302

پریس کلب الیکشن ۔۔۔قائد اور بونوں میں فرق

فورتھ ایمپائر ۔۔۔زاہد فاروق ملک zfarooqmalik@hotmail.com
پریس کلب الیکشن ۔۔۔قائد اور بونوں میں فرق
افضل بٹ نے جنہیں لیڈر بنایا وہ سمجھے کہ شاید اب انہیں وحی آنے والی ہے
وقت نے ثابت کیا کہ خدمت کرنے والا قائد ہوتا ہے اور بونے بونے ہی رہتے ہیں
ہمیں یاد ہے کہ کس طرح پریس کلب راولپنڈی میں انقلاب آیا اور پھر کس طرح سے ایک ہی گلدستہ میں ہر قسم کے پھول سج گئے تھے ان پھولوں نے جماعتی مذہبی مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر کئی سال تک جدو جہد کی ان میں انجمن طلبا اسلام ، جمعیت ،پی پی پی ،مسلم لیگ سمیت کئی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے طلبا یونین لیڈر شپ سے لے کر ورکرز تک شامل تھے اور پھر سب نے سخت محنت کی اور اس محنت میں سب سے بڑا کردار افضل بٹ کا تھا وہ محنت کرتا پلان بناتا اور پھر تمام ساتھیوں کو بلاتااور تیار ڈشیں ان کے سامنے رکھتا اور کہتا کہ ہم نے سب مل کر یہ کام کیا ہے میڈیا ٹاون سے لے کر نیشنل پریس کلب کے قیام پھراسکے فائیو سٹار کیفے ٹیریا کی ایک ایک چیز کو خودد چیک کرتایہاں تک کہ وہاں زیتون کے تیل سے سالن تک تیار ہونا شروع ہو گیا پھر ہر سال سپورٹس کے پروگرام محافل نعت ، فطاریاں سحریاں ،پھر کمزور ساتھیوں کے لئے عید پیکیج ، بیوٹی کلاسز، نعت خوانی کے مقابلوں کے نام پر مالی امداد دہر عید پر نئے کپڑوں کی صورت میں عیدیاںسمیت ایسے ایسے ایونٹ کروائے کہ ساتھیوں کی عزت نفس بھی مجروح ہ ہوئے
پھر جب ایک لیڈر جسکو پی ایف یو جے کا صدر تک بنایا اس نے سمجھا کہ وہ بہت بڑا لیڈر بن گیا اس نے چند ساتھیوں کو گمراہ کیا اور الگ دھڑا بنا لیا پھر ایک ایسے شخص کو جس کو مسلسل 8سال پہلے آر آئی یو جے کا دو سال مسلسل سیکریٹری ، پھر دو سال آر آئی یو جے کا مسلسل دو سال صدر پھر دو سال مسلسل سیکریٹری نیشنل پریس کلب پھر دو سال مسلسل صدر نیشنل پریس کلب منتخب کروایا تو اس نے سمجھا کہ میں بہت بڑا لیڈر بن گیا ہوں اور اس نے چند ساتھیوں کو گمراہ کیااور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی پھر جن کو کوئی جانتا نہیں تھا انہیں افضل بٹ نے سیکریٹری خزانچی بنایا یہان تک کہ انہیں سر کا تاج بنایا ان میں سے کچھ ایسے بھی ناعاقبت اندیش تھے جنہیں اپنے گھر کی اوپر والی منزل پر ٹھہرایا اسکے بچوں تک کو کھلایا پلایا دودھ تک پلایا
لیکن ان سب نے اس آدمی کی طرح اپنے آپ کو سمجھا جس نے نئی نئی نماز شروع کی ابھی دو تین دن نماز پڑھی کہ پریشانی میں مبتلا ہو گیا دوستوں نے سبب پوچھا تو جواب ملا کہ آج کتنے دن ہوگئے مجھے نماز پڑھتے لیکن ابھی تک مجھے وحی نہیں اتر رہی اس نے سمجھا کہ میں دو تین دن میں ہی اتنا نیک ہو گیا ہوں کہ اب مجھے وحی ہی اترنی چاہئے
ایسے ہی یہ بونے سمجھ رہے تھے کہ افضل بٹ نے انہیں لیڈر بنایا ہے تو شاید وہ بازی گر بن گئے ہیں جنہیں افضل بٹ سالہا سال صدر سیکریٹری بناتا تھا جن انہوں نے اپنے بازو آزماے تو وہ ایگزیکٹیو ممبر بھی منتخب نہ ہو سکے اور پھر سب ایک ایک کر کے جب عہدوں سے ہٹتے گئے تو انہیں اپنے ہی قائد میں خرابیاں نظر آنی لگیںا ور ایک سال قبل پچھلے الیکشن میں سب نے دیکھا کہ انور رضا کی سیکریٹری شپ سے اختلاف کرنے والے نے بھی سمجھا کہ شاید وہ اتنا ہی نیک ہو گیا ہے کہ اس کے دم خم سے ہی جرنلسٹ پینل قائم ہے اور پھر اس نے بھی اپنی
ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی اور جسکو وہ سیکریٹری بنانے کا خواہشمند تھا اس نے ڈیڑھ سو ووٹ لئے تو شاید اس لیڈر کو یاد نہیں رہا کہ مرغیاں بیچنے میں اور سیاست کرنے میں خدمت کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جبکہ انور رضا نے نہ صرف وہ سیٹ جیت کر بلکہ پورا سال خدمت کر کے ثابت کیا کہ قائد کا انتخاب درست تھا
بہانے بہانے سے پھر تمام بونے اکھٹے ہوئے لیکن پھر بھی افضل بٹ 28میں سے 23نشستیں جیت گیا، سب بونوں نے دیکھا جو انکا انتخاب تھا اس نے کیسے اپنے محسنوں سے آنکھیں پھیریں اور پھر مقافات عمل سب نے دیکھا کہ جدھر گئیاںبیڑیاں ادھر ہی ملاح چلے گئے اور پولیس کے اس مخبر نے ایک ایک کر کے سب کو اتنا ذلیل لیا کہ وہ نہ گھر کا رہا نا گھاٹ کا اور پھر کچھ نام نہاد لیڈرز سے اللہ نے ایسی غلطیاں کروائیں کہ پہلے ایک ہزار ممبران کو جعلی قرار دیا پھر سات سو کو نامعلوم قرار دے کر اپنے پاوں پر نہ ایسی کلہاڑی ماری بلکہ پورے شہر میں اپنے خلاف نامعلوم کے نام پر ہزار کے قریب ایسے میزائل تیار کروائے کیونکہ وہ سب نامعلوم خود لوگوں کے ترلے کر رہے تھے اور اسکا رزلٹ چار سو کی برتری سے الیکشن میں نتایج سے ملا
اور پھر اگر ہمارا ایک جزباتی دوست جس نے 18ووٹوں کی خاطر اپنی بیوی کی جیتی ہوئی سیٹ ہروا دی چونکہ عقل مند لوگ سوچتے ہیں کہ جن کا آپس میں گھر میں اتفاق نہیں کہ بیوی ایک گروپ سے کھڑی ہے اور میاں اس گروپ میں سے کیڑے نکال رہا ہے سوچنا اسے چاہیئے تھا کہ یا بیوی سوچتی کہ میرا مجازی خدا میرے پینل کے خلاف کمپئین کر رہا ہے تو وہ خود اخلاقی طور پر پیچھے ہٹ جاتی یا میاں سوچتا یا اسے روکتا کہ یہ پینل ٹھیک نہیں تم دستبردار ہو جاو لیکن دونوں میاں بیوی کو پتہ چل گیا کہ پورے شہر میں انکے ساتھ صرف 18لوگ ہیں ان 18ووٹوں کی خاطر جیتی ہوئی سیٹ ضائع کروا دی ورنہ خبر کلین سویپ لگتی نا کہ میدان مار لیا تاہم ہماری اس بہن نے جس انداز میں محنت کی افضل بٹ اسے کسی اور انداز میں ضرور اکاموڈیٹ کرے گا
تاہم اس الیکشن میں اس بات کا ضرور پتہ چلا ہے کہ ووٹ اسی کا ہوتا ہے جو عوام کی خدمت کرے اور افضل بٹ نے جس طرح اپنی کمیونٹی کی خدمت کی اب اگلے دس سال اسے کوئی نہیں ہرا سکے گا کیونکہ وہ ایک ناقابل شکست قائد بن کر ابھرا ہے اور سب جانتے ہیں کہ قائد قائد ہوتا ہے اور بونے بونے ہی رہتے ہیں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “پریس کلب الیکشن ۔۔۔قائد اور بونوں میں فرق

  1. بہت اچھی اور حقائق کی عکس بندی کرتی تحریر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں