93

بچے کتنے سال کے ہوجائیں تو والدین کی طلاق کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کردیا

ریلیشن شپ اور نفسیات کی ماہر ٹینیتھ کیری نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں اس نے بچوں کی عمر اور ماں باپ کے ازدواجی رشتے میں ایسے تعلق کا انکشاف کیا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا . میل آن لائن کے مطابق ٹینیتھ کا کہنا ہے کہ جب کسی میاں بیوی کے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کی طلاق ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے .

برطانوی ماہر نے اس موضوع پر ہونے والی کئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی دو وجوہات بیان کی ہیں. ایک وجہ یہ کہ جب بچے بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں تو والدین عموماً عمر کی 40سے 50کی دہائی میں ہوتے ہیں اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جب شادی شدہ جوڑوں میں سب سے زیادہ جھگڑے ہوتے ہیں اور اسی عمر میں زیادہ تر جوڑوں کی طلاق ہوتی ہے. دوسری وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی اپنے بالغ بچوں کے معاملات پر باہم سب سے زیادہ جھگڑتے ہیں. بچوں کی پرورش کے معاملے میں میاں بیوی کی آراءبچوں کے بالغ ہونے پر سب سے زیادہ مختلف ہو جاتی ہیں. ماں ایک بات کو درست سمجھتی ہے

تو باپ دوسری بات کو، چنانچہ بچوں کی وجہ سے بھی ان میں زیادہ لڑائیاں ہوتی ہیں. ٹینیتھ لندن کے رہائشی جوڑے سائمن اور جواینا کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ان کے بیٹے جارج کے بچپن سے لے کر لڑکپن تک اس کی پرورش پر سائمن اور جواینا میں بہت کم جھگڑا ہوا لیکن جونہی جارج نے بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھا، سائمن اور جواینا میں اس کے معاملات کو لے کر جھگڑے شروع ہو گئے اور اب جواینا کو خدشہ ہے کہ اس کی شادی ٹوٹنے جا رہی ہے. جارج کی گزشتہ سالگرہ پراس کو تحفے میں جو رقم ملی اس سے وہ کوئی چیز خریدنا چاہتا تھا. جواینا نے جارج کو اس کے باپ کے ہمراہ خریداری کے لیے بھیج دیا اور متنبہ کیا کہ وہ گرانڈ تھیفٹ آٹو نامی ویڈیو گیم کے علاوہ جو دل کرے خرید لے. لیکن جب جارج اور سائمن گھر آئے تو جواینا نے دیکھا کہ انہوں نے وہی گیم خریدی تھی جس سے جواینا نے منع کیا تھا. اس ویڈیو گیم میں برہنگی اور تشدد بہت زیادہ ہوتا ہے چنانچہ جواینا کا خیال تھا

کہ جارج کے لیے یہ گیم ٹھیک نہیں ہے لیکن سائمن نے کہا کہ جارج کے سبھی دوست یہ گیم کھیلتے ہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں. اس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا اور کئی دن تک انہوں نے باہم بات چیت نہیں کی.“ٹینیتھ کا کہنا تھا کہ ”ماں باپ کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بچے کی پرورش کیسے کرنی ہے. میرے خیال میں انہیں یہ بھی سکھایا جانا چاہیے کہ جب بچہ بالغ ہو جائے تو انہیں کیا کرنا چاہیے، تاکہ ان کے درمیان جھگڑا کم ہو اور ان کا ازدواجی تعلق خوشگوار رہے.“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں