0

کٹھ پتلی، رن مرید، گھر جوائی ؟

کٹھ پتلی، رن مرید، گھر جوائی ؟
ایٹمی اثاثے رکھنے والے ملک کا وزیر اعظم ایک مریض کی رپورٹ تو صحیح لے نہ سکے اسے ملک کی رپورٹ درست کیسے ملتی ہو گی
کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے مارچ سے دھیان فارن فنڈنگ کیس سے الیکشن کمیشن تقرری سے پھر اللہ اس قوم کو کوئی اور خبر دے گا
نواز شریف الیکشن کی رات رزلٹ آتے وقت جو کچھ مانگتا ہے عمران وہ کچھ ایک ماہ قبل کہ سو سے کم سیٹیں ہوئی تواپوزیشن میں بیٹھوں گا
ایک شوہر نامدار کو کسی نے سوال کیا تھا کہ آپ بیگم کے اتنے تھلے کیوں لگے ہوئے ہیں وہ کہتا ہے کہ مجھے اوپر ٹھنڈ لگتی ہے،ایک وقت تھا کہ جو رن مرید ہوتا تھا اسے معاشرے میں انتہائی بری نظر سے دیکھا جاتا تھا پھر پڑھے لکھے لوگوں نے اسکا نام کمپرومائز رکھ لیاجس کے بعد سے بڑے شہروں میں خاص طور پر اسی کمپرومائز کے ساتھ ہی اکثریت پائی جاتی ہے بلکہ اب تو جب تک بیگم نہ کہہ دے کوئی یقین بھی نہیں کرتا کہ وہ ملک کا بڑا آدمی بھی بن چکا ہے کہ نہیں بلکہ اب تو سنا گیا ہے کہ ملک کی اہم ترین سیٹیں بھی نہ صرف بیگم کے صلاح مشورہ سے پر کی جاتی ہیں بلکہ اب تو بیگم کے پیر بھائی کو آب پارہ مارکیٹ کا صدر بنا دیا جاتا ہے اور مرکزی انجمن تاجراں کے صدر کے کہنے کے باوجودوہ اسے بیگم کی وجہ سے ہٹا نہیں پا رہے کہتے ہیں کہ یہ ہی وجہ ہے کہ اب پنڈی اور آب پارہ کی تاجر یونین کے درمیان ر سہ کشی ہے کیونکہ پنڈی تاجریونین کے صدر جو پورے ملک کے تاجر رہنماوں کے لیڈر ہیں وہ باقی تو پورے پاکستان کی تاجر یونینوں کو ہٹا سکتے ہیں لیکن آئینی طو رپر پنڈی والے آب پارہ یونین کے صدر کو نہیں ہٹا سکتے یہ ہی تو وجہ ہے کہا مولانا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لاک ڈاون کا اعلان کرنے سے پہلے انہوں نے اسی یونین کے صدر سے ملاقات کی تھی جس پر ایک مکمل رپورٹ بھی پیش کی گئی تھی لیکن ابھی تک وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔۔
ویسے دیکھا جائے تو کشمیر شاہراہ کے ٹھیکے کا معاملہ ہو یا ایک مریض کو باہر بجھوانے کا فیصلہ مرکزی انجمن تاجراں کے صدر خود سے فیصلہ کر لیتے ہیں لیکن کہتے ہیں چھوڑو رن مرید سے کیا بات کرنی ہے پھر رن مرید ساری ٹیم کے ہمراہ سب چیختے رہے لیکن کشمیر بھی ہضم ہو گیا اور مشہور تقریر کے بعد عالمی لیڈر بننے والی باتیں بھی دب جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی عوام کی نظروں سے کشمیر کا مسئلہ اوجھل ہو ا تو دھرنہ مشہور ہو گیا اور پھر دھرنہ کی خفت مٹانے کے لئے مریض اور اسکی رپورٹس کو شہرت مل گئی تو رپورٹون سے توجہ ہٹانے کے لئے اس قوم کو فارن فنڈنگ کیس اور الیکشن کمیشن کے ٹرک کی بتی پیچھے لگا دیا ہو گا اور اب اللہ نے ایک اور موقع دے دیا ہے تو مریض سے توجہ ہٹانے کے لئے ناروے والا مسئلہ ہائی لایٹ کیا جاے گا اور پھر جنہوں نے کشمیر کی بات کرنی تھی وہ اب ناروے پر بات کرینگے اور جب تک جذباتی قوم ناروے کیخلاف نعرے لگا رہی ہو گی اتنے میں انتیس نومبر آ جاے گا پھر اسوقت تک اس قوم کو کشمیر ،دھرنا، مریض ٹماٹر، سبزیوںکے ریٹ بھول چکے ہونگے اور قوم پھر گیس کی قلت کی طرف دھیان دے رہی ہو گی تو پھر اتنے میں کوئی اور معاملہ سامنے آ چکا ہو گا ایسے میں ہی جنوری آ جاے گا اور پھر جنوری کی سردی میں کوئی اور گرم خبر مل جاے گی ایسے میں پھر قوم رن مرید کو مظلوم قرار دے گی اور پھر اسی طرح کی ایک لٹکی ہوئی جمہوریت سامنے آیگی پھر شاید سب کو علم ہو جاے کہ دال اب بوٹوں میں کھانی ہے یا جوتوں میں کیونکہ جب تک باریاں لینے والے ملک میں جمہوریت کے لئے دال جوتوں میں کھانے کا نہیں سوچیں گے بوٹ پالش بھی کرتے رہینگے اور انہی بوٹوں میں ملنے والی دال ہی کھاتے رہینگے
سوچنے کی بات ہے کہ نواز شریف نے جس خواہش کا اظہار وننگ تقریر میں کیا وہی بات عمران خان نے ایک ماہ قبل کر دی کہ ایک نے کہا کہ میں بغیر بیساکھیوں کے حکومت بنانا چاہتا ہوں جبکہ عمران خان نے ایک ماہ قبل ہی کہہ دیا تھا کہ اگر سو سے کم سیٹیں ملیں تو وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے پتہ نہیں دونوں کس سے مخاطب تھے لیکن دونوں مرتبہ الیکشن کے اعلان کے وقت جہاں رزلٹ رکے تھے لیکن ایک بات طے ہے کہ چاہے رزلٹ رکے یا آر ٹی ایس سسٹم بیٹھے نقصان دونوں مرتبہ کپتان کا ہی ہوا ایک مرتبہ بغیر بیساکھیوں کی حکومت بنانے کے لئے اور دوسری مرتبہ بیساکھیوں والی حکومت بنانے کے لئے ۔۔۔۔سمجھ تو گئے ہونگے ایک مرتبہ میٹھا کم ہو گیا تھا دوسری مرتبہ میٹھا زیادہ ہو گیا تھا
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں