10

ملک کو ون یونٹ کا خطرہ ہے نہ صدارتی نظام آرہا ہے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے اٹھائے گئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کو نہ کسی ون یونٹ کا خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی صدارتی نظام آرہا ہے۔

ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، جہاں مختلف معاملات پر حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہوئی۔

اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ دور حکومت میں آنا چاہیے تھا، اسد عمر کی جانب سے صوبائی حکومتوں سے متعدد مرتبہ درخواست کی گئی کہ رکن کی نامزدگی کریں تاکہ این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ مکمل ہوسکے، تاہم صوبائی حکومتوں نے ان نامزدگیوں میں تاخیر کی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بالخصوص سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کی ذمہ دار ہے، ریکارڈ پر موجود ہے کہ سندھ حکومت نامزدگیان کرنے میں ناکام رہی۔

این ایف سی ایوارڈ پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں اور وفاق میں ایوارڈ کی تقسیم آئینی ذمہ داری ہے جسے ہم 5 سالہ دور میں نبھانے کی کوشش کریں گے لیکن اس طرح پیسے کی بربادی نہیں کریں گے جیسے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج سندھ کی کیا حالت ہے، پورے سندھ میں ایڈز پھیل چکا ہے، سندھ کی بربادی ہوگئی ہے اس پر توجہ دیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت باتیں کی گئی کہ پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں جارہا ہے اور یہ ایسا ڈراؤنا خواب ہے جو ہمیں دکھایا جارہا ہے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان آئی ایم اے کے پاس کیوں گیا، جب ملک میں میکرو اکنامک عدم استحکام ہو تو حکومت کو آٗئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نئی حکومت کو آتے ہی بتایا جائے کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر غیرملکی زرمبادلہ صرف 6 ہفتوں کو رہ گیا ہے تو پھر خطرے کی گھنٹی بچتی ہے، جب یہ بتایا جائے کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد ہوگیا ہے تو خطرے کی گھنٹی ہے، جب یہ بتایا جائے کہ تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا ہے تو تشویش لاحق ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب حکومت آئی تو معاشی عدم استحکام تھا، بہت کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں، اس کے لیے دوست ممالک سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات سے مدد لی اور انہوں نے ہمیں سہارا دیا لیکن اس کے باوجود خلا بہت زیادہ تھا۔

شاہ محمود قریشی نے سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ 16 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں لیکن آج انہیں تشویش ہورہے ہے جبکہ جب یہ لوگ گئے تو معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں