160

بین الاقوامی عازمین حج فریضہ سےمحروم رہے گئے سعودی عرب نے اہم فیصلہ کر لیا۔

سعودی عرب نے محدود حج کا اعلان کر دیا
صرف سعودی عرب میں موجود مختلف قومیتوں کے مقیم افراد ہی حج کر سکیں گے
سعودی وزارت حج وعمرہ کا جاری کردہ بیان
اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی)دنیا کے 180سے زیادہ ممالک میں کرونا وائرس(کووڈ19)پھیل جانے کی وجہ سے اب تک پوری دنیا میں پانچ لاکھ اموات ہو چکی ہیں جبکہ 70لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں اس وبائی مرض کے مسلسل خطرات،متاثرہ افراد کے لئے کسی ویکسین یا علاج کے دستیاب نہ ہونے اور عالمی سطح پر صحت کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لئے خاص طور پر جب کہ بین الاقوامی ادارہ صحت کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق زیادہ تر ممالک میں وباء کی شرح بڑھتی جا رہی ہے نیز انسانی آبادی میں جہاں افراد کے بیچ محفوظ دوری بنانا مشکل ہے وباپھیلنے کی سنگینی کی وجہ سے مملکت سعودی عرب نے بیت اللہ کے مہمانوں اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے زائرین کو صحت اور امن وسلامتی کے ساتھ حج وہ عمرہ کی ادائیگی کرانے کے حوالے سے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے کرونا وائرس کے آغاز اور کچھ ممالک میں وباء منتقل ہونے کے فورا بعد سے ہی اللہ کے مہمانوں کی حفاظت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کیا جس کے نتیجے میں عازمین عمرہ کی آمد کومعطل کیا گیا اور مقدس سرزمین میں موجود عازمین پر ہی اکتفا کیا گیا چونکہ یہ فیصلہ عالمی سطح پر وبا کا مقابلہ کرنے اور وائرس روکنے کے حوالے سے بین الاقوامی صحت کی تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے نتیجہ میں لیا گیا تھا اس لئے اسے عالم اسلام اور دنیا بھر میں کافی سراہا گیا اس وبائی مرض کے جاری رہنے انسانی ہجوم واجتماعات میں بیماری کے پھیلنے کی سنگینی اور ممالک کے مابین نقل وحرکت نیز عالمی سطح پر بیماری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ اس سال1441ء کے حج میں مملکت میں موجود مختلف قومیتوں کے افراد بہت ہی محدود تعداد میں شریک ہونگے اس فیصلہ کا مقصد فریضہ حج کو پرامن اور صحت مند طریقے سے قائم کرنا ہے جس میں انسانی جان کی حفاظت کے حوالے سے شریعت اسلامیہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے موجودہ وبا کے خطرات سے انسان کی حفاظت سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ضروری سماجی دوری کا پورا خیال رکھا جائے گا خادم حرمین شریفین کی حکومت جسے ہر سال لاکھوں عازمین حج وعمرہ کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ فیصلہ زائرین حرمین شریریفین کی سلامتی اور حفاظت کے حوالے سے مملکت کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ پوری دنیا کے ممالک کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے اور انسانیت کو ہر طرح کے نقصان سے بچائے بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں