142

پی ڈی ایم جلسوں میں پاکستان مخالف بیانیہ ، اتفاق یا سازش

پی ڈی ایم جلسوں میں پاکستان مخالف بیانیہ ، اتفاق یا سازش
گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف کا فوج کراچی میں قائد کے مزار پر نعرے بازی بلوچستان میں آزادی کے نعرے
ملک میں سیاسی جدجہد اور جمہوریت کی بحالی کی لئے بنایا گیا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اتحاد سازشوں کا شکار
کہتے ہیں ایک گجر نے نئی نئی نماز شروع کی جب وہ فجر کی نماز پڑھ کر آیا تو اسکی پانچ چھ گائے اللہ کے سپرد ہو گئیں ، ظہر پڑھ کر آیا تو چھ سات بھینسیں اللہ کو پیاری ہو گئیں ، عصر اور مغرب میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی اور جب ہو عشا کی نماز پڑھ کر آیا تو ایک کٹا(بچھڑا) اڑنگ (شور مچا نا)رہا تھا تو نئے نئے نمازی نے کہا تو چپ کر جا تو تو ایک رکعت کی مار نہیں کچھ ایسے ہی پاکستانی عوام کے ساتھ ہوا کیو نکہ سہمی قوم بس ایک نوٹس کی مار لگ رہی تھی
کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب ڈالر مسلسل آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔ پیٹرول کی قیمتیں ایک ہی جست میں 25روپے تک بلندی چلی گئی ہوں ،ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہو ، سقوط کشمیر ہو چکا ہو میڈیا پر تاریخی کریک ڈاون ہزاروں نوکریاں کھا چکا تھا ،چینی آٹے پر نوٹس اور انکوائیریوں کے باوجود قیمتیں کم بھی نہ ہوئی ہوں اور قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی بھی نہ ہوئی ہو، ادویات کی قیمتوں پر وفاقی وزیر تک ہٹا دیے گئے ہوں لیکن قیمتیں کم نہ ہوئی ہوں ملک میں چینی اور ادویات کی قیمتوں کا بحران قیمتیں کم نہیں بڑھا کر کیا جا رہا تھا اور اپوزیشن چیئرمین سینٹ کو لائف لائین دے رہی ہو آرمی چیف کی توسیع پر ایک دوسرے سے سبقت لے رہی ہو ایف اے ٹی ایف بل کی آڑ میں قانون سازی میں ہم اہنگی ہو ،ساری اپوزیشن خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہو اور کوئی پلیٹ لس کے بہانے کوئی بیماری کے بہانے خاموش ہوں اور ٹویٹس تک بند ہو جائیں
اور پھر اچانک پہلے زبیر عمر کی چیف سے ملاقاتوں کی خبر بریک ہوتی ہے پھر اچانک جنرل عاصم باجوہ کے اربوں کے اثاثوں کی بڑی خبر شائع ہوتی ہے اور پھر سوئی ہوئی اپوزیشن پھر سے اچانک جاگتی ہے اور پھر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی اتحاد بنتا ہے اور پھر شہباز شریف اپنی ضمانت کی درخواست واپس لے لر جیل چلے جاتے ہیں پھر اپوزیشن کے جلسوں کا اعلان ہوتا ہے اور پھر ملک میں جمہوریت کی بحالی اور مہنگائی کے نام پر ملک بھر میں جلسوں کا اعلان ہو جاتا ہے
پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوتا ہے اور ملک میں جمہوریت اور مہنگائی کے نام پر ہونے والے جلسہ میں نواز شریف فوج کے خلاف تقریریں کر کے رخ ہی بدل دیتے ہیں اور ملک بھر میں جمہوریت کی بجاے ایک نئے بیانیہ کی بحث چھڑ جاتی ہے اور ابھی اس بیانیہ کی گرد نہیں بیٹھتی اگلہ جلسہ کراچی میں ہوتا ہے جس میں نواز شریف کو کراچی میں تقریر کرنیکی اجازت تو نہیں ہوتے لیکن انکے داماد کیپٹن صفدر قائد اعظم کے مزار پر نعرے بازی کرتے ہیں جب اس غلطی کا ادراک ہوتا ہے توکیپٹن صفدر کی گرفتاری کی خبر نکل آتی ہے ابھی قوم دروازہ توڑنے نا توڑنے آئی جی کو اغوا کرنے کا سوچ رہی تھی کہ کوئٹہ میں پھر جلسہ ہوتا ہے اور اویس نورانی بلوچستان کی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں
یہ اتفاق ہے یا اپوزیشن عوام کی توجہ مہنگائی ،بے روزگاری ، کشمیر سمیت تمام اہم ایشوز سے ہٹانا چاہتی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے کسی کو اب یاد نہیں رہا کہ جنرل عاصم باجوہ ، یا لاہور رنگ روڈ کا واقعہ جو چوبیس گھنٹے چلتا تھا آٹا چینی ڈالر کشمیرسمیت تمام ایشوز بہت پیچھے چلے گئے اور اب ہمارے قومی ایشوز کبھی نواز شریف کی فوج کے خلاف تقریر،کبھی کیپٹن صفدر اور اب اویس نورانی ہمارے ایشوز بن گئے ہیں
اب پتہ نہیں یہ اتفاق ہے یا حقیقت ہے لیکن محسوس یہ ہو رہا جیسے پی پی دور میں پہلے تین چار سال اس وقت کی اپوزیشن نواز لیگ خاموش رہی بعد میں نواز دور میں اسوقت کی اپوزیشن پی پی خاموش رہی اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت میں پہلے ڈھائی سال ساری اپوزیشن خاموش رہی اب پھر وہی الیکشن سے دو سال قبل کا ڈرامہ شروع ہو گیا ہے اور پتہ نہیں سلیکٹرز کی نظر اب کس مہرے پر ہے
کیونکہ اللہ ہی جانے کون بشر ہے
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں