248

نواز شریف ….. سیاست ….. آخرت

نواز شریف ….. سیاست ….. آخرت
ایسی دولت کا کیا فائیدہ ، نواز شریف خود اور انکے بیٹے بھی ماں کو اپنے ہاتھوں سے دفن نہ کر سکے
والد بیوی کے بعد والدہ کی میتیں بھی بیرون ملک سے، تینوں کے انتقال پر بیرون ملک یا جیل میں
نواز شریف دونوں بیٹے ،سمدھی اسحاق ڈار بھی لندن میں، سب کے عدالتوں میں کیس ، مقدمات میں مفرور
خبر یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ لندن میں انتقال کر گئیں لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ میاں نواز شریف باپ کے بعد اب اپنی ماں کو بھی اپنے ہاتھوں سے نہیں دفنا سکیں گے جبکہ اس سے قبل نواز شریف کے بیٹے بھی گرفتاریوں کے ڈر سے اپنی ماںعظیم کلثوم نواز کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں نہیں اتار سکے تھے ، یہ اس ملک کا سیاسی نظا م ہے یا ناجائز دولت اکٹھی کرنے کی حوس یا پھر کہیں کوئی سنگین غلطی ہوئی ہے جس سے اللہ تعالی ناراض ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ بھی عجب سانحات ہوئے ہیں والد کا انتقال سعودی عرب، اہلیہ کلثوم نواز کا لندن میں اور اب والدہ کا بھی لندن ہی میں انتقال ہوا۔کلثوم نواز کا 11 ستمبر 2018 کو جب انتقال ہوا تو نواز شریف بیٹی مریم کے ساتھلاہور کی جیل میں تھے۔تدفین میں شرکت کے لیے نواز شریف کو پے رول پر رہائی ملی اور سفر آخرت کے تمام امور انہوں نے انجام دیے لیکن میاں نواز شریف کے بیٹے اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں نہ اتار سکے
ہم نے سنا ہے کہ محنت مزدوری کرنے والے جب بیرون ملک جاتے ہیں اور انکے کسی عزیز کا انتقال ہو جاے تو وہ اپنی ساری جمع پونجی لگا کر بھی پاکستان پہنچ جاتے ہیں کہ وہ اپنی ماں باپ یا عزیز کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتاریں گے لیکن یہاں جن کے پاس پاکستان کی سب سے زیادہ دولت ہے وہ اس نعمت سے بھی قاصر ہیں کہ اپنے ماں باپ کو خود لحد میں اتارئیں اور تین مٹھیاں مٹی ہی ڈال سکیں
۔میاں شریف کے انتقال پر کیا ہوا تھا؟24 اکتوبر 2004 کو جلاوطنی کے دوران جدہ میں نواز شریف کے والد گرامی میاں محمدشریف کا انتقال ہوا۔نواز شریف اور شہباز شریف میت کے ساتھ پاکستان نہیں آسکے تھے اور انہوں نے وہیںنماز جنازہ ادا کی۔پرویز مشرف کے 1999 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شریف فیملی سعودی عرب کے شہر جدہ چلے گئے تھے۔اب ایک بار پھر سے ایسا ہی مرحلہ شریف فیملی کو درپیش ہے نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔اس مرتبہ بھی جدہ کی طرح لندن سے میت تدفین کے لیے پاکستان لانی ہے۔نواز شریف کے دونوں بیٹے بھی لندن ہی میں ہیں اسی طرح نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار بھی لندن میں ہیں۔ اتفاق سے سب ہی افراد کے پاکستان کی عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں اور کئی مقدمات میں مفرور بھی ہیں۔لندن سے کسی بھی وارث کے آنے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اسحاق ڈار اور حسین نواز کے ذریعے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ خرابی صحت کیوجہ سے نواز شریف کو وطن جانے سے روک رہے ہیں۔بقول اسحاق ڈار اور حسین نواز کے نواز شریف والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان آنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں موجود فیملی کے افراد پر نظر ڈالیں تو میاں شہباز شریف اور ان کے فرزند حمزہ شہبازمقدمات میں اسیری کاٹ کر رہے ہیں۔ پشاور جلسہ میں دادی کے انتقال پر مریم نواز کا ردعمل کیا رہا وہ سب کے سامنے ہے ؟والدہ کی تدفین کے لیے انہیں تو پے رول پر رہائی مل سکتی ہے اور مریم نواز سیاست میں پوری طرح سے سرگرم ہیں۔نواز شریف کو واپس آنا چاہیے؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری صورت حال میں نواز شریف وطن آئیں گے یا نہیں؟زمینی حقائق اور لندن سے جو بیانات جاری کیے جارہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ہمارے نزدیک نواز شریف کو والدہ کی میت کے ساتھ واپس آنا چاہیے اور تدفین سے فارغ ہو کر مقدمات کا سامنا کریں۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیںکہ میاں شریف کے انتقال پر تو مقتدر حلقوں سے معاہدہ کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں آسکے تھے لیکن اس مرتبہ تو کوئی ایسا معاہدہ بھی نہیں جس نے ان کے پیروںمیں زنجیریں ڈال رکھی ہوں؟اس مرتبہ تو کوئی معاہدہ نہیں کیا میاں صاحب علاج کے نام پر از خود جلاوطنی کوطول نہیں دے رہے ؟نواز شریف اگر واپس آتے ہیں تو ان کے پاس موقع ہو گا کہ وہ خود کو عدالتوں سے خودکو بے گناہ ثابت کریں۔عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اپوزیشن کا اتحاد پی ڈی ایم کو بھی فعالیت ملے گی۔ ویسے بھی اگلے چند دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے جا رہا ہے اگر میاں نوازشریف وطن نہیں آتے تو پھر ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن بھی ہو سکتی ہے ۔نہ آنے کا سب سے بڑا نقصان دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی ہاتھ سے نکل جائے گی کیونکہ انسان کے پاس جو بھی ہے وہ اللہ تعالی
کے بعد ماں باپ ہی کا دیا ہوا ہوتا ہے۔تاہم اب دیکھتے ہیں کہ میاں نواز شریف سیاست کا انتخاب کرتے ہیں کہ آخرت کا ۔۔۔۔

کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں