85

امریکی فوج نے افغانستان سے ملٹری بیس خالی کرناشروع کردئیے

دنیامیں دوبارہ حقیقی اسلامی نظام کی دوبارہ شروعات ہمارے پڑوسی ملک افغانستان سے ہونے جارہی ہے . افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق امریکی فوج نے 5ملٹری بیس خالی کرناشروع کردئیے ہیں .

طالبان آنے والے وقتوں میں ان ملٹری بیسز پرقبضہ کریں گے.امریکہ نے اپنے فوجی اڈے اس معاہدےکے تحت خالی کیے ہیں جوکچھ عرصہ قبل دوحہ میں ہواتھا.دوسری جانب افغان طالبان کے چین ،روس ترکی اوریورپ کے کچھ ممالک سے رابطے جاری ہیں .ذرائع کے مطابق ملابرادرافغان طالبان کے اگلے امیرالمومنین ہوں گے جوپڑوسی ملک پرحکومت کریں گے.ان کے نام پراتفاق ہوگیاہے.چین اورترکی سے افغان طالبان کے معاملات طے ہوچکے ہیں .امریکہ اورحکمت یارگروپ افغانستان میں عبوری حکومت کاحامی ہے.افغان طالبان کااگلاہدف کابل شہرہے کیونکہ جس نے کابل اپنے قبضے میں کرلیااس کی افغانستان پرحکومت ہوگی .طالبان کی جانب سے امریکہ کوکہاگیاہے کہ اپنی فوج کوجلدی سے نکالو.اگراشرف غنی اورطالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے توطالبان کااگلاہدف دارالحکومت پرحملہ کرکے اس پرقبضہ کرناہوگا.زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدہ اگلے مرحلے میں داخل ہوگا، امریکا کی سوچ بعض شرائط پر مبنی ہوگی. ہم قیدیوں کی رہائی، تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات میں پیشرفت پر زور دیتے رہیں گے.رواں سال فروری میں دونوں فریقین کے مابین معاہدے میں واشنگٹن نے آئندہ برس کے وسط میں افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلا کا عزم کیا جس کے بدلے

میں طالبان نے دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا.خیال رہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت امریکا کا کہنا تھا کہ 135 روز کے اندر فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 8 ہزار 600 رہ جائے گی جبکہ 5 فوجی اڈوں سے فورسز کو مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں