15

وزارت انسانی حقوق نے پی ٹی آئی رہنما کو ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا

لاہور: انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ سمیت 6 ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 اگست تک توسیع کردی۔

ساتھ ہی عدالت نے انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 سی کے تحت مقدمے کی تمام دستاویز پیش کرنے کا حکم دے دیا جبکہ رانا ثنا اللہ کا میڈیکل کروانے کی درخواست پر سپرنٹنڈنگ جیل سے 31 جولائی کو جواب طلب کرلیا۔

انسداد منشیات عدالت میں ڈیوٹی جج خالد بشیر نے رانا ثنااللہ کے کیس کی سماعت کی، اس دوران جیل حکام نے جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر لیگی رہنما کو پیش کیا، جہاں ان کی نمائندگی اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اور سید فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے آغاز پر عدالت کے جج نے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ رانا ثانا اللہ کہاں ہیں، جس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس پر جج نے ملزم کو روسٹرم پر بلایا۔

اس دوران رانا ثنااللہ کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، انہیں گھر سے ادویات منگوانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ تحریری درخواست دائر کریں اس پر اے این ایف اور جیل حکام کا جواب ریکارڈ پر آجائے گا۔

رانا ثنا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کی ادویات اور میڈیکل رپورٹس جو قبضے میں لیں ہی وہ انہیں نہیں دی گئی جبکہ عدالت میں ابھی چالان پیش نہیں ہوا لیکن اسے میڈیا پر پہلے چلوا دیا گیا، ملزم رانا ثناء اللہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سرکار ساری حدیں پار کر گئی ہے۔

اس پر عدالت نے اے این ایف پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ نے چھٹیوں میں چالان کیوں پیش کیا، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ اے این ایف جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقدمہ کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران لیگی رہنما کے وکیل کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی یا کسی بھی ہسپتال سے مکمل معائنہ کروایا جائے، جس پر عدالت نے رانا ثنااللہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا طبی معائنہ ہوا ہے، اس پر ملزم نے جواب دیا کہ جیل کے ہسپتال کی حالت انتہائی ناقص ہے، آپ خود جا کر حالت دیکھ سکتے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا اور کوئی سوال جواب نہیں کیا گیا جبکہ مجسٹریٹ کو کہہ دیا گیا کہ مقدمہ کی تفتیش مکمل کر لی گئی ہے، اگر عدلیہ اس طرح کی سیاسی انتقام کے خلاف اپنا کردار ادا نہیں کرے گی تو یہ ملک ایسے نہیں چلے گا۔

خیال رہے کہ اے این ایف نے رانا ثنااللہ سمیت تمام ملزمان کے خلاف چالان جمع کروا رکھا ہے، جس میں رانا ثنااللہ کی جانب سے اندرون و بیرون ملک منشیات اسمگل کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔

اے این ایف کے مطابق رانا ثنااللہ کو سکھیکی کے قریب روک کر 15 کلو ہیروئن برآمد کی گئی، رانا ثناءاللہ نے نیلا سوٹ کیس کھول کر ہیروئن کی موجودگی تسلیم کی جبکہ ان کے گارڈز نے اے این حکام سے ہاتھا پائی کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

انہوں نے بتایا کہ رانا ثنااللہ نے گزشتہ چند برس سے منشیات اسمگلنگ سے جڑے ہونے کا اقرار کیا جبکہ رانا ثنااللہ نے بتایا صوبائی وزیر قانون بننے کے بعد ان کے جرائم پیشہ افراد سے روابط بڑھے اور وہ فیصل آباد میں افغانوں سے منشیات لے کر بیرون ملک سپلائی کرتے تھے۔ اے این ایف کے مطابق رانا ثنااللہ نے بتایا کہ ان کی گاڑی کو چیک نہیں کیا جاتا تھا اس لیے وہ اپنی ذاتی گاڑی میں منشیات اسمگل کرتے تھے۔

دوسری جانب رانا ثنا اللہ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے این ایف نے جو چالان عدالت میں جمع کروایا ہے، اس میں وہ ویڈیو کہاں ہے؟؟ اس ویڈیو بارے میں شہریار آفریدی نے دعوی کیا تھا کہ منشیات برآمدگی کا ثبوت اس میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا اقرار جرم کا بیان بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے، اے این ایف کی کہانی مضحکہ خیز ہے، اس کیس کے مدعی میجر عزیز اللہ کی ہی میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھے می کوئی تصویر دکھا دیں یا برآمدگی کی کوئی ویڈیو دکھا دیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اے این ایف والے مجھے وہاں سے پکڑ کر تھانے لے گئے اور بیان ریکارڈ کرنا تو بہت دور کی بات ہے، انہوں نے مجھ سے ایک لفظ بھی گفتگو نہیں کی جبکہ اگلے دن عدالت میں کہا گیا کہ 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس کیس کے چالان میں کوئی آزاد عینی شاہد نہیں، اس چالان اور دھوکے کو ثابت کرنے کے لیے انہیں اپنی مرضی کا جج چاہیے، تاہم اس کے باوجود ہم سرخرو ہوں گے اور اللہ اس جھوٹ کو بے نقاب کرے گا۔

رانا ثنا کی گرفتاری

یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو اے این ایف نے پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد – لاہور موٹر وے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس گرفتاری کے بعد ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے بتایا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم اس گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے ہونے کا الزام لگایا تھا۔

بعد ازاں گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں بعد میں مزید توسیع کردی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں