130

جس جیل میں ڈاکٹر عافیہ کو رکھا گیا وہاں 600سے زائد قیدی کورونا سے ہلاک ہوچکے ، بہن فوزیہ صدیقی

عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے سندھ ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ غیر متعلقہ فورم پر رابطہ کرکے حکومت نے محنت پر پانی پھیر دیا . تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کی درخواست کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی . 

فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر درخواست اپر سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے کی گئی.سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے رحم کی  اپیل کا طریقہ کار بھی طلب کر لیا. کیس کی سماعت کے دوران فوزیہ صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کیلئے غیر متعلقہ فورم پر رابطہ کرکے محنت پر پانی پھیر دیا ہے. فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم کروڑوں روپے وکلاء پر خرچ کررہے ہیں، حکومت نے محنت پر پانی پھیر دیا.حکومت جو بھی کررہی ہے ہمیں اطلاع دے . جس جیل میں ڈاکٹر عافیہ کو رکھا گیا ہے وہاں پر 600 قیدی کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں. ان کی جان کوبھی خطرہ ہے. عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے

کہ وفاقی حکومت ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کیلئے جو بھی کر رہی ہے ان کے اہل خانہ کو آگاہ کرتی رہے. 15مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی جواب سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرایا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ نے پاکستانی حکام سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے.تاہم امریکی جیل حکام نے ان کے ٹھیک ہونے کی تصدیق کی ہے. ہوسٹن میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے حلف نامہ اور دستاویزات عدالت عالیہ میں جمع کرائی گئی ہے. وفاقی حکومت کے جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فون پر بات کرنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں