160

صرف گندم چینی رپورٹ ہی کیو ں شائع ہوئی

صرف گندم چینی رپورٹ ہی کیو ں شائع ہوئی
حمود الرحمان کمیشن ، اوجڑی کیمپ ،سی ون تھرٹی اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کیوں شائع ہونی ہوتیں
چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد پر لوٹوں پر بننے والی انکوائیری کمیٹیاں بنانے والی جماعتیں بھی واویلہ کر رہی ہیں
الیکشن سے چند ماہ قبل 22ایم پی اے فارغ کوئی اور جماعت نہیں کر سکتیں نا کسی میں جرات ہے ، کپتا ن جو کہتا ہے وہ کرتا ہے
جب سے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بنائی گئی گندم چینی پر بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ شائع ہوئی ہے اسوقت سے مارکیٹ میں مختلف قسم کی افواہوں نے جنم لیا ہے اور سب سے اہم افواہ ہے کہ محکمہ زراعت والوں کے پریشرمیں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ رپورٹ شائع نہیں ہوئی تو وہ یہ رپورٹ لیک کر دینگے اور پھر اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ سیاسست دانوں کے خلاف جو بھی رپورٹ بنے چاہے وہ جے آئی ٹی ہو یا ماڈل ٹاون کمیشن ، چینی گندم کمیشن ہو یا کوئی اور وہ تو شائع ہو جاتی ہے لیکن جہاں محکمہ زراعت والے ملوث ہوں وہ رپورٹ شائع کیوں نہیں ہوتی اور پھر کہتے ہیںکہ
یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ملک میں اب تک سانحہ مشرقی پاکستان پر بننے والی حمودالرحمن کمیشن تو جاری نہیںہوتی جہاں پر نوے ہزار سے زائد فوجی قیدی بنتے ہیں اور ایک جرنیل ہتھیار بھی ڈال دیتا ہے اور ملک دو لخت ہو جاتا ہے وہ رپورٹ شائع کیوں نہیںہوتی
جہاد افغانستان کے نام پر آنے والا امریکی اسلحہ ایران سمیت کئی ممالک کو بیچنے کا الزام لگا تو الزام یہ بھی ہے کہ جب امریکہ نے اس پر اسوقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو سے رپورٹ مانگی گئی تو پھر پنڈی میں اس اسلحہ کے گودام کو آگ لگا دی گئی اور پھر اس اسلحہ گودام کو لگنے والی آگ کی انکوائیری رپورٹ جسے اوجڑی کیمپ انکوائیری رپورٹ کہا جاتا ہے وہ شائع کیوں نہیںہوئی
اور پھر جب وہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو اس اسلحہ کو لگنے والی آگ کی رپورٹ امریکہ کو دے کر واپس آ رہے تھے تو انکو جہاز سے اترنے سے قبل ہی وزیر اعظم کے منصب سے اتار دیا گیا ابھی تک وہ رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی
اور پھر جب یہ الزام لگا کہ جو جو سانحہ اوجڑی کیمپ میں ملوث تھا اسے ایک ہی جہاز میں بٹھا کر بہاول پور کے نزدیک سی ون تھرٹی کو اڑا دیا گیااس پر بننے والی رپورٹ کو بھی ابھی تک شائع نہیں کیا گیا
اور پھرافواہ ساز کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو مارنے کے لئے ایبٹ آباد کمیشن پر بننے والی رپورٹ جس میں الزام لگتا ہے کہ امریکا نے سب لوگون کو جن کو اسوقت اطلاع دینا بنتی تھی اس کو مطلع کر دیا گیا تھااور پھر جس ہیلی کاپٹر میں اسامہ کو لے جایا جا رہا تھا اسے اسی کمپاونڈ میں گرا بھی دیا گیا تھا جس کے بعد امریکا نے کہا کہ ہم نے دریا برد کر تھی وہ رپورٹ وہ ایبٹ آباد کمیشن اب تک شائع کیوں نہیں اور پھر منہ بند کروانے کے لئے اس وقت کے کمیشن کے سربراہ کو اتنے سکینڈلوں کے باوجود کیوں اہم عہدے پر برقرار رکھا گیا اس طرح کی افواہیں چھوڑی جا رہی ہیں
لیکن ان سب افواہ سازوں کے لئے ایک بات اہم ہے کہ جب 2018کے الیکشن سے چند ماہ قبل اپنے 22ارکان کے پی اسمبلی کے خلاف کاروائی کی گئی کیا اسوقت بھی کیا کسی کا پریشر تھا یا وہ محکمہ زراعت والوں نے کہا تھا کہ ا ن کو عین الیکشن سے قبل فارغ کر دیں ایسا کچھ
نہیں سب کو علم ہے کہ جب کپتان جب کسی بات کا تہیہ کر لیتا ہے تو وہ کر کے دکھاتا ہے اور یہی وہ واحد وجہ ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم نے کسی قسم کا پریشر نہیں لیا اور جب بھی پتہ چلا کہ اس میں حقائق کیا ہیں تو کپتا ن نے اسے شائع کرنے کا کہہ دیا اور پھر سب نے دیکھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایس ہوا کہ جو رپورٹ بھی وہ شائع بھی ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب لیا جا رہا ہے اور اپوزیشن یہ پراپیگنڈا کر رہی ہے کہ کپتان نے یہ رپورٹ شائع کر کے اپنی بری طرز حکمرانی سے توجہ ہٹائی ہے کیونکہ نہ صرف بیس ماہ سے کوئی تبدیلی آئی ہے نہ عوام کو سکھ کا سانس ملا ہے ایسا کرنے سے چند دنّ( ایں کر) والوں اور خاص طو پر حکومتی (ایں کرز )کو موقعہ مل جایگا کہ وہ کپتان کے گن گائینگے اور اسکی تعریفوں کے پل باندھ دینگے
بہت افسوس ہوتا ہے تنقید وہ کر رہے ہیں جو ابھی تک چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں جو چوداں ممبرز جنہوں نے دس منٹ پہلے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ہاتھ نہیں اٹھاے تھے بلکہ خود بھی کھڑے ہوے تھے وہ ابھی تک تلاش نہیںکر سکے اور اس پر بننے والی انکوائیری منظر عام تک نہیں لا سکے وہ جماعتیں بھی ہمارے کپتان پر شک کا اظہار کر رہی ہیں
لیکن کپتان نے ایک ایسے وقت میں جب اسکی حکومت سے استفعی طلب کئے جانے کی افواہیں ہیں اور چند ووٹوں کے سہارے کھڑی حکومت کی پرواہ بھی نہیں کی اور سچ عوام تک پہنچایا اب اس کا یہ بھی مطلب نہ لیا جاے کہ کپتان اسمبلیاں توڑ بھی سکتا ہے اور اگلے الیکشن میں یہ د و نعرے بھی لگا سکتا ہے کہ میں نے پہلے بائیس ایم پی اے نکالے اور اب اپنی اے ٹی ایم کو بھی نہیں بخشا ایسا کچھ نہیں سادہ سی بات ہے کہ کپتان بہت کھرا ہے کوئی پریشر اور دباو نہیں لیتا وہ ایک اچھے کھلاڑی سے کپتان بن سکتا ہے تو ایک اچھے سیاستدان سے وزیر اعظم بن سکتا ہے تو کوئی تو اس میں خوبی ہے اور وہ خوبی ہے جس بات کو وہ تہیہ کر لیتا ہے وہ کر کے دکھاتا ہے
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں