6

ہندو برادری سے متعلق متنازع بیان پر صوبائی وزیر اطلاعات مستعفی

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ’ہندو برادری سے متعلق متنازع بیان پر‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ کے ترجمان شہباز گل نے تصدیق کی کہ پارٹی قیادت نے فیاض الحسن چوہان کے بیان کا سخت نوٹس لیا اور عثمان بزدار نے فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے سابق وزیرکے بیان پر ہندوبرادری سے معذرت خواہ ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز فیاض الحسن نے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کے جواب میں انہوں نے سخت الفاظ میں بھارتیوں کے بجائے ہندوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کے بیان کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

بعدازاں قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن ڈاکٹر درشن اور کھئیل داس کوہستانی نے فیاض الحسن چوہان کے خلاف قرارداد میں وزارت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔

قرارداد میں صوبائی وزیر اطلاعات کے بیان کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ فیاض الحسن چوہان اپنے الفاظ پر پاکستانی ہندوؤں سےمعافی مانگیں‘۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ ’فیاض الحسن چوہان نے 50لاکھ محب وطن ہندو برادری کی دل آزاری کی۔

دفتر خارجہ کی وضاحت
فیاض الحسن چوہان پر نہ صرف خود اپنی ہی جماعت ‘پی ٹی آئی’ کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی اپنے ایک پیغام میں ان کے بیان کی نفی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان فخریہ طور پر اپنے پرچم میں موجود سفید حصے کو اسی طرح اپناتا ہے جس طرح سبز حصے کو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی ہندو برادری کی خدمات کی قدر کرتے ہیں اور انہیں اپنا سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کا ردعمل
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا ان توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتی ہے، ٹوئٹ میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ’آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات اور نسل سے ہو، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں