126

لاہور ہائیکورٹ پھر سامنے آگیا، ہسپتال پر حملہ کرنیوالے وکلاء آج ہی رہا ہونے والے ہیں؟ بڑی خبر

وکلائ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گرفتار وکلائ کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کردیا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وکلائ رہائی کیلئے آج ہی ہائیکورٹ میں درخواست دائرکرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر آج ہی سماعت ہونے کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران نے ملاقات کی جس میں گزشتہ روز کے واقعے اور قانون کی بالادستی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وکلائ رہائی کے لئے آج ہی ہائیکورٹ میں درخواست دائرکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد آج ہی سماعت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے سی سی پو اولاہور ذوالفقارحمید نے کہا ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بولنے والے وکلائ کیخلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے کہا کہ پولیس نے متعدد وکلائ کو گرفتار کیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ذرائع سے فوٹیجز حاصل کی گئی ہیں جن سے ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ہنگامہ آرائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں، واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی پر کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ذولفقارحمید نے واقعہ کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ایک رات قبل کو ڈاکٹرز اور وکلا کی آپس میں بات ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ معذرت کریں گے اور وکلا نے بھی رضا مندی کا اظہا کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وکلا کی جانب سے ہنگامہ آرائی پہلے سے طے پلان کا حصہ نہیں تھا اچانک سب کچھ ہوا۔ پولیس معاملہ سنبھالنے کے لیے وقت پر پہنچ گئی تھی۔ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا کہ پی آئی سی میں وکلا کے آنے سے پہلے پولیس کی پانچ کمکیں پہنچ چکی تھیں لیکن ہم واقعہ ہونے سے پہلے کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں