0

سعودی عرب میں 40سال سے نمازیوں کی منتظر130 مساجد کی آبادکاری

اسلام آبادٜ محمد بن سلمان پراجیکٹ برائے تیاری تاریخیمساجد کے تحت سعودی عرب میں 30مساجد کو بحال کردیا گیا ہے۔ محمد بن سلمان پراجیکٹ برائے تیاری تاریخی مساجد کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے 10مختلف اضلاع میں30مساجد کو 423دنوں کی قلیل مدت میں 5کروڑ سعودی ریال کی خطیر رقم سے تیار اور دوبارہ آباد کیا گیا، جس کے احکامات اور نگرانی خود شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد، نائب وزیراعظم

مسجد کا تزئین وآرائش سے پہلے اور بعد کے مناظر

اور وزیر دفاع نے کی،منصوبہ کے تحت مختلف مراحل میں 130تاریخی مساجد کی تیاری وآبادکاری شامل ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات کی روشنی میں مساجد کی مرمت وآبادکاری کا یہ کام بطور خاص ایسی کمپنیوں کو سونپا گیا جو تاریخی ورثہ کی عمارتوں کی دیکھ بھال میں مہارت رکھتی ہیں اس کام میں سعودی عرب کے انجینئرز کو بطور خاص شامل کیا گیا تاکہ ہر مسجد کو اس کی اصل شکل کہ جس میں وہ بنی تھی پر برقرار رکھا جائے، تاریخی مساجد کی بحالی کا یہ پراجیکٹ وزارت ثقافت کی جانب سے ادارہ برائے سیاحت وقومی ورثہ اور وزارت اسلامی امور دعوت وارشاد اور سعودی سوسائٹی برائے تحفظ ثقافتی ورثہ کے مشترکہ تعاون سے مکمل ہوا۔

مسجد کا تزئین وآرائش سے پہلے اور بعد کے مناظر


کام کے دوران اس منصوبے میں چیدہ چیدہ امور کو بھی مدنظر رکھنے کا خواہاں تھا تاکہ مساجد کو مقامی ورثہ کے مطابق ڈھالا جائے جبکہ ان میں جدید ترین سہولیات مثلاً خواتین کےلئے علیحدہ نماز کی جگہ معذور افراد کیلئے ضروری سہولیات کی فراہمی ایئر کنڈیشننگ، لائٹنگ اور صوتی دستکاری جیسی خدمات کی بہتر سہولیات اور مساجد کی تاریخی شناخت کے مطابق اس کی تیاری شامل ہیں۔

مسجد کا تزئین وآرائش سے پہلے اور بعد کے مناظر


پہلے مرحلے میں بحال کی گئی یہ تاریخی مساجد 1432سال سے 60سال تک پرانی ہیں جو کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں واقعہ ہیں، ان میں سے ایک وہ مسجد ہے جسے جلیل القدر صحابی رسول حضرت جریر بن عبداللہ البجلیٟرجی اللہ عنہٞ نے تعمیر کیا تھا، جس کا نام مسجد جرید البجلی ہے اور وہ طائف میں واقع ہے اور بعض مساجد تو علم ونور کامینار رہی ہیں جس میں مسجد الشیخ ابوبکر ہے جو 300سال پرانی ہے اور احسائ کے علاقے میں واقع ہے۔
رواں سال 1441ہجری کے ماہ جمادی الاول کے آغاز سے ہی مرمت کے پہلے مرحلے میں 30مساجد کو نمازیوں کےلئے کھولا گیا ہے ان میں سے بعض مساجد میں تو گزشتہ40سے 60سالوں تک نماز ہی ادا نہیں ہوئی تھی،مرمت کے بعد گویا 10اضلاع میں ہر ہفتے ایک نئی مسجد کا افتتاح عمل میں لایا گیا جس سے ان مساجد کو ایک تاریخی مذہبی علامت بنا کر انہیں دینی ورثہ، اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اور قدیم دیہاتی تہذیب کو محفوظ بنانے کے ایک نئے سلسلے کی ابتدائ ہے۔
شہزادہ محمد بنسلمان بن عبدالعزیز کی تاریخی مساجد کیلئے یہ معاونت جو کہ بلاشبہ تاریخی مساجد کی تعداد اور کل لاگت کے لحاظ سے بہت بڑی امداد سمجھی جاتی ہے، دین اسلام میں بہت بڑی عظمت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی فن تعمیر کی اہم خصوصیت کی حامل اور اسلامی مذہب میں ایک مستند تعمیراتی مقام کی حامل ہے۔
پہلے مرحلے میں جن مساجد کی بحالی اور آرائش ہوئی ہے ان میں مندرجہ ذیل مساجد شامل ہیں۔
مسجد الداخلہ سدیر ۔ ریاض، زرقا مسجد۔ ثرمدائ۔ ریاض۔ التمیم جامع مسجد۔ التمیم۔ ریاض، قصر الشریعہ مسجد الھاثم۔ ریاض اوردیگر شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں