0

نئی دہلی میں مودی کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں بھاری شکست کا سامنا

نئی دہلی(ویب ڈیسک) انڈیا میں دارالحکومت نئی دہلی کی ریاستی اسمبلی کے لیے جمعہ کو ہونے والے انتخابات میں ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں بھاری شکست کا سامنا ہے۔ دارالحکومت کی حکومت کے لیے

ہونے والے انتخابات میں جمعہ کو ووٹ ڈالے گئے جن کے حتمی نتائج منگل کو سنائے جائیں گے، تاہم مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے انتخابی جائزوں کے مطابق عام آدمی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے۔اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے نئی دہلی کے گزشتہ انتخابات میں بھی زبرسدت کامیابی حاصل کی تھی اور 70 نسشتوں پر مشتمل اسمبلی میں اس نے 67 سیٹیں حاصل کی تھیں جبکہ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی صرف تین نشستیں حاصل کر پائی تھی۔انتخابی نتائج کے بارے میں نو مختلف اداروں کے جائزوں کے مطابق عام آدمی پارٹی کو ان انتخابات میں 52 سے 70 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔نئی دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا نے ایک ٹوئٹر پیغام میں دعوی کیا کہ ان کی جماعت بہت بھاری اکثریت سے جیت رہی ہے۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما اور وزیر داخلہ امت شاہ، جنہوں نے دہلی کے انتخابات میں اپنی جماعت کی طرف سے بھرپور انتخابی مہم

چلائی تھی، نے سنیچر کو رات گئے اپنی پارٹی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔دارالحکومت دہلی میں دن بھر پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کا تانتا بندھا رہا اور لوگوں نے ایک ایسے انتخابات میں جو ملک میں موجود انتہائی کشیدہ صورت حال میں کرائے گئے بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم مذہبی اور قوم پرستانہ نعروں اور بیانیے پر چلائی گئی جبکہ عام آدمی پارٹی نے انتخابی مہم میں شہریوں کے روز مرّہ کے مسائل پر زور دیا۔پولنگ سے ایک دن قبل بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ

شاہیں باغ میں جاری شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف جاری دھرنا ختم کرانا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو ووٹ دیں۔شاہیں باغ میں تقریباً گزشتہ دو ماہ سے خواتین نے، جن میں بڑی تعداد میں مسلمان خواتین شامل ہے، شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف دھرنا دیا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں