427

درزی کی دکان کھلے گی۔۔کپڑے والی نہیں

درزی کی دکان کھلے گی۔۔کپڑے والی نہیں
کمال کی حکومت کا کمال فیصلہ ، مکینک کام کرینگے لیکن سپیئر پارٹس والے بند ہونگے
کاپی پنسل کتابوں کی دکانیں تو آج کھیلیں گی لیکن سکول کالج اورتمام تعلیمی ادارے نہیں کھلیں گے
کنسٹرکشن کے شعبہ کو اجازت، سیمنٹ،رنگ روغن ، ہارڈوئیر کی دکان، اینٹ ریت بجری والے محروم
کورونا وائرس ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں اس انداز میں کورونا نہیں آیا جیسا مغرب میں آیا ہے معلوم نہیں یہ حقیقت ہے یا اتفاق کہ کورونا وائرس جس شدت سے سرد موسم والے ملکوں میں آیا ہے اتنی شدت سے گرم ملکوں میں اپنی ہیبت طاری نہیں کر سکا شاید اس لئے کہ اس مرض کو مقامی زبان میں ڈبل نمونیا کہا جاتا جو کہ سردی کی باعث ہی ہو سکتا ہے اگر دیکھا جاے تو سردی والے ملک امریکا میں جس شدت کا کورونا آیا ہے نیوزی لینڈجیسے گرم موسم والے ملک میںاس شدت کا نہیں آیا اٹلی سپین ہالینڈ فرانس برطانیہ جیسے ٹھنڈے ملکوں میں جس انداز میں کورونا پھیلا ویسے سری لنکا، ملایشیا، بنگلہ دیش،افغانستان اور پاکستان جیسے گرم موسم والے ملکوں میں اتنی انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتوا اسے اللہ کا شکر ہی کہا جا سکتا ہے
کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں چھ ہزار کے قریب کورونا وائیرس کے مریضوں کی تعداد ہو چکی ہے اور سو شہادتیں لیکن پورئے ملک میں دس سے پندرہ جنازوں کی شہادتیں موصول نہیں ہو رہیں اور نا ہی کسی کو چھ ہزار میں سے پانچ ہزار کے قریب مریضوں کے ناموں کا پتہ معلوم ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ افواہیں سر گرم ہیں کہ پاکستان نے بیرونی قرضوں میں رعایت حاصل کرنے کے لئے اور اسی چکر میں کچھ امداد حاصل کرنے کے لئے اس کورونا جس نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے کا بہتر استعمال کیا ہے اور اب تک کی اطلاع کے مطابق دو ارب ڈالر کی امداد کا پاکستان کے حوالے سے اعلان ہو چکا ہے اور دیکھا جائے تو اتنے مریضوں اور اتنی شہادتوں کے ساتھ پاکستان کو اگر ابھی تک دو ارب ڈالر مل گئے ہیں تو اسے پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی کہا جا سکتا ہے اور اگر پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں رعائت دی جاتی ہے تو پھر سمجھیں کہ پاکستان کورونا کے مضمرات سے نہیں ثمرات سے فائیدہ اٹھانے جا رہا ہے جو کہ ملکی مفاد میں اچھی حکمت عملی ہے
ویسے پاکستان میں جیسے جیسے کورونا کے ڈرامے سے ہوا نکل رہی ہے ویسے ویسے اب حکومتی اقدامات بھی بہت حیران کن ہیں جیسے پہلے لاک ڈاو ن نہیں کیا جا رہا تھا پھر لاک ڈاون کرنا پڑا پھر عوام کو راشن دینے میں دیر ہوئی اور اب جب ایسی صورتحال ہوئی تو پھر حجاموں ، درزیوں ، مکینکوں اور مزدورو ں کو رعائت دی گئی کہ وہ آج سے اپنے کام پر آئیں تاکہ کہاجاے کہ اب لوگ محنت مزدوری کر سکتے ہیں اور اپنا اپنے بال بچوں کا پیٹ پہلے کی طرح پال سکتے ہیں
لیکن حکومتی فیصلے کی سمجھ نہیں آ رہی کہ کنسٹریکشن کے شعبہ کو تو کام کرنے کی اجازت ہے لیکن سیمنٹ کی دکان ، سینیٹری ورکرز، رنگ روغن ، ہارڈوئیر کی دوکان، اینٹ ریت بجری کا کاروبار آرا مشین نہیں چلائی جا سکتی، نقشے نویس اپنا کاروبار نہیں کھو ل سکتے ، نہ کسی سے ٹائل لے سکتے ہیں نہ ہی کسی سے سنگ مرمر کا پتھر درزی کی دکان کھولنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن کپڑے والی دکان ، نلکی دھاگہ بکرم والی دکان بند ہوگی اسی طرح آج مکینک کی دکان کھلے گی لیکن سپیئر پارٹس کی دوکانیں بند ہوںگی اور تو اور کتابوں کی دکانیں کھلیں گی لیکن سکول کالج بند
ہونگے،
محسوس یہ ہو رہا ہے کہ عجلت میں سارے فیصلے کئے جا رہے اور اصل میں لاک ڈاون اور کورونا کی حقیقت عیاں ہونے پر آدھا تیتر آدھا بٹیر کا فیصلہ کیا گیا لیکن لگ یہ رہا ہے کہ رمضان سے قبل سب لاک ڈاو ن اور پابندیاں سرکاری تو رہینگی لیکن عوامی نہیں ہونگی اور ممکن ہے اس جمعہ کو پانچ کی بجاے مسجدوں میں پانچ سو نمازی جمعہ کی نماز ادا کریں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں