7

کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی، اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی عمران خان نے کی ہو گی میں نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی نہیں کی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آج تک آئی ایم ایف سے قرض کے 18 معاہدے کیے ہیں جن میں سے 7 فوجی حکومتوں کے دور میں ہوئے اور باقی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ 2 ارب ڈالر جا رہا ہے اور ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں، ستمبر 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 40کروڑ ڈالر پر آگئے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا اور ایران پر پابندیاں درآمدات میں اضافے کا باعث بنیں، ایسی صورت حال میں کسی نہ کسی سے بیل آوٹ ناگزیر تھا۔

پاکستان نے مالی مدد کی باضابطہ درخواست کردی، آئی ایم ایف

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ حکومت بھی آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج کے لیے مذاکرات کرنے گئی تھی، ہم نے آئی ایم ایف سے بات چیت میں تاخیر نہیں کی، اس معاملے پر سب سے مشاورت کرنی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذمے 95 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض ہے، ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر گزارا ہو جائے مگر مشکل زیادہ ہو گی۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسد عرم کا کہنا تھا کہ امریکی بیان بالکل غلط ہے کہ سی پیک قرضوں کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نےسی پیک سمیت پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف جانے کے اعلان کے ساتھ ہی اسٹاک مارکیٹ اگلے روز 600 پوائنٹس بڑھی۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے قرضوں کے حوالے سے سخت شرائط سے متعلق بیان پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کیا کہا ہے لیکن ہم پر چین اور سعودی عرب سمیت کسی نے قرض کے لیے سخت شرائط نہیں رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے تاخیری ادائیگوں پر تیل فراہم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کہا کہ غریب ترین افراد کے لیے سبسڈی ضروری ہے، ہم نے اپنی برآمدات بڑھانی ہیں ورنہ قرض کے دلدل سے باہر نہیں آ سکتے، آئی ایم ایف کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے فریم ورک معاہدہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرنسی شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا اسٹیٹ بینک کا کام ہے وزارت خزانہ کا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں