75

وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی بھی ٹیوٹر پر پراجیکٹس میں مصروف سال بھر کوئی پراجیکٹ نہ کرسکی

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ) جہاں ایک طرف وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ کی غیر مصدقہ رپورٹ میں وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی کو پہلی پوزیشن دی گی تاہم حیران کن طور پر عملی میدان میں وزارت نے دوسالوں میں کوئی قابل ذکر منصوبہ ختم یا مکمل تو درکنا شروع تک نہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق موجودہ سال7579ملین روپے کا بجٹ ملنے کے باوجود وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی نے ایک بھی پراجیکٹ کا پی سی ون تک مکمل کیا ہے اور نہ ہی گزشتہ دوسالوں میں کوئی قابل ذکر منصوبہ مکمل یا شروع کیا گیا ہے۔عالمی اداروں سے ملنے والی بڑی امدادی رقم جو بڑے پراجیکٹس کے لیے فراہم کی گئی ہیں ان میں بھی بڑی بدعنوانی کی شکایات منظر عام پر آئیں جن کی وجہ سے وزارت نے پاکستان کا عالمی سطح پر تشخص پر دھبے لگوائے وہیں مقامی ملنے والے بجٹ کے بڑے حصے میں بھی کرپشن کی گئی ہے۔موجودہ بجٹ میں ایک اہم ترین پراجیکٹس جن میں کلائمیٹ چینج رپورٹنگ یونٹ کا قیام جس کے لیے 15ملین روپے رکھے گئے اس کا پی سی ون تک تیار نہیں کیا گیا،25ملین کے پراجیکٹ برائے ایس ایل ایم پی ۱۱پر کام صفر ہوا ہے،16ملین کے پاکستان واش سٹریٹیجک پلاننگ پر کام صفر،جیومیٹک سنٹر کے قیام پر پیشرفت صفر،اسی طرح اسی طرح7500ملین روپے بلین ٹری کے لیے رکھے جانے کے باوجود اس منصوبہ پر بھی کام کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے۔عالمی ادارے وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی میں بے پناہ کرپشن پر ماضی قریب میں ایک ہم ترین منصوبہ کے لیے مزید فنڈنگ سے معذرت کرچکے ہیں،وزارت میں بیوروکریسی کا ایک مضبوط گروپ پہلے سے ہی کرپشن میں ملوث تھا تاہم اب بڑی حد تک الزامات موجودہ وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل پر براہ راست منصوبوں میں رشوت کے لگائے جارہے ہیں۔جہاں ایک طرف عالمی ادارے وزارت میں کرپشن پر منصوبوں کے لیے مزید فنڈنگ سے معذرت کررہے ہیں وہیں دوسری طرف مقامی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی سطح پر تمام طرح کے منصوبہ جات وزارت میں بے پناہ کرپشن کی وجہ سے بالکل ختم ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں