5

اپوزیشن جماعتوں کو بھارتی جارحیت پر ان کیمرا بریفنگ

اپوزیشن جماعتوں کو بھارتی جارحیت پر ان کیمرا بریفنگ

اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو مشرقی سرحد میں بھارت کی جانب سے ہونے والی جارحیت پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کیمرا بریفنگ دی گئی جہاں سول اور عسکری قیادت نے صورت حال سے آگاہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو عسکری حوالے سے آگاہ کیا۔

پارلیمنٹ ہاوس میں دی گئی ان کیمرا بریفنگ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اس قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سے قبل سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 28 فروری کو سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اطلاعات کے مطابق پارلیمانی رہنماؤں کو بھارتی دراندازی کے معاملے اور تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دی جس میں دوست ممالک کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے حوالے سے معلومات بھی شامل تھیں۔

ان کیمرا بریفنگ کے شرکا کو پاکستان کی حکمت عملی پر اعتماد میں لیا گیا اور انہیں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

شرکا کو اعتماد میں لیا گیا، وزیرخارجہ
شاہ محمود قریشی نے ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی قیادت کو بریفنگ دی گئی، شرکا کو سفارتی سطح پر اٹھائے گئے اقدمات اور بھارتی جارحیت پر پاکستانی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور جارحیت کے خلاف کیے گئے اقدامات پر شرکا کو اعتماد میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے پارلیمانی رہنماوں کو موجودہ صورت حال کی مکمل تصویر بیان کی اور کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے افواج کی تیاریوں پر بھی بریف کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ اجلاس میں مکمل اتفاق رائے پر خوشی ہے کیونکہ سب نے یک جہتی کا اظہار کیا اور پاکستان کے مکمل دفاع اور مفادات کے تحفظ کا اعادہ کیا ہے۔

دوست ممالک سے رابطوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ سے دوبارہ رابطہ ہوا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو موجودہ صورت حال پر اعتماد میں لیا گیا جبکہ چین نے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون اور یک جہتی کا اظہار کیا ہے،

ان کا کہنا تھا کہ چین اس معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بریفنگ کے دوران سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے بھی رابطہ ہوا تھا اور انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد خطے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں جس پر پاکستان نے سعودی ولی عہد کے کردار پر خوش آمدید کہا ہے۔

حکومت کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاریں، وزیر تعلیم شفقت محمود اور دیگر شامل ہوئے۔

عسکری قیادت کی بریفنگ سے سب مطمئن، وزیردفاع
وزیر دفاع پرویز خٹک نے ان کیمرا بریفنگ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کو آج کی بریفنگ بہت ضروری تھی کیونکہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکری قیادت کی بریفنگ سے سب مطمئن تھے۔

وزیراعظم عمران خان کی عدم موجودگی پر انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر اعظم کی شرکت کا پروگرام تھا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دراندازی کے بعد بھارت کو جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، آصف غفور

وزیردفاع نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی جبکہ وزیر اعظم نے پہلے سے کہا تھا کہ اس کا جواب دیں گے اور آج بھارت کے دو طیارے مار گرائے گئے لیکن ہم اب بھی کہتے ہیں ہم امن چاہتے ہیں، خطے میں زبردستی جنگ نہ پھیلائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے پر آو آئی سی سے احتجاج کیا گیا ہے، ایسی صورت حال نہیں لگتی کہ ہمارے وزیر خارجہ او آئی سی اجلاس میں شرکت کریں گے لیکن ہمارے کوشش ہے حالات کو معمول پر لایا جائے۔

پاک فضائیہ نے شان دار کارروائی کی، شہباز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر سردار ایاز صادق، سابق وزیردفاع خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثنااللہ، مریم اورنگ زیب، راجا ظفرالحق اور مشاہد اللہ خان شریک تھے۔

قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نے بہت شاندار کارروائی کی ہے اور پوری قوم کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کی صلاحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس لیے بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے، افواج پاکستان ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کا نہ آنا قابل افسوس ہے، خورشید شاہ
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید خورشید شاہ نے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ ان کیمرا اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا نہ آنا قابل افسوس ہے، وزیراعظم کی غیر موجودگی صرف ہم نے نہیں سب نے محسوس کی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سارے پارلیمانی رہنما شریک تھے اس لیے وزیراعظم کو بھی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت نہ کر کے موقع ضائع کیا لیکن ہم سب کی کوشش ہے کہ جنگ نہ ہو اور مذاکرات سے مسئلہ حل ہو۔

ان کیمرا اجلاس میں پی پی پی کے سینئر رہنما خورشید شاہ، راجا پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمٰن، سلیم مانڈوی والا اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی ان کیمرا بریفنگ میں موجود تھے۔

متحدہ مجلس عمل کا وفد بھی اجلاس میں شریک تھا جس میں پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود، مولانا واسع، مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا عطاالرحمٰن شامل تھے۔

حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امین الحق اور سینیٹر سیف، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے حسن بلوچ، بلوچستان عوامی پارٹی کے انوارالحق کاکڑ اور خالد مگسی، مسلم لیگ (قائد اعظم) کے طارق بشیر چیمہ بھی ان کیمرا اجلاس میں شریک ہوئے۔

قوم یک زبان ہے، اسپیکر
ان کیمرا اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاوس میں اسپیکر چیمبر میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہماری پوری قوم یک زبان ہے اور تمام سیاسی جماعتیں بھی قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ساتھ کھڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں میں مکمل ہم آ آہنگی ہے اورپوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان سے بھی بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا گیا ہے۔

پی پی پی رہنما خورشیدشاہ نے کہا کہ پاک فضائیہ نے اپنے تحفظ اور دفاع میں حملہ کیا تھا اور یہ فوج کی جانب سے جارحیت روکنے کی بھر پور کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قوم کی پوری قیادت ملکی سالمیت کے لیے ایک پیچ پر ہے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں