167

جامعات رواں ماہ کھولنے کے حق میں نہیں۔، ڈاکٹر محمد علی

۔۔
جامعات رواں
ماہ کھولنے کے
حق میں نہیں۔۔ تعلیمی ایمر جنسی کے ساتھ محتاط حکمت عملی اپنانا ہو گی، ڈاکٹر محمد علی

ستمبر میں اگر جامعات کو مکمل نہ کھول پائے تو آئندہ سمسٹر بھی آن لائن ہوگا ،فیس 50فیصد تک کم کرنا ہوگی ،کیونکہ لائبریری ،ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات جو فراہم نہیں کررہے ان کی فیس تو ختم کرنا پڑے گی

حکومت بڑا تعلیمی پیکیج دے جس سے جامعات پر کم سے کم معاشی دبائو پڑے ،جامعات معاشی دبائو برداشت نہیں کر سکتیں، ایسی صورتحال کی طرف جانے سے پہلے جامع پیکیج ضروری ہے

اساتذہ کا کنٹریکٹ ختم نہیں ہوا،کم از کم 10پبلی کیشنز ضروری ہیں، چند عناصر منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں ، کسی کوفیصلے پر اعتراض ہے تو چیلنج کر سکتا ہے،وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کا میٹروواچ کو خصو صی انٹرویو

وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی کا کہنا ہے وہ جولائی میں جامعات کھولنے کے حق میں نہیں ہیں ،تعلیمی اداروں کے کھولنے کے حوالہ سے ایک محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی ،جامعات میں ہزاروں طلبہ ہیں ،اسی طرح سکول کے بچوں میں ایس او پیز کے متعلق شعور و آگہی کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میٹرو واچ سے خصو صی انٹرویو میں کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ستمبر میں جامعات کو مکمل طور پر نہ کھول پائے تو آئیندہ سمسٹر بھی آن لائن ہوگا تاہم فیس 50فیصد تک کم کرنا ہوگی ،کیونکہ لائبریری ،ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات جو فراہم نہیں کررہے ان کی فیس تو ختم کرنا پڑے گی ،اس لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح جامعات پر بڑا معاشی دبائو آئے گا ،کیونکہ ریونیو آدھا رہ جائیگا ۔وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ان کا جامعات کاانتظام کا وسیع تجربہ ہے وہ اس بڑے چیلنج سے با آسانی باہر آجائیں گے ،تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک بڑا تعلیمی پیکج دے جس سے جامعات پر کم سے کم معاشی دباو پڑے کیونکہ اگر معاشی دباو بڑھا تو بعض جامعات تویہ صلاحیت نہیں رکھتیں کہ وہ اس دباو کو برداشت کرسکیں اس لیے ایسی صورت حال کی طرف جانے سے پہلے ایک پیکج ضروری ہے کیونکہ اگر تعلیم کے شعبہ کا نقصان ہوا اور تعلیمی ادارے غیر فعال ہوگئے تو ان کو موجودہ صورت حال پر لانا بھی با آسانی ممکن نہ گا ۔وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ جن اساتذہ کا کنٹریکٹ ختم ہوا ہے اس کے متعلق چند عناصر کی طرف سے منفی پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ،ٹینور ٹریک اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ ان کی کم از کم دس پبلیکشنز ہوں ،تاہم ان اساتذہ کی یہ پبلیکشنز پوری نہیں ہیں ،ٹینور ٹریک اساتذہ کا کنٹریکٹ چھ سال کا ہوتا ہے اور ان کی تنخواہ دیگر اساتذہ سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے تاہم اگر کسی کو یونیورسٹی کے فیصلہ پر اعتراض ہے تو وہ اس کو چیلنج کرسکتا ہے

) ڈاکٹر محمدعلی کا کہنا تھا کہ عید قربان کے فوری بعد کا ہفتہ کروناء کی وناء کی مانیٹرنگ کے حوالہ سے انتہائی اہم ہوگا کیونکہ ان دنوں کرونا کے گراف آگے کی صورت حال کو واضح کرے گا ،اور اسی گراف کو سامنے رکھتے ہوئے ہی مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دی جاسکے گی،ہمیں جولائی میں ان گائیڈلائنز پر غور کرنا ہوگا جوجامعات کو کھولنے کے وقت ہمیں ضرورت ہوں گی ،کیونکہ جولائی میں صورت حال مزید واضح ہونا شروع ہوجائیگی اور جولائی کے آخری ہفتہ میں عیدکے فوری بعد کرونا کرو کی سمت کا درست تعین ہوگا کہ یہ کس طرف جاری ہے ۔

وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ پڑھا لکھا طبقہ اس وباء میں موثر کردار ادا کرسکتا ہے لہذا اس طبقے کی خدمات حاصل کی جائیں اور ان کے زریعے لوگوں میں شعور و آگہی کا پیغام پہنچائیں کیونکہ پڑھا لکھا طبقہ چیزوں کو جلدی سمجھتا ہے اور لوگوں تک اس پیغام کو موثر انداز میں پہنچا سکتا ہے ۔وائرس کے خاتمے کے بعد پوری انسانیت یکسر بدل جائیگی اور پڑھے لکھے طبقہ کا کرداد مزید بڑھ جائیگا ،کیونکہ وباء کے خاتمے کے بعد دنیا پہلے کی طرح نہیں ہوگی ،ہمیں اپناطرز زندگی بدلنا ہوگا۔

ڈاکٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ آئندہ دور ٹیکنالوجی اور مہارت کا دور ہوگا لہذاہمیں تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت اور مہارت پر بھی زور دینا ہوگا،اس مقصد کے حصول کے لیے شعبہ تعلیم میں بڑی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اعلی تعلیم کے معیار میں بہتری سے ہی ہم ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کروناء کی وباء کے خاتمے کے بعد بھی ہمیں آن لائن کلاسز کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ ء میں سیکھنے کی صلاحیت مزید بڑھے گی اور طلبہ ء کے پاس کسی بھی مضمون کو سمجھنے کے لیے زیادہ آپشن موجود ہوں گے ،جہاں ماضی میں طلبہ ء کے پاس ایک فکیلٹی کا لیکچر دستیاب ہوتا تھا تاہم آن لائن کلاسز کی صورت میں طلبہ کے پاس زیادہ آپشن دستیاب ہوگیں ۔وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ جامعات کے پاس لامحدود وسائل ہوں تبھی وہ کرونا جیسی وباء کی ویکسین تیار کرسکیں تاہم جامعات کے پاس وسائل نہیں کہ اتنا بڑا تحقیقی کام ہوسکے ، تاہم قائد اعظم یونیورسٹی نے کرو نا کے وباء کے متعلق درجن سے زائد ریسرچ پراجیکٹس کیے ہیں ،انہوں نے اس حوالہ سے شعبہ سائیکالوجی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے اس شعبہ نے کروناء کی وباء کے متعلق باقاعدہ ایک کتابچہ بھی مرتب کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اب اساتذہ کی ذمہ داری کلاس تک محدود نہیں ہے ہماری سماجی زمہ داریاں بھی بہت بڑھ گئی ہیں ۔کرونا کی وباء میں سماجی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں ہمارے ہاں جس خاندان کے فرد کو کرونا ہوا لوگوں نے اس خاندان کو اچھوت سمجھنا شروع کردیا جو انتہائی منفی عمل تھا ،ہماری سماجی ذمہ ساری ہے کہ اس خاندان کا خیال رکھیں اور اس خاندان کا مشکل میں بازوبنیں ہمیں اس حوالہ سے شعور اجاگر کرنا ہوگا ۔

ڈاکٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ جب طلبہ ء واپس آئیں گے تو سخت ایس او پیز کے تحت ہی ان کو کیمپس میں داخل ہونا ہوگا ،اب صورت حال ماضی سے یکسر مختلف ہوگی صرف وہی طلبہ ہاسٹلز جاسکیں گے جن کی الاٹمنٹ ہے کیونکہ کسی بھی طرح کا رسک اب ہم نہیں لے سکتے ،ہمیں سیکورٹی اوتر سیفٹی دونوں کے حوالہ سے سخت ایس اوپیز پر ہر کسی کو پابند کرنا ہوگا ۔کسی کے غیر زمہ دارانہ رویہ سے نقصان ہو اب ہمیں ایسی کسی صورت حال کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ہاسٹلز میں ہمیں محتاط رویہ اپنانا ہوگا کیونکہ ہاسٹلز میں کئی سہولیات مشترکہ استعمال ہوتی ہیں اور کسی کی لاپروائی کرونا کی وباء کے پھیلاو کا باعث بن سکتی ہے ،ہمارے پاس کیوبکل کی سہولت موجود نہیں کہ ہر طالب علم کے لیے علیحدہ سے تمام سہولیات ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں