256

منگتے لیڈر ۔۔بلی تھیلے سے باہر۔۔گھبرانا نہیں

منگتے لیڈر ۔۔بلی تھیلے سے باہر۔۔گھبرانا نہیں
کوئی عالمی دنیا سے قرض مانگ رہا ہے تو کوئی اپنے اخبار کے لئے، کوئی ضمانت مانگ رہا ہے تو کوئی معافی کی گارنٹی
ایک انگریزی اخبار کو معافی کے بعد اشتہاروں کی بھر مار ہو رہی ہے اسی طرح باقی بھی معافی مانگنے کی لائن میں۔۔۔۔
جیسے ہی قرضے تین سال تک موخر یا کچھ معاف ہو گئے اور مزید کچھ امداد مل گئی کورونا بھی کنٹرول ڈالر بھی نیچے آ جاے گا

جمعہ کے روز مولانا صاحب جمعہ کے خطبہ پر ارشاد فرما رہے تھے کہ موجودہ حالات میں جو عالمی سطح پر کرونا کی وبا آئی ہے اصل میں یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے اور موجودہ تکلیف اس لئے ہے کہ سب اللہ کی طرف رجوع کریںجس پر راقم سوچ میں ڈوب گیااور پھر سوال کیا کہ وہ اللہ جو بندے سے ستر ماوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے وہ اپنے بندہ کو سزا دے کر اپنی طرف رجوع کرے گا کیونکہ ماں تو ایسا نہیں کرتی وہ تو خود گیلے بستر پر سو جاتی ہے اور اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلاتی ہے ماں تو وہ ہے جو بھارت میں ایک سکوٹی پر چودہ سو کلومیٹر سفر کر کے اپنے بیٹے کو لاک ڈاون سے نکال لاتی ہے جس پر مولانا نے کہا ایسا نہیںہے کبھی کبھی ماں لاڈ پیار کے ساتھ ڈانٹتی بھی ہے اور کبھی سزا بھی دیتی ہے اور تھپڑ بھی مارتی ہے میں نے کہا مولانا جان سے مارنا اور تھپڑ مارنے میں کوئی فرق نہیں ماں مارتی ہے جان سے تو نہیںمارتی لیکن مولانا بضد تھے کہ ما ں پیار بھی کرتی ہے اور ڈانٹتی بھی ہے جس پر میں نے زیادہ بحث نہیںکی
جس کے بعد مجھے یہ سمجھ آئی کہ اللہ کے بندے بھی شاید اسی سنت کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو بات منوانے پر قائل کرتے ہیں کہ اگر آپس میں ایک دوسرے کی بات نہ مانیں یا انکی راہ پر نہ چلیں تو وہ بھی کوئی سزا دے دیں تو وہ بھی بلیک میلنگ نہیںہو سکتی جیسے امریکا کی کوئی بات نہ مانے تو وہ فنڈز روک لیتا ہے یہاں تک کے ایف سولہ بھی روک لیتا ہے اور اگر کوئی اخبار یا چینل مرضی کی خبر نہ لگائے تو سرکاریا جو بھی اشتہار دینے والے ہیں وہ اس اخبار یا چینل کے اشتہار روک لیں تو اس میں بھی وہ حق پر ہونگے اور پھر اگر کوئی حکومت یا لیڈر انکی مرضی کے مطابق نہ چلے تو وہ بھی اسے سزا دینے کے لئے اسکی فائل کھول دیں اور اگر کوئی کسی اخبار یا ٹی وی چینل کو اشتہار نہ دے تو وہ اسکے خلاف حقائق پر مبنی ہی خبر کو سچ بنا کرچھاپ دے تو پھر بھی کوئی مضائقہ نہیں اگر کوئی منشیات فروش وقت پر منتھلی نہ پہنچاے تو اسکو چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا جاے اور تو اور یہاں تو کوئی سلام کرنے میں کوتاہی کرے ملازم کو نوکری سے ہی نکال دیا جاتا ہے یہاں تو کوئی کسی سے مشورہ نہ کرے تو وہی منصف جو پکڑ کسی اور میں ہو سزا کسی اور میں دے دیں وہی منصف ضمانتوں کے جمعہ بازار لگا دیتے ہیں
لیکن جب آج کپتان نے دنیا سے امداد مانگی اور دیئے ہوے قرضو ں پر عالمی ریلیف مانگا تو لگ رہا تھا کہ شاید بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور شاید یہ سارا ڈرامہ صرف اسی لئے ہے کہ اس وبا کی آڑ میں کچھ کچھ رو رعایت لے لی جاے ویسے بھی اگر جب اصل حکمرانوں کو پتہ چلا کہ دنیا میں کرونا کی وبا کے باعث اب خیرات بٹنے والی ہے تو اس وقت ملک میں کورونا کے صرف 18مریض تھے اور کوئی بھی مریض اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھا تھا ایسے میںدنیا میں خیرات بانٹی جا ئے تو پاکستان کے حصہ میں کیا آنا تھا اب سب نے دیکھا کہ جب ورلڈ بینک نے پوری دنیا میں ایک ارب ستر کروڑ بانٹے تو پاکستان کو بیس کروڑ ڈالرمل گئے اور پھر اگر کورونا کے مریض بیس ہوتے تو کیا دنیا ہمیں بیس کروڑ
دیتی اب سمجھ آئی کہ یہ کنٹرول کورونا کیوں ہو رہا ہے کیونکہ جب تک کم از کم مریضو ں کی تعداد دس ہزار نہیں ہو جاتی اور مرنے والوں کی تعداد دو سو کے قریب نہیں ہوجاتی کون آپ کے قرضے معاف یا کم از کم تین سال تک کے لیے موخر کرے گا اور میرے عزیز پاکستانیوں جب سے کوششوں سے یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی اور پھر اس مر ض میں مبتلا اور شہادتوں کی مطلوبہ تعداد پہنچ گئی اور منصوبہ کے مطابق ہمیں ریلیف مل گیا تو پاکستا ن سے آہستہ آہستہ کرونا بھی ختم ہو جاے گا اور پھر ہماری معیشت بھی مظبوط ہو جاے گی کیونکہ کسی شخص نے ایک کار ،یا موٹر سائکل یا فرج بھی قسطوں پر لی ہو تو اگر اسے دو سال تک قسطیں نہ دینی پڑیں تو اسکے گھر کے حالات بدل جاتے ہیں اور اگر ہمیں پندرہ سے بیس ارب ڈالر نہ دینے پڑیں اور ہمیں مزید چار پانچ ارب ڈالر مل بھی جائیں تو ملک کو مزید ایک ماہ لاک ڈاون میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ہمیں اتنا دینا نہیں پڑ رہا جتنا ہمیں ملنے کی توقع ہے
سب کو معلوم ہے یہ جو بارہ بارہ ہزار دیا جا رہے یہ انہی غریبو ں کا پیسہ ہے جو انہیں ہر ماہ ملنا تھا وہ اکٹھا کر کے دیا جا رہا ہے اور جوآٹھ ارب ڈالرکا پیکیج دیا جا رہا ا س میں وہ پندرہ روپے پیٹرول کی کمی بھی شامل ہے جو عالمی مارکیٹ میں کمی سے بہت کم ہے جو ہمیں ریلیف دیا گیا ہے ایسے میں دنیا سے مانگنا کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ جو قوم ہر جگہ مانگ رہی ہے کوئی قرضہ مانگ رہا ہے تو کوئی اشتہار مانگ رہا ہے کوئی بقایا جات مانگ رہا ہے تو کوئی معافی مانگ رہا ہے کوئی سڑک پر کھڑا مانگ رہا ہے تو کوئی نیب کے قبضے میں رہ کر مانگ رہا ہے جیسے ایک بڑے انگریزی اخبار والے کو معافی مل گئی اب اسے کئی مہینوں میں جو اشتہار نہیں ملے تھے اب روزانہ بیس سے تیس اشتہار دیئے جا رہے ہیں ایسے ہی کوئی پسندیدہ اخبارات کو جو حق میں لکھیں انہیں انکی اوقات سے بڑھ کر دیئے جا رہے ہیں اور جو اخبار ابھی بھی لائن پر نہیں آ رہے انہیں سزا دی جا رہی اور ایک دن آے گا سب انگریزی اخبار کی طرح معافی پائینگے اورباقی گھر کو جائینگے ا سلئے حکومتیں بھی مانگ رہی ہیں قوم بھی مانگ رہی ہے کیونکہ قوم منگتی ہو تو حکمران بھی منگتے ہی ہوتے ہیں اس لیئے گھبرانہ نہیں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں