72

ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کا جنون ایک اور نوجوان کی جان لے گیا

 ٹاک ویڈیو بنانے کا جنون ایک اور نوجوان کی جان لے گیا . لاہور میں ٹک ٹوک ویڈیو بنانے والا نوجوان چھت سے گر کر زخمی ہوا اور اسپتال میں دم توڑ گیا .

حمزہ نامی نوجوان لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج تھا.نوجوان اسپتال میں دو دن تک زیر علاج رہا تاہم اب دم توڑ گیا ہے.بتایا گیا ہے کہ نوجوان لاہور کی فردوس مارکیٹ میں چوتھی منزل کی چھت پر دوستوں کے ہمراہ ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا کہ اس دوران چھت سے گر کر زخمی ہوگیا. حمزہ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج دو دن تک جاری رہا.تاہم اب وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے.پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش ورثاء کے حوالے کردی ہے.حمزہ نامی ٹک ٹاکر کے والدین نے ایپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے.

ٹک ٹاک کی وجہ سے اب تک ملک بھر میں کئی اموات ہو چکی ہیں. چینی موبائل ایپ اب تک بے شمار لوگوں کی موت کی وجہ بن چکا ہے، پاکستان اور بھارت میں عموماََ اس طرح کے واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں، نوجوان ویڈیو بنانے کے اس حد تک شوقین ہو جاتے ہیں کہ انہیں خود کی بھی خبر نہیں ہوتی اور وہ انجانے میں اپنی جان دے کر گھر والوں کو صدمہ دے جاتے ہیں.

اسی حوالے سے وکیل ندیم سرور نے مقبول چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹوک پر پابندی عائد کرنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،درخواست میں استدعا کی گئی کہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ ملک میں انتہائی مقبول چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹوک پر پابندی عائد کی جائے. وکیل ندیم سرور نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ ایپ نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہے کیونکہ اس سے نہ صرف وقت اور پیسہ ضائع ہو رہا ہے بلکہ یہ ایپ بے حیائی پھیلانے کا بھی سبب بن رہی ہے. درخواست میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹک ٹوک کی وجہ سے بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے کی کاروائیاں عروج پر ہیں. اگر ٹک ٹاک پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو یہ ملک میں معاشرے کی تباہی کا سبب بنے گا. وکیل نے دائر درخواست میں لہذا ہائی کورٹ سے استدعا کہ پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی جائے کہ وہ ملک میں ٹک ٹاک کے استعمال پر مستقل پابندی عائد کرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں