0

حکومت اور اپوزیشن میں ایک اور ڈیل؟ نئے نیب آرڈیننس بارے بڑا فیصلہ کرلیاگیا

حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا آرڈیننس واپس لینے کے لیے تیار ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قوانین آرڈیننسز کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔حکومت نیب سے متعلق پہلا آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے۔پہلے آرڈیننس میں

پانچ کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی ہے۔جب کہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔حکومت نیب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔قومی اسمبلی میں پاس کردہ 9 آرڈیننسز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ابھی برقرار ہے۔اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ 9آرڈینسز کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے واپس لیا جائے۔جب کہ حکومت کا کہنا

ہے کہ 9 آرڈیننسز کو صدر مملکت سے سمری کی منظوری کے ذریعے واپس لے لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومتی اراکین کی رائے ہے کہ اگر قانون سازی کے ذریعے آرڈیننسز واپس لیے گئے تونیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔یاد رہے کہ حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت قومی احتساب بیورو محکمانہ نقصائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی نہیں کر سکے گا۔ مجوزہ آرڈیننس کے تحت

ایسے ملازمین کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا۔سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کاروائی ہو سکے گی۔ نیب 3 ماہ میں تحقیقات مکمل نہ کر سکا تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہو گا۔ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور سکینڈل پر کاروائی کر سکے گا۔

واضح رہے کہ حکومت نے نیب آرڈیننس پراپوزیشن کا شورشرابہ بے معنی قرار دے دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں