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اراکین کی رائے ہے کہ اگر قانون سازی کے ذریعے آرڈیننسز واپس لئے گئے تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں