342

ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، چیف کی چیف سے کیسے بگڑی

ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، چیف کی چیف سے کیسے بگڑی
سیسلین مافیا کو چھوڑنا ہی تھا توہمارے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلائی گئی ،ہمیں کیوں گندہ کیا گیا
خود تو گئے اداروں میں بھی پھوٹ ڈال گئے پہلے موجودہ چیف کو رگڑا پھر سابق چیف کو سزا سنا دی گئی ، سب کی ضمانتیں
اگر آپ صلح کر سکتے ہو تو میں جاتے ایماندار کیوں نہ بن جاوں تاکہ ریٹائیرمنٹ کی زندگی فخر سے جی سکوں کہ میں نے ۔۔۔۔۔
ایک غزوہ کا واقعہ ہے کہ حضرت علی دشمن کے سینے پر سوار تھے اور اپنا خنجر جب اس کے سینے میں اتارنے کے لئے ہاتھ اوپر لہرایا قریب تھا کہ خنجر دشمن کے سینے میں پیوست ہو جاتا اس بدبخت نے حضرت علی کے منہ پر تھوک دیا جس پر حضرت علی نے اپنا خنجر دشمن کے سینہ میں اتارنے کی بجاے اسے چھوڑ دیا اور کہا کہ پہلے میں تمہیں جنگ کے عین اصولوں کی وجہ سے قتل کر رہا تھا لیکن اب تو نے میرے منہ پر تھوک دیا ہے لہذہ تمہیں چھوڑ رہا ہوں کہ کہیں ا سمیں میرا ذاتی غصہ نا شامل ہو جاے کہتے ہیں یہ اخلاص دیکھ کو وہ دشمن اپنے قبیلے سمیت مسلمان ہو گیا
کہا جاتا ہے ہم جو بھی دعا کرتے ہیں وہ قبول ہوتی ہے لیکن اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کا وقت مقرر ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دعا اسوقت تک قبول نہیںہوتی اگر جسم کے اوپر پہنا ہوا کپڑا ہلال کی کمائی سے نہ پہنا ہوا ہو یا جسم کے اندر جو خوراک ہو وہ ہلال کی کمائی سے کھائی گئی ہو اور پھر اس دعا کی قبولیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر دل میں بغض منافقت ہو اور دعا اور مغفرت اللہ سے معافی تک بھی مانگی جائے تو اسکی قبولیت بھی اللہ تعالی کے حضور اسکی قبولیت کا اپنا ہی مقام ہے لیکن اللہ تعالی جو غفور اور رحیم ہیں کسی بھی گناہ گار سے گناہ گار کو بھی معاف کر سکتے ہیں جو ستر ماوں سے بھی زیادہ پیار کر تا ہے وہ اپنے بندے کی دعا اور مغفرت کا منتظر رہتا ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے کو معاف کرنے میں دیر نہیں کرتی جو ستر ماووں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے معاف نہیں کرگے گا
لیکن ہمارے ہاں اگر ارد گرد دیکھا جاے تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے جیسے ہر شاخ پرالو بیٹھا ہوتا ہے تو انجام گلستان پھر خدا ہی ناجانے
ہمارے ہاں جو کسی اخبارکو کوئی ادارہ یا شخص اشتہار نہ دے تو وہاں میڈیا بہت آزاد ہو جاتا ہے اور جو اشتہار دیں انکی بڑی سے بڑی غلطی سرف نظر ہو جاتی ہے
ہمارے ہاں اگر کسی جج کی گاڑی کے سامنے سے کسی کی گاڑی بھی گزر جاے یا اسے راستہ نہ ملے تو پھر پیر نقیب الرحمان کے بیٹے کو بھی حوالات کی ہوا کھانی پڑتی ہے
یہاں پر ایسے بھی ہوتا ہے کہ کہ کسی وکیل کو اسکی مرضی کی فیس نہ دی جائے تو دل سے اپنے موکل کا کیس بھی نہیں لڑتا اور اگر ڈاکٹر کو فیس نہ دی جائے تو اسکا علاج بھی درست انداز میں نہیں کرتا
اگر ٹیچر سے کوئی ٹویشن نہ پڑھے تو استاد اسے اچھے نمبروں سے پاس نہیںکرتا اور اگر سارجنٹ کی مرضی نہ ہو تو وہ آپ کو بڑے سے بڑا جرمانہ بھی کر دیتا ہے
ایسا ہی ہماری منصف گاہوں میں ہوتا ہے کہ جب کسی کو سزادینی ہو تو بہانے ہزار ہوتے ہیں اور پھر کسی کو چھوڑنا ہو تو وقت کے حاکم سے کہتے ہیں کہ اسکی زندگی کی گارنٹی دے جائے۔
بات صرف اتنی تھی کہ جب اسے چھوڑنا ہی تھا تو ہمارے سے اسے اتنی بڑی سزائیں کیوں دلوائی گئیں اور ہمارے سے کیوں نہیں پوچھا گیا پوچھا تو اس سے بھی نہیں کہا گیا تھا جسے سب سلیکٹڈ کہتے ہیں اسی لئے تو وہ تڑپا تھا کہ غریب کے لیے اور قانون امیر کے لیے اور قانون جس پر قاضی بولے کہ ہم نے دو وزیر اعظم گھر بجھوائے ایک کو پھانسی دی دوسرے صدر کو سزا دینے جا رہے ہیں اور پھر سب نے دیکھا کہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے جو سب نے دیکھا کہ سالار کے ساتھ ہوا صرف اس لیے کہ مجھے پوچھا نہیں گیا
ایسا ہی تو نواز شریف نے کیا تھا جب کہ کیا اس نے اچھا تھا کہ ایک دشمن ملک کے وزیر اعظم کو گھر پر بلایا پہلے ایک کو لاہور بلایا مینار پاکستان بھی دکھایا پھر گھر بلایا وہ تو برا مان گئے پھر سب نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ میں کیا ہوا جب کہ بمبئی کے شعلے ختم ہوے جا رہے تھے سب چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر ملک کا بیٹر ہ غرق کر رہے ہیں چھوٹی چھوٹی ضدو ں پر ملک جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے پوری دنیا میں تماشہ بن رہا ہے اب اسی موودی سے یارانہ کے لیے منتیں ہو رہی تھیں جسے شادی پر آنے پر ناراضی بڑھ گئی تھی سب کو یا تو برداشت کرنا چاہئے یا پھر سب کو صلاح مشورے سے چلنا چاہیے اور اگر ایک غلطی کر بھی لے تو در گزر کرنا چاہئے کہتے ہیں کہ جب دو ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو نتیجہ کچھ بھی ہو فصل ضرور تباہ ہوتی ہے ہمارے ہاں جب بھی دو بڑے لڑتے ہیں ہماری جمہوریت ہمارا وقار دنیا میں رکھ رکھاو سب تباہ ہو جاتا ہے ۔عقل کے اندھوں اسلام ہمیں جہاں انصاف سکھاتا ہے وہاں پر عفو و درگزر بھی سکھاتا ہے ایک دوسرے کو معاف کرنا بھی سکھاتا ہے کچھ تو اسلام کے درسوں سے سیکھو اسی لیے تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی کہ ہمارے دل صاف نہیں ہوتے اسی لئے تو ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا کہ ہر طاقت ور بس اپنا زور بازو آزمانہ چاہتا ہے جنکو کل پکڑا کسی جرم میں تھا سزا کسی اور کیس میں دی تھی اب انکی ایسے ضمانتیں دی جیسے ہوا کا رخ ہی تبدیل ہو گیا زرا ملک کا بھی سوچو جس کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے اب ایسے ضمانتیں ہو رہی ہیں جیسے پھاٹک ہی کھل گیا ہو، صرف اس لئے کہ ایسے تو ایسے ہی سہی سمجھ جائیں
وہ نہ ہو کہ اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply