234

ریاست مدینہ کی ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار

ریاست مدینہ کی ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار

وہ بے وقوف عورت دینہ کی بجاے حضرت عمر فاروق کے دور کی مدینہ کی ریاست سمجھ بیٹھی تھی

جس ریاست کے محافظ خاتون اول کی بیٹی کو روکیں تو ڈی پی او تبدیل ہو جایں

اسی ریاست کے محافظ عزت لٹنے والی کو کہیں کہ رات کو کیوں نکلی اسے ہی مدینہ کی ریاست کہتے ہیں ؟

جہاں ایک معاون خصوصی سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنے ملک کی عزت داو پر لگا دی جاے وہی ریاست مدینہ تھی ؟

کہتے؛یہ دور ففتھ جنریشن وار کا دور ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور دماغی صلاحیت سے عوام کے ذہنوں کو بدلا جاتا یے جہاں اس جنگ میں فوائد ہیں جہاں کسی ٹیکنالوجی کے فوائد ہوتے ہیں وہاں اگر دماغ کا درست استعمال نہ ہو تو اسکے نقصانات اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں
ایک وقت میں کوئلے کا استعمال ہوتا تھا اور پھر سب نے دیکھا کہ سردیوں میں کوئلے سے دم گھٹنے کے باعث کتنی اموات ہوئیں پھر اسکی جگہ گیس نے لی جہاں گیس کے فوائد تھے وہاں بے احتیاطی سے کئی قیمتی لوگ اس دنیا سے رخصت ہوے ویسے تو بہت مثالیں موجود ہیں لیکن سوشل میڈیا کے بے ہنگم استعمال نے فوائد کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے جنازے نکالے وہاں اس ففتھ جنریشن وار نے ہمیں بتایا کہ کیسے اسی نواز شریف کو ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار سے پہلے نکالا گیا جب نواز شریف کے خلاف اتنا چور چور کاپراپیگنڈہ کیا گیا کہ نااہلی کے بعد الیکشن کا جو رزلٹ آیا سب کو ماننا پڑا اور پھر اسی ففتھ جنریشن وار سے پلیٹ لیس کے پراپیگنڈہ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا کہ عدالتیں بھی کہنے لگی کہ نواز شریف کی زندگی کی گارنٹی دی جاے اور پھر جب تک وہ طیارے میں چل کر سوار نہیں ہوے کسی کو شک ہی نہیں ہوا
اور پھر اس ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا ایسا اندھا استعمال ہوا کہ ایک معاون خصوصی اور ساجد گوندل کے کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک ایسے کیس کو استعمال کیا گیا جیسے موٹروے کیس سے بڑھ کر کوئی کیس نہیں اور اس سے بڑھ کر اس ملک میں کوئی کبھی ظلم نہیں ہوا لیکن ایک ایسے کیس کو بنیاد بنا کر عوام کی توجہ ہٹائی گئی جس سے ایک معاون خصوصی اور ساجد گوندل کیا سے تو دھیان ہٹا لیکن پوری دنیا کے میڈیا نے ہمارے معاشرے اسکی اقدار ۔رہن سہن۔ سماجی میل جول اور ایک عظیم بھولی بھالی قوم جو کبھی روٹی کپڑا مکان کبھی اسلام کبھی ترقی کبھی تبدیلی کے نعروں کے فریب میں آ جاتی اس کی ساری اقدار کا جنازہ نکال دیا
کہتے ہیں ایک گھر میں جب بھائی داخل ہوا تو اس نے اپنی بہن کو اس کے کمرے میں نا پا کر محلے میں جا کر شور مچا دیا کہ میری بہن بھاگ گئی میں کہیں کا نہیں رہا ہماری عزت خاک میں مل گئی جب سب لوگوں نے اسکی دھائی سن لی تو وہ گھر واپس گیا اور جب دوسرے کمرے میں گیا تو اسکی بہن دوسرے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی
کہتے ہیں وہ نیک پاکباز بہن کی شادی بھی ہو گئی لیکن وہ جب بھی میکے آتی یا گھر نکلتی سب لوگ اس کی طرف اشارہ کرتے کہ یہ وہ لڑکی ہے جو گھر سے بھاگ گئی
اب بھی اس قوم کا دھیان معاون خصوصی سے تو ہٹا دیا گیا ہے لیکن دیار غیر میں رہنے والے ان پاکستانیوں سے پوچھیں کہ انہیں اس موٹر وے کیس سے کن کن طعنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہمارے میڈیا کو اور اس میڈیا کو استعمال کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ توجہ ہٹانے کے لیے کسی اور کیس کو اوون نہیں کیا جا سکتا تھا کہتے کبھی شطرنج یا بارہ کٹین ایک گیٹی یا پیادہ مارنے پر بادشاہ سے یا بہت ساری گیٹیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور یہ کیا دہائیوں تک ہماری جان نہیں چھوڑے گا جیسے وزیر آباد والے قبر سے نکال کر لاش کی بحرمتی کرنے کی آج تک سزا بھگت رہے ہیں جہاں گناہ تو ایک بدبخت نے کیا لیکن بدنام سارا وزیر آباد ہوا
اس کیس میں ظلم تو دو بدبختوں نے کہا لیکن اس کیس کی سرپرستی کرنے والوں نے پاکستان کا منہ خود سے کالا کروایا

کہتے ہیں موٹر وے کیس کی ا اشاروں خاتون کا تعلق فرانس سے تھا‘ فرانس میں تعلیم حاصل کی‘ فرانس ہی میں جوان ہوئی اور فرانس ہی میں شادی ہوئی‘ خاوند گوجرانوالہ کا رہائشی تھا لیکن پیرس میں رہتا تھا‘ خاتون کا میکہ لاہور میں تھا‘ میکے اور سسرال کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے‘ خاوند خاتون کومیکے جانے سے روکتا رہتا تھا‘ گھر گوجرانوالہ میں تھا‘ یہ گوجرانوالہ ہی میں رہتی تھی‘ پڑھی لکھی‘ بااعتماد اور سمجھ دار تھی۔

یہ 8ستمبر کو شاپنگ کے لیے لاہور گئی‘ تینوں بچے بھی اس کے ساتھ تھے‘ شاپنگ کے بعد والدہ کے گھر چلی گئی‘ رات کا کھانا کھایا‘ بچوں کو نیند آ گئی تو اس نے گوجرانوالہ واپس جانے کا فیصلہ کر لیا‘ والدہ روکتی رہ گئی لیکن اس کا خیال تھا خاوند کو پتا چل گیا

تو وہ ناراض ہو جائے گا‘ لاہور سے گوجرانوالہ کا فاصلہ صرف چالیس منٹ کا تھا‘ یہ اکثر آتی جاتی رہتی تھی لہٰذا پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی‘ یہ رات ساڑھے بارہ بجے لاہور سے نکلی‘ محمود بوٹی سے موٹر وے پر آئی اور گوجرانوالہ کی طرف ڈرائیو کرنے لگی‘ یہ رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ایسٹرن بائی پاس سے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر آئی‘ یہ جوں ہی لنک روڈ پر پہنچی‘ اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا‘ سڑک پر اندھیرا تھا‘ یہ خوف زدہ ہو گئی‘ بچے پچھلی سیٹوں پر سوئے ہوئے تھے‘ اس نے فوراً اپنے خالہ زاد بھائی سردار شہزاد کو فون کیا‘ اس نے اسے مشورہ دیا تم 130 ڈائل کر کے موٹروے پولیس کو اطلاع دے دو‘ میں بھی آ رہا ہوں‘ اس نے اپنے دوست جنید کو ساتھ لیا اور یہ گوجرانوالہ سے روانہ ہو گیا۔
خاتون نے ہیلپ لائین پر موٹروے پولیس کوفون کر دیا‘ اسے بتایا گیا آپ ایم الیون کی لنک روڈ پر ہیں اور یہ موٹروے پولیس کی حد میں نہیں آتی تاہم موٹروے پولیس نے خاتون کو ایک مقامی نمبر دے دیا‘ خاتون نے اس نمبر پر رابطہ کیا اور بتایا میں اکیلی ہوں‘ میرے ساتھ بچے ہیں اور میں اس وقت لنک روڈ پر پھنس گئی ہوں‘ اسے بتایا گیا ”آپ فکر نہ کریں‘ ہم کچھ کرتے ہیں“۔

میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں لاہور سیالکوٹ موٹروے مارچ 2020ءمیں مکمل ہوئی تھی‘ پنجاب حکومت نے اس کی نگرانی کے لیے سپیشل فورس بنائی تھی اور یہ فورس پنجاب پولیس یا موٹروے پولیس کی بجائے کمشنر لاہور کے ماتحت تھی مگر یہ بھی مکمل طور پر ایکٹو نہیں تھی چناں چہ لاہور سیالکوٹ موٹروے اور اس کی لنک کا چار کلو میٹر کا ٹکڑا عملاً کسی کے کنٹرول میں نہیں تھا۔

اس کے گرد تین گاﺅں آباد ہیں‘اس کے لچے لفنگے اکثر موٹر وے پر آ کر گاڑیاں لوٹتے رہتے ہیں‘ ایسے بے شمار واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں‘ میں خاتون کی سٹوری کی طرف واپس آتا ہوں‘ خاتون نے گاڑی اندر سے لاک کی اور سردار شہزاد اور پولیس کا انتظار کرنے لگی‘ دو گھنٹے گزر گئے مگر پولیس آئی اور نہ سردار شہزاد پہنچا۔

اس دوران دو ڈاکو وہاں آ گئے‘ پولیس کا خیال ہے یہ دونوں پروفیشنل ڈاکو نہیں تھے کیوں کہ اگر یہ پروفیشنل ہوتے تو ان کا طریقہ واردات مختلف ہوتا‘ یہ قریبی دیہات کے معمولی وارداتیے ہیں‘ یہ تھوڑی دیر گاڑی کو واچ کرتے رہے‘جب دو گھنٹے تک کوئی شخص گاڑی کے قریب نہیں آیا تو پھر انہوں نے اسے لوٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

ایک ڈاکو کے ہاتھ میں ڈانگ تھی جب کہ دوسرے کے پاس پستول تھا‘ یہ گاڑی کے قریب پہنچے اور پستول دکھا کر خاتون کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا‘ خاتون نے انکار کر دیا‘ یہ دھمکیاں دینے لگے لیکن خاتون نے دروازہ نہ کھولا‘ یہ مشتعل ہو گئے اور ڈنڈا مار کر شیشہ توڑ دیا‘ بچوں نے رونا شروع کر دیا‘ خاتون ڈر کر سڑک کی طرف دوڑ پڑی۔

ایک ڈاکو اس کے پیچھے دوڑا‘ اس دوران وہاں سے ایک گاڑی گزری‘ گاڑی کے ڈرائیور نے خاتون کو دیکھ لیا مگر اس کی سپیڈ زیادہ تھی تاہم گاڑی میں سوار خالد مسعودکے ذہن میں کھٹکا آیا اور اس نے ون فائیو پر پولیس کو اطلاع دے دی‘ اس دوران دوسرے ڈاکو نے خاتون کا دو سال کا بچہ اٹھایا اور اسے لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑا۔

خاتون بچے کو بچانے کے لیے گاڑی کی طرف واپس آ گئی‘ دوسرے ڈاکو نے اس کے دوسرے بچے بھی گاڑی سے کھینچ کر باہر نکال لیے‘ ماں بچوں کو بچانے کے لیے ان کے ساتھ الجھ پڑی‘ وہ بار بار بچوں کو کلمہ پڑھنے اور اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین بھی کر رہی تھی‘ بچے چیخ رہے تھے‘ خاتون ڈاکوﺅں کی منتیں بھی کر رہی تھی لیکن دنیا میں انسان سے بڑا درندہ کوئی نہیں ہوتا‘یہ جب جانور بنتا ہے تو یہ جانوروں کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے۔

یہ بھی درندے تھے‘یہ چاروں کو دھکیل کر سڑک سے نیچے کھائی میں لے گئے‘ آگے جنگل تھا‘ ایک ڈاکو نے تینوں بچوں کو سائیڈ پر پھینکا اور ان کے سر پر پستول رکھ دیا‘ بچے سسک رہے تھے جب کہ دوسرے ڈاکو نے خاتون کو بے بس کرنا شروع کر دیا‘ وہ اس سے لڑتی رہی‘ اس دوران پہلے ڈاکو نے بچوں کو مارنا شروع کر دیا۔

وہ ماں تھی چناں چہ وہ بچوں کی سلامتی کے لیے ڈھیلی پڑ گئی‘ دوسرا ڈاکو آگے بڑھا اور پہلا بچوں کے سر پر کھڑا ہو گیا‘ دونوں ڈاکوﺅں کو کوئی جلدی‘ کوئی پریشانی نہیں تھی‘ دونوں نے اس کے بعد گاڑی سے خاتون کے زیور‘ نقدی اور اے ٹی ایم کارڈ لیے اور اس سے کہا” خاموش ہو کر یہاں بیٹھی رہو اگر تم سڑک پر گئی تو تم چاروں کو گولی مار دیں گے“۔

اس دوران دور سے موٹر سائیکل کی آواز آئی‘ وہ دونوں اٹھے اور اندھیرے میں گم ہو گئے‘ تھوڑی دیر میں دو موٹر سائیکل گاڑی کے قریب پہنچ گئے‘ یہ ڈولفن فورس کے چار اہلکار تھے‘ وہ گاڑی کے قریب اترے‘ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا‘ دروازے پر خون کا نشان تھا اور نیچے کھائی کی طرف بچے کا چھوٹا سا جوتا پڑا ہوا تھا۔

وہ چاروں جوان ڈر گئے اور انہوں نے زور زور سے ”کون ہے‘ کون ہے“ کی آوازیں لگانا شروع کر دیں‘ جنگل سے کوئی آواز نہ آئی‘ ڈولفن فورس کے ایک جوان نے دو ہوائی فائر کیے اور وہ کھائی میں اتر گیا۔کھائی پندرہ فٹ گہری تھی اور اس میں اندھیرا بھی تھا‘ جوان آوازیں لگاتا ہوا آگے بڑھتا گیا‘آگے کھیت شروع ہو گیا۔

اسے اچانک ٹارچ کی روشنی میں زمین پر کوئی چیز دکھائی دی‘ اس نے جھک کر دیکھا تو یہ بچے کا دوسرا جوتا تھا‘ وہ آگے بڑھنے لگا‘ اس دوران اسے کسی عورت کی ڈری سہمی آواز آئی ”اللہ کا واسطہ ہے ہمیں قتل نہ کرو‘ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے“ وہ آواز کی طرف دوڑا اور پھر سامنے کا منظر دیکھ کر دہل گیا۔

سامنے کھیت کے کنارے ایک خوف زدہ عورت بیٹھی تھی‘ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے‘ جسم پر خراشیں تھیں اور تین خوف زدہ بچے اس کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے‘ عورت نے بچوں کو اپنے دونوں بازوﺅں میں جکڑ رکھا تھا‘ پولیس کا جوان خاتون کے ساتھ بیٹھ گیا اور اسے تسلی دینا شروع کر دی مگر وہ اسے پولیس اہلکار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔

وہ ہسٹریائی انداز میں اس کی منتیں کر رہی تھی‘ خدا کے لیے ہمیں نہ ماریں‘ ہم کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے‘ آپ ہماری گاڑی بھی لے جاﺅ‘ میں تمہیں اور رقم بھی منگوا دیتی ہوں بس ہمیں نہ مارو‘ پولیس اہلکار کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ اس نے اسے کہا‘ بہن آپ پریشان نہ ہوں‘ میں واقعی پولیس اہلکار ہوں لیکن وہ اسے پولیس اہلکار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔

اس دوران دوسرے اہلکار بھی آ گئے‘ بچے انہیں دیکھ کر مزید سہم گئے اور انہوں نے ماں کو جکڑ لیا‘ ماں انہیں بار بار کہہ رہی تھی‘ تم آنکھیں بند کر لو اور کلمہ پڑھو‘ وہ خود بھی کلمہ پڑھ رہی تھی لیکن بچوں کی زبانیں گنگ تھیں اور آنکھیں بند ہونا بھول چکی تھیں‘ وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے پولیس اہلکاروں اور ٹارچ کی لائیٹ کی طرف دیکھ رہے تھے۔

پولیس اہلکاروں نے وائرلیس پر کنٹرول آفس کو اطلاع دے دی‘ پولیس متحرک ہو گئی‘ خاتون ایس ایچ او کو بھی بلالیا گیا‘ آدھے گھنٹے میں پولیس پہنچ گئی‘ خاتون ایس ایچ او نے خاتون کو تسلی دی‘اس کے جسم پر چادر ڈالی اور یہ اسے اور اس کے بچوں کو لے کر سڑک پر پہنچ گئی‘ اس دوران خاتون کا کزن سردار شہزاد بھی پہنچ گیا۔

خاتون میڈیکل کے لیے تیار نہیں تھی‘ پولیس نے اسے بڑی مشکل سے رضامند کیا‘ یہ اسے بچوں سمیت ہسپتال لے کر گئی‘ میڈیکل ٹیسٹ کرائے‘ نمونے لیے اور انہیں گھر والوں کے حوالے کر دیا‘ یہ لوگ گھر پہنچ گئے لیکن آج پانچویں دن بھی بچے پھٹی ہوئی آنکھوں سے درو دیوار کو دیکھتے ہیں‘ یہ ہر اجنبی شخص کو دیکھ کر کانپنے لگتے ہیں اور چیخ چیخ کر کہتے ہیں‘ انکل ہماری ماما کو مت ماریں‘ پلیز انہیں چھوڑ دیں۔

یہ بچے المیہ ہیں لیکن ان سے بڑا المیہ خاتون ہے‘ یہ سارا دن باتھ روم میں گزار دیتی ہے‘ یہ اب تک اپنے جسم پر ہزاروں ٹن پانی بہا چکی ہے لیکن اس کے جسم سے اس نظام‘ اس معاشرے کی گھن نہیں اتر رہی‘ یہ خود کو پاک نہیں سمجھ رہی اور یہ عورت اس وقت تک پاک نہیں ہو سکے گی جب تک ہم لوگ اس ملک کو ملک اور اس معاشرے کو معاشرہ کہتے رہیں گے

میں عمر شیخ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں‘ اصل ذمہ دار یہ عورت ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ہمیں انسان اور قبر فروشوں کی اس بستی کو معاشرہ سمجھ بیٹھی تھی‘ یہ بڑی بے وقوف تھی‘ یہ سمجھ رہی تھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی انسان بستے ہیں اور یہ انسان عورتوں کو عورت نہیں ماں‘ بہن اور بیٹی سمجھتے ہیں۔

یہ سمجھ رہی تھی اس ملک میں لاءبھی ہے اور آرڈر بھی چناں چہ یہ اٹھی‘ بچوں کو لیا اور رات کے وقت لاہور سے گوجرانوالہ روانہ ہو گئی اور یہ بھول گئی یہ ریاست بے شک مدینہ کی ریاست ہے لیکن اس میں حضرت عمرفاروق ؓ نہیں ہیں یہاں عورت تو عورت بچے بھی محفوظ نہیں ہیں‘ یہ عورت کتنی بے وقوف تھی؟ یہ درندوں کے اس غار کو معاشرہ سمجھ بیٹھی تھی۔ اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس پر ہونے والے ظلم کی ظالم سرپرستی کریں گے اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا ففتھ جنریشن وار کی وہ زد میں ا جاے گی لیکن اگر یہی پولیس اور معاشرہ اس کیس کو خاموشی سے اوون کرتا تو انکی صلاحیت کا بھی پتہ چل جاتا انصاف کا بھی بول بالا ہوتا اور سی سی پی او بھی بکواس نہ کرتا نا جگ ہنسائی ہوتی نا دنیا میں پاکستان کا۔منہ کالا ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں