35

آذربائیجان کے شہر میں میزائل حملہ، 12 افراد ہلاک

آذربائیجان کے شہر گانجا میں میزائل حملے میں کئی مکانات تباہ ہوگئے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق علی الصبح ہونے والے اس حملے میں کے ایک اور حملہ گانجا کے ایک علیحدہ حصے پر اور تیسرا قریبی اسٹریٹجک شہر منگیسیویر میں ہوا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند گھنٹوں قبل ہی آذربائیجان کی افواج نے آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے دارالحکومت اسٹیپناکرٹ پر گولہ باری کی تھی۔

علاقائی قوت روس اور ترکی کے اس لڑائی میں شامل ہونے کے بعد سے عیسائی اکثریتی آرمینیا اور مسلمان اکثریتی آذربائیجان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو حملوں نے بظاہر نقصان پہنچایا ہے۔

گانجا میں اے ایف پی کی ایک ٹیم نے دیکھا کہ حملے سے کئی مکانات ملبے کے ڈھیر میں بدل گئے اور آس پاس کی گلیوں میں عمارتوں کی چھتیں گرگئیں۔

لوگ خوفزدہ اور آنسوؤں کے ساتھ بھاگے جن کی چپلوں پر سیاہ گرد جمی ہوئی تھی اور چند نے باتھ روب اور پاجامے پہنے تھے۔

یہ حملہ اس شہر کے ایک اور رہائشی حصے پر ہونے والے حملے کے صرف چھ روز بعد سامنے آیا جس میں 10 شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھی۔

تازہ ترین حملے کے مقام پر امدادی رضاکار زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش میں کھوج لگانے والے کتوں کا استعمال کر رہے تھے۔

65 سالہ ربابہ ظفروو نے اپنے تباہ شدہ مکان کے باہر کھڑے ہوکر کہا کہ ‘ہم سو رہے تھے، بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہاں تمام گھر تباہ ہوچکے ہیں، کئی لوگ ملبے تلے دبے ہیں، چند ہلاک ہوچکے ہیں اور چند زخمی ہیں’۔

آذربائیجان کے صدر کے معاون حکمت حاجیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ابتدائی معلومات کے مطابق 20 گھر تباہ ہوئے ہیں’۔

ناگورنو-کاراباخ کی فوج نے بتایا کہ آزربائیجان کی افواج نے جمعہ کے روز اپنے حملے تیز کردیئے تھے اور اسٹیپن کرٹ اور قریبی شہر سوسی پر گولہ باری کی تھی۔

آرمینیائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘علیحدگی پسندوں نے اس آگ کو روکنے کے لیے مساوی کاروائیاں کیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں