137

پاکستان کا وہ نامور ومعتبر صحافی اور کالم نگار جسے ایک مشہور بزنس مین نے اپنا فارم ہاؤس تحفے میں پیش کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) جن سے خلق خدا بغیر کسی غرض کے محبت کرے وہ ضرور خاص لوگ ہوتے ہیں، کیونکہ ایسی محبت میں خدا کا کرم شامل ہوتا ہے۔ میں نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بدنامی اور بددعائیں کمانے اور اِک مسکراہٹ کے عوض عقیدتیں سمیٹنے والوں کو دیکھ کر قدرت کی

نامور خاتون کالم نگار ڈاکٹر صغریٰ صدف اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکمت اور مہربانی کا راز جاننے کی کوشش کی تو عقدہ کھلا کہ خلوصِ نیت اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچانے کی عادت کرم کمانے کی طرف لے جانے والے راستے کے وسیلے ہیں۔ فیصل آباد میں دبنگ کالم نگار اور شرمیلے شاعر توفیق بٹ کے فارم ہائوس کی افتتاحی تقریب کششِ محبت کا زبردست مظاہرہ تھا۔ چوہدری محمد سرور گورنر پنجاب، سہیل وڑائچ، منصور آفاق، علیم خان، ندیم افضل چن، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، ڈاکٹر امجد ثاقب، حمزہ کرامت سمیت ملک بھر سے سینکڑوں عقیدت مند پنڈال میں موجود تھے۔ سب کے دلوں میں شادیانے بج رہے تھے، ولیمے کا سماں تھا۔ سہیل وڑائچ اسی مناسبت سے خوشنما سالو پہن کر شریک ہوئے۔ اسٹیج پر موجود تمام کرم یافتہ اور صاحبان دانش نے حسبِ توفیق اشاروں کنایوں میں بٹ صاحب کی شخصی کرامتوں کا تذکرہ کیا۔ شاید ان کے منہ زور کالموں، گفتگو اور رویے پر کھل کر بات کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ دورانِ گفتگو کھلا کہ یہ فارم ہائوس ایک عقیدت مند اے ڈی ملک کی ملکیت ہے۔ محبت کا یہ اظہار بھی بہت عجیب ہے۔ توفیق بٹ ایک ایسا منفرد کالم نگار ہے جِس کا ایک ایک جملہ گولی کی طرح ٹھیک نشانے پر لگتا اور حتی المقدور پڑھنے والے کو معاملے کی گہرائی سمجھاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حق گوئی اور جرأت مندانہ وقف نے اسے عجب سحر عطا کیا ہے جس کی بدولت لوگ اس کی محبت میں آسانی سے گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کی محبت توفیق بٹ کو عمران خان سے بھی تھی،

وہ وزیراعظم بنے تو یہ ان کے قریب ہونے کے بجائے دور ہو گئے مگر محبوب کی حرکات و سکنات پر بھر پور نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا احساس ان کے کالموں میں منعکس ہے۔ وطن کی محبت اور اصولوں کی جیت اس کی ترجیح بن چکی ہے، اس لیے لگی لپٹی رکھے بغیر سچی بات کہنا مجبوری بن گیا ہے کہ سسٹم میں غلط کو درست کہنا اور درست کو نظر انداز کرنا انسٹال ہی نہیں۔ تحریک انصاف کا منشور اور عمران خان کی شخصیت میں اسے ایک نجات دہندہ اور اُمید کی کرن دکھائی دی تو وہ ہمہ تن اس کی جدوجہد میں شامل ہو گیا۔ انتخابات کے بعد کے کالموں میں جو مشورے مجھے نظر آئے وہ ایک محب وطن انسان کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں اور کامیابی کا نقشہ ہے۔ آپ بھی سن لیجئے:وزیراعظم بننے کے بعد شریف برادران، زرداری اور دیگر مخالف سیاستدانوں کے لئے اپنا دل بڑا اور رویہ نرم کر لیں۔ ان کو اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ عدالتیں جانیں اور وہ جانیں۔ آپ تین شعبوں تعلیم، صحت اور لا اینڈ آرڈر پر توجہ مرکوز کریں اور ان میں تیزی سے بہتری لائیں تاکہ تبدیلی نظر آئے، بیورو کریسی کے ساتھ بنا کر رکھنا اور ان سے چوہدری پرویز الٰہی کی طرح محبت اور دوستی سے کام لینا۔ قابل افسروں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق متعلقہ شعبوں میں تعینات کرنا یہ سوچے بغیر کہ فلاں آدمی نواز شریف کے ساتھ کام کرتا رہا ہے اور فلاں پرویز الٰہی کے ساتھ۔ یہ بنیادی

طور پر حکومتوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، صرف چند لوگ ہوتے ہیں جو بہت ہی پرسنل ہو جاتے ہیں ورنہ اکثریت روٹین اور قواعد کے مطابق کام کرتے ہیں۔اس میڈیا سے اپنا رویہ دوستانہ رکھنے کی کوشش کریں جس نے برسوں کسی غرض کے بغیر آپ کے بیانیے کا ساتھ دیا۔ یہ آپ سے صحافی کالونیوں اور دیگر سہولتوں کی توقع بھی نہیں رکھتے مگر عزت کے تمنائی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ جو کسی قسم کے عہدے کا لالچ نہیں رکھتے، وہ صرف اس ملک سے پیار کرتے ہیں، آپ سے پیار کرتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی صلاح و مشورے ضرور سنتے رہنا۔اپنے کارکنوں سے رابطے کیلئے کم از کم مہینے دو مہینے میں ایک ورکرز کنونشن ضرور بلائیں کیونکہ فرداً فرداً سب سے ملنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے مخلص کارکنوں کو جڑت کا احساس دلانے کے لئے مل بیٹھنے اور آمنے سامنے کا کوئی پروگرام لازمی ہے۔لوگوں کو جھوٹے خواب نہ دکھائیں۔ سو مہینوں میں بھی ممکن نہ ہونے والی تبدیلی کو سو دنوں تک محدود مت کریں۔اہم عہدوں اور وزارتوں پر تحریک کے اوریجنل چہرے لے کر آئیں۔ کرائے کے قبضہ گیروں کی بجائے خاص طور پر پی ٹی آئی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپیں۔ جن کے پاس جدید تعلیم بھی ہے اور تبدیلی کا جوش وجذبہ بھی۔عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے دولت مندوں سے کہیں کہ وہ لوٹ مار کے ذریعے اکٹھا کیا گیا کالا دھن ملک کو انویسٹمنٹ کی صورت میں واپس کر دیں، اس صورت میں وہ سرمایہ ملک میں رہے گا اور حرکت میں رہنے کی وجہ سے ملکی معیشت پر اچھا اثر ڈالے گا۔ٹیکس کی ادائیگی کا پیچیدہ نظام اس طرح آسان کر دیں کہ براہِ راست رقم حکومت کے خزانے میں جمع ہو۔آج کل توفیق بٹ دکھی ہے، مضمحل ہے اور پریشان ہے کیونکہ اس کا کوئی بھی مشورہ مانا نہیں گیا مگر وہ نااُمید نہیں۔ اُس کی آنکھوں کے خواب تابندہ ہیں، اُسے کسی معجزاتی گھڑی کا انتظار ہے جب اُس کا ملک درست ٹریک پر چل نکلے گا اور پھر خود بخود درستی کا عمل شروع ہو جائے گا۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں