7

اسلام آباد ہائیکورٹ: نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی مؤخر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی مؤخر کرتے ہوئے اشتہارات کی تعمیل کرنے والے افسران کے بیانات ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہدایت کی تھی کہ وہ اشتہاری مجرم قرار دیے جانے سے بچنے کے لیے 24 نومبر تک عدالت میں پیش ہوجائیں۔

سماعت میں دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان نے کی جانب سے نوازشریف کی بذریعہ اشتہار طلبی کی تعمیلی رپورٹ عدالت جمع کروائی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہورہے، نوازشریف عدالت میں زیر سماعت کیس سے متعلق مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں نواز شریف کے اشتہار جاری ہونے کی خبر پاکستان اور بیرون ملک میڈیا پر نشر ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نوازشریف کی لندن رہائش گاہ پر طلبی کا اشتہار رائل میل کے ذریعے موصول ہوا۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کر دیا گیا اور اس سلسلے میں دفتر خارجہ نے دو رپورٹس عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو اخبارات میں نواز شریف کی طلبی کا اشتہار جاری کیا گیا، لندن میں نواز شریف کی طلبی کے اشتہار لگائے گئے جبکہ جاتی امرا، ماڈل ٹاون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر بھی اشتہار چسپاں کیے گئے۔

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج نواز شریف کو اشتہاری قرار نہیں دیا اور اشتہارات کی تعمیل کرنے والے افسران کے بیانات قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا۔

عدالتی حکم کے مطابق نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے سے پہلے اطمینان کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) لاہور کے افسر اعجاز احمد اور طارق مسعود کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

سماعت میں جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ مطمئن ہیں کہ نواز شریف کی حاضری یقینی بنانے کی تمام کوششیں کی گئی ہیں۔

بعدازاں عدالت نے نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

نواز شریف، اہلخانہ کیخلاف ریفرنسز کا پس منظر خیال رہے کہ العزیزیہ، فلیگ شپ اور ایوین فیلڈ تینوں ریفرنسز 7 لاکھ 85 ہزار آفشور کمپنیوں سے متعلق پاناما پیپرز لیکس کا حصہ ہیں جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

ذرائع کے مطابق عدالت عظمٰی نے نواز شریف کو بحیثیت وزیراعظم نااہل قرار دیا تھا اور نیب کو شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں 3 ریفرنس اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جس پر 6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو ایون فیلڈ ویفرنس میں اس وقت سزا سنادی تھی جب وہ برطانیہ میں کلثوم نواز کی تیمارداری کررہے تھے۔

سزا کے بعد شریف خاندان کے اراکین پاکستان آئے جہاں انہیں قید کردیا گیا بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی دی۔

دوسری جانب نواز شریف کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں بھی سزا سنادی تھی، بعدازاں ایک خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں جج نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کو دباؤ پر سزا سنائی،جس پر جج کو ان کے غلط فعل پر عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو 8 ہفتوں کے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور اس میں توسیع کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم صوبائی حکومت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں