289

جو ووٹ تھا۔۔۔ اسکو آج عزت ملے گی

جو ووٹ تھا۔۔۔ اسکو آج عزت ملے گی
آج پتہ چلے گا اینٹ سے اینٹ بجے گی،یا پھر ڈان لیکس اور ووٹ کو عزت دو کی بات ہو گی
جو کہتے تھے کہ آپ کو دو دن کی مہلت ہے سلیکٹیڈ سے ہاتھ اٹھا لیں ،یا پھر سرخے یا اچکزئی کی پارٹی رنگ دکھاے گی
ممکن ہے خواجہ آصف آج ایوان میں کہہ دیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے کوئی ایتھکس ہوتے ہیں
جب پیرو مرشد قائد محترم غریبوں کا لیڈر اور صرف سمجھداروںسے مخاطب ہونے والا نڈربے باک وزیر ساری دنیا کے سامنے بدانگ دہل کہتا ہے کہ پاکستان کے سب سیاستدان گیٹ نمبر چار کی پیدوار ہیں تو اسوقت کسی سیاستدان کے جانب سے نہ صرف جواب نہیں ملتا اور نہ ہی کسی کو حیرانگی ہوتی ہے کوئی اس کے خلاف عدالت نہیں جاتا اور نہ ہی کسی کا استحقاق مجروع ہوتا ہے لیکن آج سب کو پتہ چل جاے گا کہ کون کون اس ملک میں اصل سیاستدان اور ہے اور کون کون مارشل لا کے گملے کی پیداور ہے
جس کسی کو شک تھا کہ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ہاتھ کھڑے کرنے والے وہ چوداں سینٹر وں کے ضمیر کدھر گئے جو دس منٹ پہلے 64تھے اور پھر پچاس رہ گئے
پھر بھی کسی کو یاد نہ ہو تو وہ نواز شریف کی وہ وننگ تقریر یاد کر لے جو کسی اور سے نہیں غریب عوام سے نہیں ریڑھی والے سے نہیں چھابڑی والے سے بھی نہیں تو میاں صاحب شاید محکمہ زراعت والے سے کہہ رہا تھے کہ وہ بغیر بیساکھیوں کے حکومت بنانا چاہتے ہیںاور پھر سب نے دیکھا کہ کس طرح آراو کے دفافتر میں رزلٹ رکے تھے وہ تو فخرو بھائی کی طبعیت خراب وہ گئی ہو گی یا آرو اوز کو نیند آگئی ہوگی
پھر بھی کسی کو یاد نہیں تو الیکشن سے ایک ماہ قبل انکی تقریر سن لیں جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے سو سے کم سیٹیں ملیں تو وہ اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے تو اللہ کے نیک بندوں اور بھولے بادشاہوں وہ کھوکھے والے کو کہہ رہے تھے یا پان شاپ والے کو اب تو پتہ چل گیا نہ جب بھی انوکھا لاڈلا کہتا ہے تو وہ کسے کہہ رہا ہو تا ہے یا کس کو فرمائش کر رہا ہوتا ہے پھر دیکھا ڈی آر ایس سسٹم کیوں بیٹھتا ہے
جن کا ملک ہے وہ بلڈی سیولین میں سے جسے چاہتے ہیں اقتدار کے لئے چن لیتے ہیں جتنی چاہتے ہیں سیٹیں دیتے ہیں وہ چاہیں تو دو تہائی اکثریت دے کر بھی پہلے سال ایمپائیر کی انگلی سے لے کر اڈیالہ کی سیر کروائیں یا پھر پلیٹ لٹس کے بہانے لندن کی سیر کروا دیں
وہ جو کہتے تھے کہ غریب اور امیر کے لئے الگ قانون نہیں ہونا چاہئے انہیں پھر جواب ملتا ہے کہ ہاتھ سونگھنے کے بعد ہوش میں آجاو ہم نے نہیں آپ نے خود بجھوایا ہے اور پھر سب کو پتہ ہے کیوں ضمانتوں کے جمعہ بازار لگتے ہیں کیسے جیلیں خالی ہوتی ہیں نیک پاک لوگوں سے
آج اس حمام میں وہ بھی ننگے ہونگے جو کہتے تھے ووٹ کو عزت دو اور وہ بھی جو ان جماعتوں کے خلاف کرپشن کرپشن چور چور ڈاکو ڈاکو کی گردان کرتے کرتے تھکتے نہیں تھے وہ بھی جو کہتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا اور وہ بھی جو کہتے تھے میں ان کو این آر او نہیں دونگا
میرے قوم کے بھولے بھالے باسیوں اب بھی آنکھیں نہیں کھلی تو کب کھلیں گیں یہ سب ہمارے سامنے مداری ہیں اور آپ سب تماشائی ہر پانچ سال بعد جو اچھی ڈگڈگی بجاتا ہے سب اسکے پیچھے لگ جاتے ہیں اور یہ سب قصور ہمارا جو انہیں ووٹ دیتے ہیں انکے نعرے لگاتے ہیں اور ان سیاستدانوں کا ہے جن کو آج تک یہ پتہ نہیں چلا کہ دال بوٹوں میں اچھی ہوتی ہے یا جوتوں میں ۔۔۔۔۔ یہ آکر محل بناتے ہیں
اور ہم سو پیاز بھی کھاتے اور جوتے بھی ۔۔۔اور انکا بچا ہوا بھی
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply