7

وزیر اعظم نے پنجاب میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ بلوچستان کے بعد پنجاب میں بھی نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس سلسلے میں رینالہ خورد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں وزیر اعظم کے علاوہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانے ہیں، گھروں کی تعمیر ایک مشکل منصوبہ ہے اگر یہ منصوبہ مشکل نہ ہوتا تو گزشتہ حکومتیں اس پر عمل کرچکی ہوتیں، یہ مشکل کام ہماری حکومت کرے گی آسان کام گزشتہ حکومتیں کرچکیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اچھے معاشرے کمزور طبقے کی فکر اور احساس کرتے ہیں، ہاؤسنگ پالیسی پر کامیاب عمل درآمد وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کا مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں احساس نہ ہو وہ معاشرہ کبھی آگے نہیں بڑھتا، آج مغربی معاشرے میں جو چیز ہمیں نظر آئے گی وہ احساس ہے، وہ کمزور طبقے کی فکر کرتا ہے کیونکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کمزور طبقے کا احساس کرے۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ماڈل دیا اس میں احساس تھا، مدینہ کی ریاست میں پیسہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب ریاست میں احساس ہو تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سویڈن، ناروے اور ڈنمارک کا نظام دیکھیں تو نظر آئے گا کہ انہوں نے وہ نظام اپنایا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنایا تھا، یہ انسانیت کا نظام ہمارا نظام تھا جو آج اُدھر چلا گیا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اللہ اس معاشرے کو عزت دیتا ہے جو اللہ کے حبیب اور اس کی مثال پر چلتے ہیں، ہمارا ملک ایک بہت بڑے خواب کا نام تھا، ہم نے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر ہی اسے کھڑا کرنا تھا اور ہماری یہی کوشش ہے کہ پاکستان کے مشکل ترین معاشی حالات میں اس طبقے کے لیے 50 لاکھ گھر بنائیں جو اپنا گھر نہیں بناسکتا، اس سب کے لیے ہم بینکوں کو راضی کریں گے، قانون بدلیں گے۔

ہاؤسنگ منصوبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ اسکیم پنجاب کے ساتھ پورے ملک میں شروع کررہے ہیں، پہلے ہم نے قانون بنانے تھے تاکہ بینک گھروں کے لیے قرض دے سکیں، یہ 50 لاکھ گھر نجی سیکٹر بنائے گا اس میں حکومتی شعبے کا کام صرف مدد کرنا ہے، اس سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور 40 صنعتیں آگے بڑھیں گی جس سے ملک میں خوشحالی آئے گی۔

کچی آبادیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگ بہت برے حالات میں کچی آبادی میں رہتے ہیں، تاہم اس کے لیے بھی پروگرام لارہے ہیں اور وہاں بہترین فلیٹس بنائیں گے تاکہ انہیں بنیادی سہولت میسر ہوں اور اس کے لیے ہم چین کی نئی تکنیکی مہارت سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ منصوبے میں بیرون ملک کے بہت زیادہ سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے وہ دیکھیں گے کہ ہر سال اس منصوبے میں تیزی آئے گی اور ان لوگوں کو موقع ملے گا جو کبھی اپنا گھر بنانے کا سوچ نہیں سکتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں