0

’’ 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ میں موجود صحافی نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 27 دسمبر 2007 ء کو لیاقت باغ میں موجود صحافی شکیل قرار نے آںکھوں دیکھا حال بتا دیا۔تفصیلات کے مطابق پی پی کی شہید چئیرمین پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی آج 12ویں

برسی منائی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت موقع پر موجود صحافی شکیل قرار کااردو نیوز کے صحافی خرم شہزاد سے گفتگو کرتے ہوئے اس سانحہ سے متعلق بتانا ہے کہ میں لیاقت آباد باغ میں موجود تھا اور

اپنے ٹی وی چینل کو آڈیو بیپر دے رہا تھا۔چونکہ بات کرتے ہوئے سانس پھول جاتا ہے تو میں کچھ دیر کے لیے کھڑ ہو گیا اچانک دو فائر ہوئے اور اس کے بعد ایک دھماکہ ہوا۔دھماکے کی شدت سے میں بھی ہل گیا جس کے بعد میں نے جنگلے کو پکڑ لیا۔جب میں نے مڑ کر دیکھا تو دھواں پھیلا ہوا تھا اور خون اور بارود کی بو پھیلی ہوتی۔میں بھی چند لمحات کے لیے اپنے ہوش کھو بیٹھا کیونکہ میری زندگی کا اس طرح کا یہ پہلا واقعہ تھا۔میں

نے دیکھا کہ پولیس والے بھاگ رہے تھے،عجیب سی صورتحال تھی،کسی کا سر پڑا ہوتا تھا تو کسی کے جسم کا کوئی اور حصہ۔اس کے بعد میں چند لمحوں کے لیے اپنے حواس میں نہیں رہا۔صحافی شکیل قرار کا اس سانحے سے متعلق مزید کہنا ہے

کہ جب میں گاڑی کی حالت دیکھی تو مجھے یقین ہو گیا کہ شاید بی بی ہمارے درمیان نہیں رہی۔جب میں آڈیو بیپر دے رہا تھا تو میرے منہ سے نکلا”او دھماکہ۔۔۔ بی بی”۔شکیل قرار کا مزید کہنا ہے کہ ایک

ماہ تک میرے اندر بارود اور خون کی بو رہی۔میں ایک ماہ تک محسوس کرتا رہا کہ میرے اندر سے بارود اور خون کی بو آ رہی ہے۔شکیل قرار کا کہنا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے ابھی بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں