5

افغان پناہ گزین ہیرو نے دہشت گرد کو نیوزی لینڈ کی مسجد سے بھگایا

افغان پناہ گزین عبدالعزیز نے جب کرائسٹ چرچ میں مسجد کے باہر ایک شخص کو اسلحہ بردار دیکھا تو وہ کریڈٹ کارڈ مشین، جو انہیں ہتھیار کے طور پر فوری قریب ہی پڑی ہوئی ملی، اسے ہاتھ میں اٹھاکر وہ دہشت گرد کی طرف بھاگے۔

جمعہ کے روز لِن ووڈ مسجد، دہشت گردی کا نشانہ بننے والی دوسری مسجد ہے جہاں 7 افراد شہید ہوئے۔

حملہ اس وقت ہوا جب مسجد میں نمازی حالت رکوع میں تھے۔

تاہم جاں بحق افراد کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہوتا اگر عبد العزیز دلیری کا مظاہرہ نہ کرتے۔

عبدالعزیز کی دہشت گرد کا دھیان بٹانے اور اس کو شکنجے میں کرنے کی کوشش کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عبدالعزیز نے خود کے لیے ہیرو کا لقب استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پاس سوچنے کا زیادہ وقت نہیں ہوتا، جو بھی آپ سوچتے ہیں آپ کردیتے ہیں‘۔

عبدالعزیز اور ان کے 4 بیٹے مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے عمارت کے باہر فائرنگ کی آواز سنی۔

ابتدائی طور پر تو سب کو لگا کہ پٹاخے پھٹ رہے ہیں تاہم عبدالعزیز کو تشویش ہوئی اور وہ مسجد سے باہر بھاگے اور قریب ہی رکھی کریڈٹ کارڈ کی ڈیوائس اٹھائی۔

وہ ایک فوجی حلیے میں مسلح دہشت گرد کو دیکھ کر حیران ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ مسلح آدمی کون ہے لیکن جب اس نے گالم گلوچ کی تو مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ اچھا آدمی نہیں ہے‘۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ انہوں نے کریڈٹ کارڈ مشین کو دہشت گرد کی طرف زور سے پھینکا اور گاڑیوں کے پیچھے چھپ گئے، کیونکہ دہشت گرد نے ان پر گولیاں چلانا شروع کردی تھیں۔

بعد ازاں عبدالعزیز کو اپنے ایک بیٹے کی آواز آئی ’ابو واپس اندر آجائیں‘۔

عبدالعزیز جو دہشت گرد کی گولیوں سے محفوظ رہے تھے نے دہشت گرد کی ہی پھینکی ہوئی ایک رائفل اٹھائی اور اس کی طرف بہادری سے منہ کرکے اسے زور سے کہا’ادھر آؤ‘، اور اسی طرح دہشت گرد کو بار بار اپنی طرف پکارا تاکہ اس کا دھیان ان کے بچوں کی طرف سے ہٹ جائے۔

افغان پناہ گزین نے بتایا کہ ’جب دہشت گرد نے میرے ہاتھ میں بندوق دیکھی تو پتہ نہیں اسے کیا ہوا اور اس نے اپنی بندوق پھینکی اور بھاگا جس پر میں نے اپنی بندوق سمیت اس کا پیچھا کرنے کی بھی کوشش کی اور اس کی گاڑی پر بھی بندوق ماری جس سے اس کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا، مجھے وہ خوفزدہ لگا‘۔

عبدالعزیز نے دہشت گرد کا پیچھا کیا تاہم وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگیا۔

48 سالہ افغان پناہ گزین جب واپس مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے خونریزی کے مناظر دیکھے۔

عبدالعزیز جنہوں نے پناہ گزین کے طور پر ہجرت کی تھی، اس سے قبل وہ 3 دہائی تک سڈنی میں قیام پذیر رہے جس کے بعد چند سال قبل ہی وہ کرائسٹ چرچ منتقل ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے دل میں دہشت گرد کے خلاف صرف نفرت ہی ہے۔

عبدالعزیز نے کہا کہ ’کئی لوگ اس حملہ آور کو ’گن مین‘ کہتے ہیں مگر ایک انسان کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتا، وہ انسان نہیں وہ بزدل ہے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں