59

آن لائن کلاسز کے لیے اسلامک یونیورسٹی کا لرننگ منیجمنٹ سسٹم گوگل کیساتھ منسلک


75فیصد طلبہ کی آن لائن کلاسز پر آمادگی،15فیصد کاجواب موصول نہیں ہوا ،

لرننگ مینجمنٹ سسٹم کو گوگل کلاس روم کیساتھ منسلک کردیا،ڈاکٹر معصوم یاسین زئی

10فیصد طلبہ نے آمادگی ظاہر نہ کی ،گزشتہ تین ماہ میں آن لائن کلاسز کے لیے فکلیٹی کی تربیت کا اہتمام کیا، یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو کریش نہیں ہوسکتا،جو طلباء آن لائن کلاسز سے مطمئن نہیں وہ اپنا سمسٹر فریز کرسکتے ہیں

چار ہزار کورسز رجسٹر کیے،ہر شعبہ کے سربراہ اور دیگر فکلیٹی کے لیے ماسٹرٹرینرز کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، اب بہترین سسٹم کے تحت آن لائن کلاسز جاری ہیں،پی ٹی اے ،وزارت آئی ٹی سے مشاورت کررہے ہیں

اوپن بک سسٹم پر اتفاق کیا گیا ہے ،پیپر کے حل کے لیے ہر طالب علم کو8گھنٹے دیے جائیں گے ،نشاندہی پر خامیوں کو مستقبل میں ختم کر دیا جائے گا، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا میٹرو واچ کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد ( محمد جواد بھوجیہ) ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کے لیے گزشتہ تین ماہ میں فکلیٹی کی ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے ۔آن لائن پیپر اوپن ہوگا جس کے حل کے لیے طالب علموں کو 8گھنٹے دیے جائیںگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میٹروواچ کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ۔ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے لرننگ منیجمنٹ سسٹم کو گوگل کلاس روم کیساتھ منسلک کیا گیا ہے ، یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو کریش نہیں ہوسکتا ،ہر شعبہ کے سربراہ اور دیگر فکلیٹی کے لیے ماسٹرٹرینرز کی خدمات حاصل کی گئیں تھی اب بہترین سسٹم کے تحت آن لائن کلاسز جاری ہیں ،چار ہزار کورسز رجسٹر کیے گئے ہیں ،سمسٹر کے اختتام پر طالب علموں سے پیپر بھی آن لائن لیا جائے گا ،اوپن بک سسٹم پر اتفاق کیا گیا ہے ،پیپر کے حل کے لیے ہر طالب علم کو8گھنٹے دیے جائیں گے ۔میٹرو واچ کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات کے متعلق سوال کے جواب میں ریکٹر کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے لیے تمام طلبہ ء سے رائے طلب کی گئی تھی اس کے جواب میں75فیصد نے آمادگی ظاہر کی ،15فیصد نے جواب نہ دیا اور10فیصد طلبہ نے آمادگی ظاہر نہ کی ،اب طالب علموں کو کہا گیا کہ اگر ان کے علاقہ میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں اور وہ آن لائن کلاسز اسے مطمن نہیں وہ اپنا سمسٹر فریز کرسکتے ہیں تاہم اگر طلبہ آن لائن کلاسز کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار کے مسائل ہیں ان کو لیکچرز فلیش میں دیے جارہے ہیں انہوں نے اس حوالہ سے مزید کہا کہ دوراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا ان کو بھرپور احساس ہے اس حوالہ سے پی ٹی اے ،وزارت آئی ٹی سے مشاورت کررہے ہیں تاکہ ان علاقوں میں بھی آن لائن کلاسز اور لیکچرز کا حصول ممکن بنایا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے ظلبہ کے لیے خصو صی پیکجز کا وعدہ کیا ہے دور رداز علاقوں میں براڈ بینڈ کی سہولت کو بہتر کیا جارہا ہے ۔ریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ اگر آن لائن کلاسز سے 50فیصد اہداف بھی حاصل ہوں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی ،تاہم آئیندہ اس صورت حال کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور خامیوں کی نشاندہی ہوگی جن کو مستقبل میں ختم کیا جاسکے گا ۔
معصوم یاسین زئی


ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاسٹلز میں1200غیر ملکی طلبہ گزشتہ چار ماہ سے موجودہیں اور وہ مکمل ایس او پیز پر عمل کررہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ ایس اوپیز پر عمل در آمد کے حوالہ سے تعلیم یافتہ افراد کا رویہ انتہائی مثبت اور دیگر کے لیے قابل تقلید مثال ہونا چاہیے ،انہوں نے مزید کہا کہ اگر1200طلبہ کو اس وباء کے دوران تمام احتیاطی تدابیر کیساتھ رکھ سکتے ہیں تو اس سے دگنی تعداد میں طلبہ کو بھی اس وبائی صورت حال میں یونیورسٹی ہاسٹل میں رکھا جاسکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ دودراز کے علاقوں کے طلبہ جہاں بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل ہیں ان کو ہی سب سے پہلے بلایا جائے تاکہ ان کا تعلیمی نقصان نہ ہو ۔۔

صدر کا انتخاب 30 جون کوBOTاجلاس میں ہوگا ،ریکٹر
یونیورسٹی کے نئے صدر کی تعیناتی کے لیے تمام مروجہ طریقہ کار اور قوانین کو فالو کیا
اسلام آباد ( خبر نگار ) ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے صدر کا انتخاب30جون کو بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس میں ہوگا ،اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر کی تعیناتی کی منظوری کے لیے ریکٹر کی طرف سے تین نام تجویز کیے جائیں گے جس پر بورڈ آف ٹرسٹیز کے تمام53ممبران کی رائے لی جائیگی ،بورڈ آف ٹرسٹیز کے ممبران جن کا تعلق پاکستان سے ہے وہ اجلاس میںذاتی طور پر شرکت کریں گے وہیں غیر ملکی ممبران آن لائن اجلاس میں شرکت کریں گے ،بورڈ آف ٹرسٹیز کا یہ اجلاس ایوان صدر میں ہوگا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے نئے صدر کی تعیناتی کے لیے تمام مروجہ طریقہ کار اور قوانین کو فالو کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا مزیدکہنا تھا کہ کوڈ 19کی وجہ سے جہاں دیگر مسائل نے جنم لیا ہے وہیں معاشی مسائل بھی سر اٹھاسکتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر تعلیم پر بھی پڑے گا اس حوالہ سے ہمیں مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ہوگا کہ کسطرح اس مالی بحران سے بچا جاسکتا ہے ۔جب بھی کوئی آفت آتی ہے اسطرح کے مسائل جنم لیتے ہیں تاہم اب یہ آفت دنیا بھر میں ہے اور پہلی مرتبہ اس نوعیت کی ہے اس لیے مسائل بھی اسی نوعیت کے ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ جامعات کو مالی امداد کا خصو صی پیکج دیں اور گزشتہ سال کی طرح بجٹ میں مخصوص کیے گئے فنڈز میں اضافہ کریں تاکہ جامعات کی معاشی صورت حال پر کوئی منفی اثر نہ پڑے

) آن لائن کلاسز کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے لرننگ منیجمنٹ سسٹم کو گوگل کلاس روم کیساتھ منسلک کیا گیا ہے ، یہ ایک ایسا سسٹم ہے جو کریش نہیں ہوسکتا، ،ہر شعبہ کے سربراہ اور دیگر فکلیٹی کے لیے ماسٹرٹرینرز کی خدمات حاصل کی گئیں تھی اب بہترین سسٹم کے تحت آن لائن کلاسز جاری ہیں ،چار ہزار کورسز رجسٹر کیے گئے ہیں ،سمسٹر کے اختتام پر طالب علموں سے پیپر بھی آن لائن لیا جائے گا ،اوپن بک سسٹم پر اتفاق کیا گیا ہے ،پیپر کے حل کے لیے ہر طالب علم کو8گھنٹے دیے جائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں