6

وفاقی حکومت کا ملک بھر کر سرکاری اداروں میں ڈسپلن کے فروغ کے لیے یونینز پر پابندی پر غور

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ) وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اصلاحات پر غور شروع کردیا ہے،حکام کے مطابق وفاقی حکومت نے اداروں میں ڈسپلن لانے کے لیے تمام سرکاری اداروں میں موجود ہر طرح کی یونینز پر پابندی پر غور شروع کردیا ہے،تفصیلات کے مطابق اوورسٖٹافنگ،ناقص کارکردگی اور عوام کو خوار کرنے میں مملکت خداد پاکستان کے سرکاری اداروں کا خاصہ ہے تاہم وفاقی حکومت نے پہلی مرتبہ صیح معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ان سرکاری اداروں میں اصلاحات لانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے،اس حوالہ سے زرائع کے مطابق گزشتہ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ بھی دی گئی ہے،ادارہ جاتی اصلاحات میں سب سے پہلے حکومت کا سرکاری اداروں میں موجود ہر سطح کی یونینز پر مکمل پابندی پر غور شروع کردیا ہے۔وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ابتدائی طور پر اس کا م کا آغاز وفاقی دارلحکومت میں موجودہ سرکاری اداروں سے کیا جائے گا،اس مقصد کے لیے کیپٹل ڈیولیپمنٹ اتھارٹی،آئیسکو،قائد اعظم،اسلامک یونیورسٹی، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز،فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک،اور وزارتوں میں موجود ہر طرح کی یونینز پر پابندی لگائی جائیگی،مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق یونینز پر پابندی کے بعد وفاقی محتسب کا اداروں میں موجود نظام کو بہترین انداز میں فعال کیا جائیگا تاکہ ملازمین کو درپیش جینوئن مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جاسکے،وہیں پابندی کے بعد سے کسی بھی یونین کی سرگرمی میں حصہ لینے والے ملازمین کو ابتدائی شوکاز کے بعد دوسرے شوکاز کی صورت میں نوکری سے برخواست کردیا جائیگا،زرائع کے مطابق ڈرافٹ میں اہم نقطہ یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ اس طرح کی برطرفی میں کسی قسم کی کوئی رعایت برخواست ملازم کو اعلی افسران یا کسی بھی دیگر فورم پر نہیں دی جاسکے گی۔زرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کو اصلاحات کمیٹی نے بریفنگ میں بتایا کہ ان یونینز میں موجود بڑی تعداد میں لوگ سیاسی جماعتوں کی ایماء پر کام کرتے ہیں اور اداروں میں سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ ونگز ہیں،جب تک ان افراد سے جان نہیں چھڑائی جاتی ادارہ جاتی اصلاحات محض خواب ہی بن جائیگا،بتایا گیا کہ حکومتی پالیسی،آرڈینس،اور اصلاحات کے خلاف کسی قسم کی ہڑتال یا اداروں کی تالہ بندی کی صورت میں مذکورہ احتجاج میں شامل تمام ملازمین کو شوکاز کی بجائے براہ راست بھی نوکری سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔۔زرائع کے مطابق اعلی حکومتی عہدے داروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اداروں کو صیح معنوں میں عوام کے خدمت گار بنانا ہوگا صرف اسی صورت میں ہی عوام کو صیح معنوں میں ریلیف ملے گا،اعلی حکومتی عہدے دار نے نہ نام بتانے کی شرط پر میٹرو واچ کو بتایا کہ ادارہ جاتی اصلاحات میں وزیر اعظم کئی میٹنگز کرچکے ہیں اور وہ اداروں کو صیح معنوں میں پروفیشنلزم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جہاں عوام کے ریلیف مل سکے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں