256

چوہے اور شیر میں فرق ۔۔۔اب ہمیں گھبرانے دو

چوہے اور شیر میں فرق ۔۔۔اب ہمیں گھبرانے دو
جن کا ملک ہے وہ کپتان جی آپ سے انہی کے پر کٹوا رہے جن کے سہارے آپ حکومت میں آے تھے
قاضی عیسی کیس میں لڑوا کر ایک ستون جبکہ میڈیا سے لڑوا کر دوسرے ستون سے بھی آپ کا سہارہ چھینا جا رہا ہے
جنگل میں ایک بکری بڑی آزادی سے گھومتی تھی ، شیر، چیتے، ہاتھی ، گینڈے سب اس کا انتہائی احترام کرتے اور راستہ سے ہٹ جاتے تھے ۔ ایک طوطا بڑی حیرانگی سے یہ دیکھتا اور سوچتا کہ کیا خاص بات ہے اس بکری میں کہ سب اس سے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔ آخر ایک دن اس نے بکری سے پوچھ ہی لیا کہ کیا راز ہے ۔۔۔ بکری نے کہا کہ اس نے نیکی کی ہوئی ہے، شیرنی دو بچوں کا جنم دے کر فوت ہو گئی تھی، ان بچوں کو بکری نے اپنا دودھ پلا کر بڑا کیا ہے ، اس لئے بکری کا اتنا احترام ہے ۔۔۔۔
چند دن گزرے تو بکری نے دیکھا کہ طوطا زمین پر چلتا آ رہا ہے اور بولتا جا رہا ہے جا بکری تیرا ستیا ناس، تیرے نیکی کے سبق نے مجھے مروا دیا ۔۔۔ بکری نے اسے روکا اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے اور اسے کیوں برا بھلا کہ رہا ہے ۔۔۔ طوطا کہنے لگا میں نے ندی میں ایک چوہے کو ڈوبتے دیکھا، تیرا نیکی کا سبق یاد آ گیا، میں نے ایک پتہ پھینک کر چوہے کو باہر نکالا، وہ سردی سے کانپ رہا تھا، اسے اپنے پروں میں دبا کر گرم کیا، جیسے ہی وہ ٹھیک ہوا اس نے میرے پر کتر دئے۔ اب میں اڑ نہیں سکتا۔ تیرا نیکی کا سبق مجھے لے بیٹھا
۔۔۔ بکری نے ہنس کر جواب دیا پاگل طوطے! تجھے چوہے اور شیر میں فرق نظر نہیں آتا ؟ ۔۔۔
سب نے دیکھا کہ ماضی میں کسی نے جیل میں ایک ملاقات کیا کر لی جیسے ہی ان کی حکومت آئی اس خبار کو اتنا بزنس ملا کہ دنیا کی آنکھیں کھل گئی کسی نے ایک دو کالم کیا لکھ دیئے جب وہ لوگ حکومت میں آے تو انہیں وفاقی وزارتوں تک پہنچا دیا گیا کسی نے پروگراموں میں کسی جماعت کی حمایت اسکے قائد کی تعریف کیا کر دی اسے آزاد کشمیر کی وزارت عظی تک پہنچا دیا گیا اس طرح کے واقعات کی ایک تاریض بھری پڑی ہے
یہی وجہ تھی جو جو کسی بھی حکومتوں میںنوازے نہیںگئے تھے انہوں نے ماضی کی حکومتوں میں اتنی مخالفت کی کہ موجودہ جماعت کے لئے آسمان کے قلابے تک ملا دیئے اور جیسے ہی انکی تبدیلی سرکار آئی اب انہیں ویسے نوازا نہیںجا رہا جیسے ماضی میں جہازوں میں پانچ پیاروں جیسا سلوک ہوتا تھا یا پلاٹو ں سے وزارتوں تک نوازا جاتا تھا اب تو ایسے ہی محسوس ہو رہا ہے جیسے اس میڈیا نے ڈوبتے کو تو بچایا لیکن انتخاب غلط کر لیا
اب تو ہونا یہ چاہیے کہ جیسے ایک بچھو ڈوب رہا تھا تو کچھوے نے کہا کہ آجا میرے پر سوار ہو جا میں آپ کو پار لگا دیتا ہوں بچھو کچھوے پر سوار ہو گیا اور جیسے ہی اسے تھوڑی سی ہوش آئی تو کچھوے کو اپنے اوپر ٹھک ٹھک کی آواز آئی کچھوے نے پوچھا بچھو سے کہ یہ آواز کس قسم کی آ رہی ہے تو بچھو نے جواب دیا کہ یار برا نہ ماننا کہ میں عادت سے مجبور ہوں اوپر سے ڈنگ مار رہا ہوں جو آپ کو آواز آ رہی ہے سب کو معلوم ہے کہ کچھوے کی اوپر والی جلد کتنی مظبوط ہوتی ہے اس پر ایک بچھو کے ڈنگ کا کتنا عصر ہوتا ہو گا کچھوے نے کہا یار میں تجھے پار لگا رہا ہوں اور آپ مجھے اوپر سے ڈنگ مار رہا ہوں یاد رکھوں میں بھی پانی کا جانور ہوں بغیر ڈبکی لگاے نہیں رہ سکتا ایسا کہہ کر اس نے نے ڈبکی لگائی اور پانی میں چلا گیا
ایسے ہی لگتا ہے جس کے کے کندے پر سوار ہو کر لوگ مسند اقتدار پر بیٹھے ہیں اب سارے میڈیا کے بھی سوچنا ہو گا کہ یہ تو ہمارے ہی پر کاٹ رہا ہے کہ شاید میڈیا کا انتخاب غلط تھا لیکن اب انکے انتخاب نے سب کو سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا ہے کہ ان سے کہیں غلطی ضرور ہوئی ہے
ویسے لگ یہ رہا ہے کہ میڈیا کے بل بوتے پر جو مسند اقتدار پر بیٹھے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ ان کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی جا رہی اور جو جو انکا مظبوط قلعہ تھا چاہے وہ میڈیا تھا یا سوشل میڈیا جن کا یہ ملک ہے اسی سے وہ آپ کا تصاد م کروا رہے ہیں اور اسکو مانیْٹر کرنے کے لئے انہوں نے جب آپ ایمپائر کی انگلی کی باتی کیا کرتے تھے اسی کو مانیٹر بھی لگا دیا ہے اور وہ مانیٹر جس جس اخبار کو چینل کو وہ اسوقت استمعال کرتے تھے آج اسی کو ڈنڈا بھی دے رہے ہیں اور انکے دور میں جس اخبار اور چینل نے انکی بجائیء تھی اور چھٹی کروانے کے باعث بنے تھے اب وہ انہی کے وکیل بنے ہویے ہیں تو اب جن کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی جا رہی ہے ان کو سوچنا چاہئے کہ اپنی عقل بھی استعمال کر لیا کریں ۔جن کی آپ ہر بات مان رہے ہیں اور جس کشتی پر سوار ہو کر آے تھے وہ اسی میں آپ سے سوراخ کروا رہے ہیں اور اگر آپ نے شیر کی بجاے چوہے کہ مہر اپنے اوپر لگوانی ہے تو پھر کوئی کچھ نہیںکر سکتا اب نہیں تو جب الیکشن آے گا تو پھر باری لینے کا وقت ہو گا
لیکن یہ بھی کوئی اتفاق نہیںہے کہ انکے قریبی سمجھنے والے چاہے باپ ہوں ، مینگل ہوں ایم کیو ایم ہو یا ق لیگ آپ کو آنکھیں دکھائیں تو پھر بھی آپ کو سمجھ نہ آے تو پھر بوٹا کیا کرے ابھی بھی وقت ہے سیاست اسی کا نام ہے سنو لیکن مرضی اپنی کرو کوینکہ شیر کی ایک دن کی زندگی والی بات بھی آپ کو یاد ہے اور مولانا کا پھر سے متحرک ہونا بھی آپ کی سمجھ میںہونا چاہئے
کیونکہ یہ کسی دو ر میں طاہر القادری کو استعمال کرتے ہیں کسی دور میں مولوی خادم ہو کبھی حافظ سعید سے نئی جماعت بنواتے ہیں تو کبھی خادم حسین سے اب یہ کام مولانا فضل الرھمان کر رہے تو کل ان کے پاس اور بھی آپشن ہیں اس لئے اپنے مضبوط ہتھیار کر ابھی سے بچاو مشکل وقت میں انہی نے کام آنا ہے کیونکہ جن کو ا.اپ بزنس دے رہے ہو وہ ہر دور میں ہر دور کے حکمرانوں کے گن گاتے ہیں اور بزنس لیتے ہیں لیکن جن سے آپ کسی کے کہنے پر پنگا لے رہے ہو اگر وہ سیدھے ہو گئے تو پھر چیونٹیاں بھی جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو رزلٹ کا آپ کو علم ہے
آپ کو سمجھ جانا چاہئے کہ قاضی عیسی کیس میں الجھا کر آپکو ایک ستون سے جبکہ میْڈیا سے لڑوا کر آپ کو دوسرے ستون سے بھی دور کیا جا رہا ہے باقی ریا تیسرا ستون وہ پہلے ہی آپ کو کام نہیں کرنے دے رہا اور پھر آپ مظبوط پنجابی بیورکریسی سے ہی لڑتے رہے تو دو سال میں انہوں نے آپ کو کچھ نہیں کرنے دیا باقی بھی ایسے گزر گئے تو دیکھنا پھر جو حال پیپلز پارٹی کا ہوا اس بے بھی برتر آپ کا پنجاب میں ہونے جا رہا ہے لوگ مر رہے ہیں نہ نوکریاں نا روزگار ، نا مہنگائی ، ناکاروبار، کچھ بھی تو کنٹرول نہیں ہو رہا آپ سے ۔۔۔پھر کرورونا، ٹڈی دل، پیٹرول ، چینی گندم ڈینگی کسی میں بھی تو نہیں لڑ رہے ہے آپ
بس اب ہمیں آپ گھبرانے دو ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں