197

ملک کو درپیش مسائل کا حل پارلیمان میں ہے،مولانامعاویہ اعظم طارق

ملک کو درپیش معاشی،سماجی،مذہبی اور سیاسی مسائل کا حل پارلیمان میں ہے،مولانامحمد معاویہ اعظم طارق
ملک میں اسلامی قوانین کے نفاظ کے لیے بہترین وقت ہے، پارلیمان کا مذہبی اساس کی طرف جھکاو علماء کی محنت کی بدولت ہے
وزیر اعلی عثمان بزدار،سپیکر پنجاب اسمبلی اور میری کاوشوں سے پنجاب کی12کروڑ عوام کا دینی مستقبل محفوظ ہوگیا ہے،رکن اسمبلی
اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ ،عکاسی خادم حسین) جھنگ سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کا کہنا ہے کہ پنجاب کی تمام نصابی کتب اب متحدہ علماء بورڈ کی منظوری کے بغیر پبلش نہیں ہوپائیں گی گے،مذہبی شخصیات کے حوالہ سے نصابی کتب میں نقب لگانے والوں کا راستہ مستقل بند کردیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ میٹرو واچ کو دیے گئے خصو صی انٹرویو میں کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیااور دیگر زرائع ابلاغ سے جب نصابی کتب میں مقدس شخصیات کے متعلق مضامین کے اخراج اور مذہبی مضامین پر نقب لگانے کے متعلق معلوم ہوا تو میں نے یہ مسئلہ اسمبلی میں اٹھا یا،جس پر سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے بڑی سنجیدگی دکھائی اور ایوان کے ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس میں ہر سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی کو شامل کیا گیا میں بھی اس کمیٹی میں شامل تھا،کمیٹی نے اس معاملہ کے تمام پہلووں پر غور کیا اور ایک سال اس اہم ترین مسئلہ کے مستقل حل کے لیے مشاورت کی۔کمیٹی نے اپنی سفارشات سپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر اعلی عثمان بزدار کو پیش کیں اور ایوان میں ایک قرارداد کے زریعے اس نصابی نقب زنی پر مستقل بندش لگادی۔اب پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی تمام نصابی کتب متحدہ علماء بورڈ کی زیر نگرانی پبلش ہونگی اور کوئی بھی نصابی کتب متحدہ علماء بورڈ کی منظوری کے بغیر پبلش نہیں ہوگی۔یہ یقینا ایک بہت بڑا اقدام ہے جس کے زر یعے پنجاب کی12کروڑعوام کا دینی مستقبل محفوظ ہوگیا۔مولانامحمد معاویہ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اب پنجاب کے بعد اس طرح کی قرارداد وفاق اور دیگر صوبوں میں بھی لائی جارہی ہے،مسلمانوں کو اپنی دینی اساس کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے اور اگر کوئی ہماری صفوں میں موجود ہوں جو اس اساس کو نقصان پہنچائے تو ہم سب کو اس کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے،اور کوئی ہم سے باہر اس اساس پر حملہ کرے تو قانون کی روشنی میں اس کا قلع قمع کیا جانا چاہیے۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کی طرف سے نبی آخرالزمان کے نام کیساتھ ختم النبین لکھنے کی قراردادقابل ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کی ارکان پارلیمان مذہبی اساس کو مضبوط بنانے کی طرف راغب ہوئے ہیں،یہ تبدیلی علماء کرام کی سالوں کی محنت کا ثمر ہے۔علماء کرام کی محنت کا ثمر آج پارلیمان کے اندر اور باہر ہرجگہ نمایاں نظر آرہا ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ مذہبی اساس کیساتھ اس طرح جڑ جانے سے ان راستوں کومستقل بند کیا جاسکے گا جہاں سے لوگ نقب لگاتے ہیں۔مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ موجود حکومت ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کی ریاست کی تشکیل کے حوالہ سے کوشاں ہے،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اس حوالہ سے مثبت اقدامات خوش آئیند ہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر1973کے آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کردیا جائے تو مذہبی مسائل ختم ہوجائیں گے،ان کا کہنا تھا ملک بھر میں اسلامی قوانین کے نفاظ کے لیے بہترین وقت ہے۔حکومت کو اس حوالہ سے مزید اقدامات کرنے چاہیے۔۔ رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد معاویہ اعظم طارق کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل پارلیمان ہی فراہم کرسکتی ہے۔پارلیمان کی مضبوطی اور اس کو موثر بناکر ملک کو درپیش تمام چیلنجز سے بخوبی نمٹا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ واحد فورم ہے جہاں سے مسائل کا مشترکہ حل اور یکجہتی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں