562

سعودی خاتون موسیقار سے شادی کرنے کی عدالتی جنگ ہار گئیں

سعودی عدالت نے ایک خاتون کی موسیقار سے شادی کرنے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ موسیقار سے شادی مذہبی طور پر جائز نہیں ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایک سعودی لڑکی نے اپنی مرضی سے موسیقار سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم ان کے اہل خانہ نے انکار کردیا۔

جس کے بعد خاتون نے سعودی عدالت سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ انہیں شادی کی اجازت دی جائے۔

تاہم سعودی عدالت نے خاتون کے اہل خانہ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ مذہب کے مطابق موسیقی حرام ہے اور اس فیصلے کو اپیل کورٹ نے بھی حتمی فیصلہ قرار دے دیا۔

دوسری جانب سعودی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ صرف موسیقار نہیں بلکہ ایک اچھے انسان ہیں اور اب وہ اپنے قانونی حق کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطہ کریں گی۔

واضح رہے کہ مذکورہ سعودی لڑکی کو دوسال قبل ایک بینک مینیجر نے شادی کی پیشکش کی تھی جو کہ موسیقار بھی ہیں لیکن خاتون کے گھر والے نہیں مانے جس پر لڑکی نے اپنے بھائیوں پر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سعودی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے معاشی اور معاشرتی اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں، جس کے پیش نظر ملک میں خواتین پر عائد ڈرائیونگ کی پابندی کو بھی حال ہی میں ختم کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں