0

منی لانڈرنگ کے جرمانے اور سزائیں بڑھانےکا فیصلہ

منی لانڈرنگ کے جرمانے اور سزائیں بڑھانےکا فیصلہ منی لانڈرنگ پر 10 سال قید اور 50 لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کا اعلان کیا گیا ہے . تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کے

جرمانے اور سزائیں بڑھانےکا فیصلہ منی لانڈرنگ پر 10 سال قید اور 50 لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کا اعلان کیا گیا ہے .

اس کے علاوہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی تیار کر لی ہے، پاکستان آج ایف اے ٹی ایف کے لیے اپنی رپورٹ آج ارسال کریگا. ذرائع کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں، پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں.

ذرائع کا مزید کہنا ہےکہ پاکستان نے منی لانڈرنگ روکنے کے لیے کافی پیش رفت کی ہے. یاد رہے کہ وزارت خزانہ نے فیٹف ایکشن پلان سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو فراہم کر دیا تھا. منگل کو سینیٹر فاروق نائیک کی زیر صدارت سنیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈی جی ایف آئی اے واحد ضیاء بھی شریک ہوئے تھے. کمیٹی

چیئر مین فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ وزارت خزانہ نے فیٹف ایکشن پلان کمیٹی کو فراہم کر دیا تھا . اجلاس کے دور ان ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ منصور صدیقی نے کمیٹی کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون پر بریفنگ دی اور کہا تھا کہ جرمانہ اور سزاؤں میں اضافہ کیا ہے. ڈی جی ایف ایم یو نے کہا تھا کہ ترامیم کے تحت جرمانہ 50 لاکھ اور سزا 10 سال قید تک دی جا سکتی ہے . سینیٹر عائشہ رضا فا روق نے کہا تھا

کہ سزائیں سخت کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہو جائیں گے . ڈی جی ایف ایم یو نے کہاکہ سزائیں سخت کرنے کیلئے بھارت سعودی عرب اور ملائیشیا کی سزاؤں کا جائزہ لیا ،تکنیکی طور پر سزا میں اضافہ قانون کی خلاف ورزی روکنے میں معاون ہوتا ہے . فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ فیٹف کی طرف سے سزا بڑھانے کیلئے نہیں کہا گیا انھوں نے فنانشل معلومات

کے تبادلے کو بہتر بنانے کی ہدایت کی .ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ اگر قید کی سزا تین سال سے کم ہو تو یہ قابل ضمانت ہوتا نا قابل ضمانت کیلئے اسکو دس سال کیا . چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ اہم چیز گورننس ہے صرف سزا سخت کرنے سے جرم ختم نہیں ہوتے ،پہلے ہی دس لاکھ روپے کی رقم پر ایک سے دس سال تک قید ہے . چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جرمانہ پچاس لاکھ روپے تک کر دیں تاہم سزا کی حد برقرار رکھتے ہیں .چیئر مین

کمیٹی نے کہا کہ اصل مسودہ قانون مجوزہ ترامیم سے بہت بہتر ہے . ڈی جی ایف ایم یو نے کہاکہ جائیداد کی ضبطگی کی مدت 3 ماہ سے بڑھا کر 6 ماہ تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے ،منی لانڈرنگ کی تحقیقات طویل مدت ہوتی ہیں . سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات مشکل ہوتی ہیں اس لیے مدت چھ ماہ تو کی جائے . سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہاکہ اگلی فیٹف مانیٹرنگ رپورٹ میں ہماری کارکردگی بہتر ہونا چاہیے .

ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ اگر منی لانڈرنگ کا کیس ثابت نہ ہو سکے تو غلط ذرائع سے حاصل آمدن میں سزا ہو سکے گی. ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ ایشیاء کے سات ممالک میں منی لانڈرنگ پر فوری گرفتاری کا قانون ہے . چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ اس ملک کی زمینی صورتحال ملائیشیا سے مختلف ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں