423

قرضہ معاف ہو جائے گا ۔۔۔اب بس کر دیں سرکار

قرضہ معاف ہو جائے گا ۔۔۔اب بس کر دیں سرکار
قرضے معاف کروانے کے چکر میں ساری قوم کو ہی ذہنی بیمار کر دینا کہاں کی حکمت ہے سرکار
عملوں کا دارمدار نیتوں پر ہوتا ہے وہ نا ہو نمازیں بخشواتے کہیں روزے ہی نہ گلے پڑ جائیں
ایک وقت میں سنتے تھے کہ اگر کوئی قرض دار اپنے مقروض سے قرضہ لینے جاتا تھا تو وہ اس کے آنے سے پہلے ہی بستر پر لیٹ جاتا تھا اور شکل بیماروں جیسی بنا لیتا تھا اور بڑی بری شکل بنا کہتا تھا حاجی صاحب آپ کے سامنے بیمار ہوں میرے پاس تو دوائی لینے کے پیسے نہیںہیں اگر تھوڑے سے پیسے دے دو اور میں دعا کرنا بچ جاوں تو آپ کا سارا قرضہ سود سمیت واپس کر دونگا حاجی صاحب کو ترس آتا تھا اور وہ اس کو زندہ رہنے کے لئے اتنے پیسے ضرور دے دیتے ہیں اس خیال سے کہ مر گیا تو سارے چھوڑنے پڑینگے اگر زندہ رہے گا تو پیسے دے گا نہ جیسے گلی محلوں کے منگتے ہوتے ہیں نا۔۔انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کس محلے میں منگنی ہے شادی ہے یا کوئی خوشی کا مقام ہے تو سب ادھر پہنچ جاتے ہیں اسی طرح ہمارے والوں کو بھی پتہ ہے زلزلہ ہو سیلاب ہو یا کوئی آفت تو کیسے پیسے اکٹھے کرنے ہیں ۔۔پتہ ہے ان پیسوں کا آنے والے سامان کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا
ایک وقت تھا کہ پوری دنیا پاکستان کے کرونا وائیرس کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کی تعریف کر رہی تھی لیکن اچانک ایسے لگتا ہے جب قرض دار یہ فیصلہ کرر ہے تھے کہ جن جن غریب ممالک میں کرونا وائیرس ہے ان کے قرضے کسی حد تک تو معاف کر دیئے جائیں یا پھر ان کے قرضے دو تین سال تک موخر کر دیئے جائیں ایسے میں کسی نے مشورہ دیا ہو گا کہ اگر آپ کے تین ماہ میں مریض ہی صرف بیس ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بندہ ابھی تک وادی آغوش میں بھی نہیں گیا تو کو ن آپ کے قرضے معاف کرے گا اور کون آپ کی قسطیں دو تین سال تک کے لئے موخر کرے گا ایسے میں پھر دیکھا کہ کیسے راتوں رات مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی اور پھر کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی طرح کنڑولڈ کرونا مرض بھی شروع ہوا اور پھر جیسے الیکشنوں میں چور چور تبدیلی تبدیلی کو ہوا دی تو ہر شخص ہی مخالفوں کو چور اور تبدیلی کی طرف چل پڑا اور پھر سب نے دیکھا کہ پلیٹ لیٹس کا ڈرامہ اس ملک میں اس انداز میں رچایا گیا اور جب ساری قوم کو یقین ہو گیا کہ پلیٹ لیس والا واقعی بیمار ہے جب قاضی بھی کہنے لگے کہ مریض کی زندگی کی گارنٹی دیں اور پھر سب نے دیکھا کہ ملک کے حاکم تک مریض کو جانے پر راضی ہو گئے ایسے ہیں سب نے دیکھا کہ کنٹرول کرونا کے ڈرامے کا دھنڈورا ایسے پیٹا گیا کہ پاکستانی تو کجا پوری دنیابھی ماننے پر تیار ہو گئی کہ واقعی یہ بندہ بیماراور سخت بیمار ہے اور اس مریض کو بھی اس لسٹ میں شامل کر لیا جن کے قرضے معاف کرنے ہیں یا انکی قسطیں ر ی شیڈول کرنی ہیں تو اب آپ کامیاب ہو گئے اب ۔۔۔۔۔ بس کر دیں بس کردیں
کیونکہ دنیا کو یقین دلاتے دلاتے آپ نے مریض کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو بھی ذہنی طو ر پر بیمار کر دیا ہے اب بہت ہو گیاکیونکہ سب کو علم ہے جو لوگ اس بیماری سے اللہ کو پیارے ہوے ہیں انکی عمریں کیا تھیں اور ان میں ہارٹ اٹیک سے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ایک وقت تھا کہ جب دنیا میں انصاف کا بول بالا تھا تو بزرگ کہا کرتے تھے کہ کسی درخت کے ساتھ بھی 302لکھ کر لگا دین تو وہ ہرا درخت بھی مرجھا جاتا ہے اسی طرح جب ایک اینڈ سے شعیب اختر ، وقار یونس ، وسیم اکرم ، شین وارن یا مرلی دھرن باولنگ کرواتے تھے تو
اگلا بلے باز آدھا تو پہلے ہی آوٹ ہو جاتا تھا اور پھر ہم نے بڑے باولرز کی ایسی گیندوں پر بھی بلے باز ڈر کے مارے آوٹ ہوتے دیکھے جو ایک عام قسم کی گیندیں ہوا کرتی تھیں ایسے ہی آپ نے قوم کو کرونا کا اتنا ڈر ذہن میں ڈال دیا کہ جس کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے وہ آدھا تو اس صدمے سے ہی مر جاتا ہے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جس مریض کانظام مدافعت مضبوط ہوتا ہے وہ مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے اب یہ کوئی ہمیں بتائے کہ جب آپ نے سارے ٹبر کو ذہنی طو پر ہی اتنا بیمار کر دیا ہے اسکا نظام مدافعت قوت برداشت کیسے مظبوط ہو گا
کسی بھی شخص کا برداشت کا نظام اسی وقت مظبوط ہو گا جب اسے چین کی طرح تسلی دلائیں گے کہ کچھ نہیں ہوتا یہ مرض قابل علاج ہے یا بھائی تو نہیں مرتا لیکن اب ایک ایسے وقت میں جب یہ یقین ہو گیا کہ کہ قرض معاف بھی ہو رہا ہے اور قرض کی قسطیں بھی کچھ سالوں تک موخر ہو رہی ہیں اب اس قوم کا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ نہ ہو کہ اتنے پیسے معاف نہ ہوں جتنے پھر اس قوم کو اٹھانے میں لگ جائیں کپتان جی جب آپ کمزور ٹیم سے کپ جیت سکتے ہیں کمزور ٹیم کے ساتھ بڑا الیکشن جیت سکتے ہیں اس وقت پھر قوم کو ایک ایسے کپتان کی ضرورت ہے جو لیڈ فرام فرنٹ کرے اور پھر وہ ورزش کرتا اور لاک ڈاون کے دوران ڈنڈ بیٹھک کرتا نظر آئے اب پھر لاک ڈاون ہے اور قوم کو ایک ڈنڈ بیٹھک مارتے کپتان کی ضرورت ہے کیونکہ کرونا کی حقیقت سے انکار نہیں لیکن لینے کے دینے نا پڑ جائیں سکیم کامیاب ہو گئی ہے قرض معاف کروانے کی اب اس قوم کو چینی حکومت کی طرح بس کھڑا کردیں کیونکہ ایک سو ستر تک تو ڈالر چلا گیا ہے وہ نہ ہو کہ اتنے قرضے معاف نہ ہون جتنے اس ڈالر سے قرضے بڑھ جائیں
آئیڈیا اچھا تھا کہ اگر دو سال قرضے نہ دینے پڑیں تو فارن ریزرور بھی بڑھیں گے اور گھر میں خوشحالی بھی آئے گی لیکن اس کیلئے صرف کرونا کو نہیں بلکہ ڈالر اور مہنگائی کو بھی کنڑول کرنا ہو گا ورنہ عملوں کا دارمدار نیتوں پر ہوتا ہے وہ نا ہو نمازیں بخشواتے کہیں روزے ہی نہ گلے پڑ جائیں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply