533

اتحادیوں سے تنگ کپتان نے سمری صدر کو بھجوا دی

اتحادیوں سے تنگ کپتان نے سمری صدر کو بھجوا دی
یہ محض اتفاق نہیںکہ سترہ ماہ سے سوئی ایم کیو ایم، ق لیگ جی ڈی اے اور تو اور باپ بھی جاگ جائے
آزادی مارچ کاثمر ہو یا پلیٹ لیٹس کا کمال، زرداری کی پر اسرار خاموشی ہو یا مریم کی ٹویٹس بند۔۔ دال میں۔۔۔۔
چوہدری نثار کو وزیر اعلی اور پرویز الہی کو وزیر اعظم بنانے کی تجویز مسترد،کپتان نے صدر کو اسمبلیاں توڑنے کی سمری بجھواد دی
مجھے ایک ٹوٹا پھوٹا شعر یا د آ رہا ہے کہ کج راہوں وی بڑیاں اوکھیاں سن ،کچھ گل وچ غما ں دا طوق وی سی، کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن، کچھ سانوں وی مرن دا شوق سی ، اور پھر جب ہمارے پیرو مرشد بھی شیخ الشیخ بھی کہہ دیں کہ جنوری فروری زرا بھارہ ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور ہمارے شیخ کبھی بھی ایسا نہیں بولتے جن کی انہیں اجازت نہ ہو
کیونکہ جب آپ قطری شہزادے کی بھی نہیں مانتے اور جن کا ملک ہے ان کی کئی ہوئی پلیٹ سے لیس ڈیل بھی نہیں مانتے اور جب آپکو ضمانتوں کے جمعہ بازار سے بھی سمجھ نہ آئے جب آزادی مارچ سے جانے والے جنوری فروری کی تاریخ دے دیں اور پھر لندن بردارن سے لے کر اینٹ سے اینٹ بجانے والے سب غیر متوقع طور پر خاموش ہوں ،ٹویٹس کی مشینیں بند ہوں، اور ووٹ کو عزت دینے والے یو ٹرن نہیں اباوٹ ٹرن لیں اور ترمیم کی ایک دوسرے سے بڑھ کر حمایت کیلئے سرگرم ہوں اور پھر اچانک تمام اتحادی جن کے بارے میں مشہور ہوکہ وہ ہے ہی ان کے گملوں کی پیداوار وہ سب یک لخت ہو کر اچانک بلوں سے نکل کر حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیں ، ایم کیوایم ہو، جی ڈی اے ہو ق لیگ ہو یا پھر باپ کی پارٹی سب کو سترہ ماہ بعد اچانک کئے گئے مطالبات یاد آجایں پھر اپ اس دوران ہوش کے ناخن بھی نہ لیں اور ان کے پالے صحافیوں کو تھپڑ ماریں اور بوٹ نکال کر پروگراموں میں رکھیں تو سمجھ یہ آتی ہے کہ جنہوں نے آپ کو سلیکٹ کیا انکی پلیٹ سے لیس ڈیل پر ضرورت سے زائد شور مچاتے ہیں پھر سمریاں بھی ایسی بناتے ہیں جس سے انکی بدنامی ہو تو پھر آپ کی عقل ٹھکانے لگانے کے لئے کچھ تو انہوں نے کرنا ہی ہے کیونکہ آپ نادان دوستوں کو سمجھانے کی بجائے آپ پروگراموں پر ساٹھ دن کی پابندی لگوائیں اورگھر بجھوانے کا وعدہ vaadaکر کے بھی پندرہ دن کی پابندی لگائیں تو پھر پریشانی تو آنی ہے
ایک ایسے وقت میں جب عوام کو مہنگائی کے جن کے نیچے دبا دیا گیا ہو، غریب آدمی کی پہنچ سے دال تک دور ہو چکی ہو ، جو آپ کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اس میڈیا کا سانس بند کر دیا گیا ہو، ڈالر کی قدر کنٹرول میں نہ ہو دو دور تک نہ لاکھوں نوکریاں نظر آ رہی ہوں نہ گھر بنانے کے آثار ہوں ایسے میں جب کشمیر بیچنے کے الزام بھی لگ گئے ہوں بھارت نے جس طاقت سے مل کر کشمیر ہڑپ کیا ہو، اتحادی بلیک میلنگ کر رہے ہوں چوہدری نثار علی خان کو پنجاب اور شاہ محمود قرشی کے بعد پرویز الہی کی تجویز مرکز میں دے دی گئی ہو ایسے میں آپ قطر ی شہزادے کو انکار کی طرح اکڑ گئے ہوں تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی عقل کو ٹھکانے لگانے کے لئے اور اپنی اوقات سے باہر نودولتیوں اقتداریوں کو نکیل ڈالنے کے لئے ہر طرف تبدیلی کی ہی ہوا نظر آ رہی ہے ہوتی ہے
لیکن وہ بھی ایک ضدی کپتان ہے وہ بھی ہار ماننے والا نہیں ا سنے بھی کہہ دیا ہے کہ آسانی سے انکے دیئے ہوئے اتحادی مانتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر دما دم مست قلندر ہو گا اور پھر اس نے جھکنے کی بجائے اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس بھی اپنے صدر کو بجھوا دی ہو ایسے میں سب کے پاوں سے زمین اب پھسلنا شروع ہو رہی ہے کیونکہ سب چاہ رہے تھے کہ ان ہاوس تبدیلی کیلئے ریکوزیشن پہلے جمع کروا دی جائے کیونکہ قانون کے مطابق جب عدم اعتماد کی تحریک آجائے تو پھر اسمبلی نہیں توڑی جا سکتی ہے ایسے میں سب پریشان ہیں کہ کہ کس کا وار پہلے چلتا ہے اگر کپتان نے اسمبلیاں توڑ دیں تو پھر وہ بھی سیاسی شہید ہو جائے گا اور یہ ہجوم نما قوم اسکی ان باتوں میں بھی آ جائے گی کہ مجھے خزانہ خالی ملا جب خزانہ ٹھیک کیا تو میں نوکریاں دینے والا تھا مہنگائی کم کرنے والا تھا گھر بنانے والا تھا کہ میرے خلاف سازشیں شروع کر دی گئیں اور پھر کپتان کے سپورٹر ز جن میں اکثریت پٹھانوں کی ہے وہ دوبارہ سے اسے اقتدار میں لا سکتی ہے یہ وہ ڈر ہے جو نہ صرف اپوزیشن کے کھائے جا رہا ہے بلکہ سلیکٹرز بھی پریشان ہیں اور لگ رہا ہے کہ اس ملازم کی کی طرح جودھمکی دے رہا تھا کہ میری تنخواہ بڑھا دیں ورنہ ۔۔ورنہ مالکوں نے پوچھا کیا ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ کہتا ہے ورنہ میں اسی تنخواہ پر کام کرونگا
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply