91

ہنگری میڈلز کا بھوکا ملک

2004 میں یورپ میں شامل ہونے والے ملک کی ابادی تو ایک کروڑ لیکن اولمپک میڈلز کی تعداد پانچ سو کے قریب

سلطنت عثمانیہ اور رشیا سمیت کئی ممالک کے زیر تسلط ملک میں صرف مسلمانوں کو ابادی میں شمار نہیں کیا جاتا

یوکرائن رومانیہ آسٹریا کروشیا سلوینا سلواکیا اور سربیا میں گرے یورپ کے اس ملک کا نام کسی نا کسی دور میں رہا ہنگری ہی یے مکمل طور پر کبھی کسی کے زیر تسلط نہیں رہا کبھی سلطنت عثمانیہ کبھی آسٹریا کبھی رشیا کے مکمل اور جزوی تسلط میں رہا
یورپ کے اس ملک میں مسلمانوں پر پابندیاں تو اتنی نہیں لیکن انہیں ابادی میں کبھی گنا نہیں گیا تمام۔مذاہب جن میں کیتھولک ۔پروٹسنٹ سمیت عسائیوں کے اس ملک میں سلطنت عثمانیہ کا ابھی بھی ڈر ہے اور اس دور کے مسلمانوں کو بھی گنا نہیں جاتا مسجدوں کی تعداد نہیں بتائی جاتی ایک وقت میں عسایت کا مرکز تھا لیکن اب مسلمانوں کے ڈر کی وجہ یہ وہ واحد یورپین ملک ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کو قبول نہیں کرتا سرمایہ کاری اور شادی کے بعد مشکل سے شہریت ملتی ہے شام میں مہاجرین کی آمد کی وجہ سے اس ملک نے اپنی سرحدوں پر باڑ لگا دی تھی اور دنیا کا دوسرا ملک بن گیا تھا جس نے اپنے ملک کی سرحدوں پر باڑ لگا دی تھی یاد رہے کہ دنیا کے صرف تین ممالک نے اپنی سرحدوں پر باڑ لگا رکھی ہے امریکا نے میکسیکو۔۔۔ ہنگری نے اپنے ارد گرد جبکہ پاکستان نے افغانستان اور ایران کی سرحد پر باڑ لگائی ہی ے
پاکستانیوں کی تعداد بہت کم ہے 2015 سے ہنگری نے بھی پاکستان کے انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کو سکالر شپ دینے کا معاہدہ کیا اور سالانہ دو سو طلبا کو ہنگری میں گریجویشن اور پوسٹ گریجوایٹ کلاسز میں داخلہ دیا جاتا ہے
کھیلوں سے بہت ہی پیار کرتے ہیں فٹبال کے عالمی کپ کا فائنل بھی کھیل چکا ہے پانچ سو کے قریب سویمنگ اتھلیٹکس باکسنگ فٹ بال ٹینس واٹر گیمز اور دیگر کھیلوں کے میڈلز جیت چکا ہے جبکہ فن نمونہ کے عظیم شاہکار نیے پش کاش اسٹیڈیم میں یورو کپ کا فائنل بھی منعقد کروانے جا رہا ہے کوئی ایسا شہری نہیں دیکھا جس کا پیٹ بڑھا ہوا ٹینس کے نامور کھلاڑی پیدا کر چکا ہے اس لیے اسے میڈلز کا بھوکا ملک نہ کہا جاے تو بے جا نا ہوگا
اس ملک کو سمندر نہیں مل لگتا لیکن اس کا ڈانیوب دریا دنیا بھر میں سیاحت کے لیے مشہور ہے نالہ لئی کی طرح آدھے سے زیادہ یورپ کو اس دریا نے سانپ کی طرح گھیر رکھا ہے
ان کی پارلمنٹ برطانیہ کے بعد سب سے پرانی پارلیمنٹ ہے جس میں کئی من سونا بھی لگایا گیا ہے
عمارتیں ابھی بھی ساری تاریخی طرز تعمیر کے تحت تعمیر کی گئی ہیں
نام ہنگری یے اور بھوک نہ ہو ممکن نہیں سڑکوں پر جا بجا نشئی اور بے گھر لوگ پڑے پائے جاتے ہیں سڑکوں پر بے راہ روی اور جنسی آزادی ہے یہاں پر ہی بوسے لینے کا گنیز بک میں ورلڈ ریکارڈ بنا تھا جب چھ ہزار سے زاید جوڑوں نے اکٹھے ایک دوسرے کے بوسے لیے تھے
یورپ میں ہونے کے باوجود اپنی کرنسی ہنگرین فارنٹ کا استعمال کرتے ہیں
بقول صالح ظافر 1999میں بارہ اکتوبر کے واقعہ کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جو اشیاء برآمد ہوئی تھیں ان اشیاء کی دوکانیں جگہ جگہ موجود ہیں
انہی دوکانوں میں صرف پانچ سو پاکستانی روپوں میں ایک گھنٹہ نہ صرف ویڈیو دستیاب ہیں بلکہ اگر جوڑا ہو تو وہی کمرہ آپ کو ایک ہزار پاکستانی روپوں میں دستیاب ہے
غرض یہ کہ باقی یورپ کی نسبت سستا ملک ہے جو اپنی تاریخ دکھا کر اپنی معشیت کو سہارہ دہیے ہوے ہے شہری بھی ٹیکس باقی یورپ کی نسبت زیادہ دیتے ہیں اور اوسطا ہر شہری اپنی آمدنی کا پینتیس سے چالیس فیصد خوشی سے ٹیکس دیتا ہے
پاکستانی سفارت خانے کی چھوٹی سی عمارت پاکستان کی ملکیت کی ہے ملنسار پاکستانی سفیر محمد اعجاز ایک اپنے پی ایس ایک افس بواءے ایک ڈراءیور سمیت دس سے بھی کم سٹاف کے ساتھ ایمبیسی چلا رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply