0

نواز شریف کے بعد ایک اور بڑے طاقتور ملک کا وزیراعظم بھی کرپشن کے الزام میں دھر لیا گیا

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو  پر کرپشن،  دھوکہ دہی اور  اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی فرد جرم عائد کردی گئی۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم پر رشوت اور دھوکہ دہی کے تین الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

نیتن یاہو پر ایک الزام یہ ہے کہ انہوں نے دولت مند تاجروں سے بطور رشوت تحائف لیے اور اس کے عوض انہیں فائدے پہنچائے۔

ان پر دوسرا الزام یہ ہے کہ انہوں نے ملک کے ایک بڑے اخبار کے ساتھ یہ خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کے حوالے سے مثبت رپورٹنگ کرے گا اور اس کے بدلے نیتن یاہو ایسے قوانین کی حمایت کریں گے جس سے اخبار کے حریف کمزور ہوجائیں۔

اس مقدمے میں اخبار کے پبلشر پر بھی رشوت کے الزام میں فرد جرم عائد ہوچکی ہے البتہ وہ بھی کسی قسم کی بدعنوانی سے انکار کررہا ہے۔

بن یامین نیتن یاہو پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے  میڈیا پر نگرانی کے حوالے سے لیے جانے والے ایسے فیصلوں کی حمایت کی جن سے ایک بڑی ٹیلی کمیونیکشن کمپنی کو فائدہ پہنچا اور بدلے میں اس کمپنی نے نیتن یاہو کے حوالے سے مثبت خبریں نشر کیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ہی انہیں قانون ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں