0

ہسپتال پرحملہ کرنیوالے وکیلوں کا شہبازشریف اور مریم سے کیا تعلق نکل آیا؟ خفیہ رپورٹ نے تہلکہ مچادیا

سلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سی سی پی او لاہورذوالفقار حمید شہبازشریف کے قریبی افسر تھے، صوبائی وزراء کے کہنے پر بھی پولیس نے ایکشن نہیں لیا،ڈاکٹرز اور وکلاء میں ن لیگ کے لوگ نے انتشار پھیلایا، کچھ لوگ سانحہ ماڈل ٹاوٴن کی طرز پرواقعہ کرنا چاہتے تھے،سمیع ابراہیم ۔سینئر تجزیہ کار سمیع ابراہیم نے پی آئی سی واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے

کہا ہے کہ پی آئی سی پر حملے کی تیار ی کئی دنوں سے جاری تھی، سپیشل پرانچ کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں بھی کئی رو زقبل حملے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب انسٹی ٹیوٹ آ ف کارڈیالوجی پر حملے سے نمٹنے کیلئے کوئی پلان نہ کیا گیا۔پی آئی سی حملے میں پیش پیش وکلاء کا نہ صرف ن لیگ بلکہ مریم نواز اور شہبازشریف سے گہرا تعلق ہے۔ سمیع ابراہیم نے کہا نہ صرف وکلاء بلکہ ڈاکٹرز میں بھی مسلم لیگ ن کے لوگ شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد سے جن لوگوں نے بات کرنے سے انکار کیا ان میں بھی ن لیگ کے لوگ شامل تھے۔ سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کے انتہائی قریبی افسر ذوالفقار حمید کو سی سی پی او تعینات کیا گیا ۔
سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ صوبائی وزرا یاسمین راشد اور فیاض الحسن کیلئے ناروا سلوک پر

پولیس خاموش ر ہی تاہم جب ان وکلاء نے جب کچھ پولیس افسروں کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کی تو، پولیس نے تب جا کر ان سے سختی سے نمٹا گیا ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ کچھ لوگ ماڈل ٹاون کی طرز پر واقعہ کرنا چاہتے تھے۔ حملے کے بعد سینئر وکلاء شرمندا ہیں اورحملہ کرنے والے وکلاء کو کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا غریبوں پر حملے میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یاد رہے گزشتہ روز پنجاب اسٹیٹوٹ آف کارڈ یا لو جی میں و کلا ء کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی تھی ۔ کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے گئے تھے، اور پولیس کی موبائل کو جلا دیا گیا تھا۔ صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ پی آئی سی میں اب تک 6 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ جب کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی آئی سی میں 12 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پرکو تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں وکلاء جشن مناتے رہے۔وکلاء اسپتال پر حملہ کرنے کے بعد جشن مناتے رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں