8

کابینہ ارکان کے درمیان کوئی لڑائی نہیں، محمود خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کا کہنا ہے کہ کابینہ ارکان کے درمیان کوئی لڑائی نہیں، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر عاطف خان کہتے ہیں کہ صوبے میں کرپشن اور اقربا پروری چل رہی ہے ، وزیراعظم عمران خان واپس آئیں تو

ان سے ان مسائل پر بات کریں گے ۔محمود خان نے کہا کہ دو تین وزرا اس سازش کے پیچھے ہیں کیونکہ میں نے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کو صوبائی کابینہ میں شامل نہیں کیا ۔صوبے میں کرپشن اور کمیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو وہ سامنے لائے ، وزرا اور بیوروکریٹس کے خلاف کارروائی کروں گا، میں بااختیار ہوں کوئی میری حکومت میں مداخلت نہیں کررہا، میرا پرنسپل سیکرٹری میرے احکامات متعلقہ افسروں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان نے مجھے وزیراعلیٰ نامز د کیا اور کسی کو بھی کابینہ میں شامل کرنے یا ہٹانے کا مجھے مکمل اختیار حاصل ہے ۔کوئی استعفیٰ دینا چاہتا ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ، جو وزرا الزامات لگا رہے ہیں انکی اپنی کارکردگی مایوس کن ہے ، میں انھیں ہٹانے کا سوچ رہا ہوں، مجھے عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے

اس لئے میں اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوں۔محمود خان سے جب پوچھا گیا کہ نااہل وزرا کو ہٹانے کی بجائے انکی وزارتیں کیوں تبدیل کی گئیں تو انہوں نے کہا کہ ان وزرا کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں بصورت دیگر انھیں وزارتوں سے ہٹا دیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مخصوص میڈیا گروپ پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں پھیلاتا ہے ،تحریک انصاف میں کوئی گروپ نہیں ہے ،کابینہ میں کوئی اختلاف والی بات نہیں ہے ۔خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کی ناقص کارکردگی پر تحریک انصاف کے ناراض گروپ کے سلسلے میں

میڈیا پر چلنے والی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا وزیراعلیٰ محمود خان کو وزیراعظم عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں