9

کیا آپ جانتے ہیں ہمارے جسم کے اندر ایک پورا چڑیا گھر آباد ہے؟

ہر انسانی جسم میں اربوں کھربوں ایسے جاندار بھی رہتے ہیں، جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ جلد پر بھی اور جسم کے اندر بھی۔ ان کا مجموعی وزن تقریبأ دو کلوگرام تک ہوتا ہے اور ماہرین انہیں ‘بیکٹیریا کا چڑیا گھر بھی کہتے ہیں۔ صرف انسانی منہ میں ہی 600 مختلف اقسام کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ مائیکروبز صرف منہ میں ہی نہیں بلکہ خوراک کی نالی اور معدے میں بھی ہوتے ہیں۔

انسانی جسم سے پیچیدہ فیکٹری کوئی نہیں

ان کی سب سے زیادہ تعداد آنتوں میں پائی جاتی ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا مل کر کیسے اور کیا کام کرتے ہیں، اس بارے میں بہت تحقیق ہو چکی ہے لیکن ابھی مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ حیران کن بات تو یہ بھی ہے کہ ان مائیکروبیئل جانداروں کی نصف سے زائد اقسام تو انسانی جسم سے باہر نشو ونما بھی نہیں پا سکتیں۔تقریباً دس سال پہلے مائیکرو بیالوجی کے ماہرین نے ان جانداروں کے مطالعے کی ایک نئی اور زیادہ موثر تکنیک دریافت کی تھی، جسے انسانی جسم میں بیکٹیریا کے چڑیا گھر کو سمجھنے کی کوشش کا نام دیا گیا تھا۔ انسانی جسم میں ایسے بیکٹیریا کی مختلف اقسام کا تناسب ہی یہ طے کرتا ہے کہ مثلأ کسی انسان کا جسمانی وزن کتنا ہو گا۔ یہ بات بھی یہی بیکٹیریا طے کرتے ہیں کہ ہم جو خوراک کھاتے ہیں، اس سے جسم کو کتنی توانائی ملے گی۔
جسم بھی تو ایک بڑے شہر جیسا ہے

صحت بخش خوراک سے آنتوں کے یہ بیکٹیریا بھی صحت مند رہتے ہیں اور غیر صحت بخش یا فاسٹ فوڈ کھانے سے وہ کمزور پڑ جاتے ہیں، جس کا جسم کے لیے نتیجہ بہت برا نکلتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ ہمارا جسم ایک پورا شہر ہے اور آنتیں وہ مرکز، جہاں سے اہم ترین خدمات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جیسے کسی شہر میں پولیس اہلکار جرائم کی روک تھام کرتے ہیں، ویسے ہی انسانی نظام ہضم میں یہ اربوں کھربوں بیکٹیریا ان مائیکروبز کو قابو میں رکھتے ہیں، جو ہمیں بیمار کر سکتے ہیں۔ انسانی جسم کو یہی بیکٹیریا وہ مادے بھی مہیا کرتے ہیں، جو صحت کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ مثلا وٹامن بی، وٹامن کے اور کئی طرح کے فَیٹی ایسڈز بھی۔ آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا جسمانی کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کام بھی کرتے ہیں اور خوراک کے ناقابل ہضم اجزائ سے توانائی بھی پیدا کرتے ہیں۔

بیکٹیریا کی خوشی، آپ کی خوشی

جذباتی طور پر ہمارے لیے یہی بیکٹیریا اس لیے بھی انتہائی ضروری ہیں کہ وہ خوشی کے احساس کا سبب بننے والے ڈوپامِین اور سِیرَوٹونِن جیسے ہارمون بھی پیدا کرتے ہیں، جو دوران خون کے نظام کے ذریعے جب دماغ میں پہنچتے ہیں، تو انسان خوشی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ طبی سائنسی حقائق ان بہت سی وجوہات میں شامل ہیں کہ ہم میں سے ہر انسان کو اپنے اندر کے انتہائی ننھے منے جانداروں پر مشتمل چڑیا گھر کی حفاظت کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں