7

نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے چیف ایگزیکٹوآفیسر محمد عالمگیر چوہدری کا ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کا دورہ

نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے چیف ایگزیکٹوآفیسر محمد عالمگیر چوہدری نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کا دورہ کیااور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وفاقی محکمہ صنعت و پیداوار کے ساتھ مل کر بلوچستان میں صنعت وتجارت اور زراعت جیسے پیداواری شعبہ جات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، اس سلسلے میں ملکی اور بین القوامی ماہرین کی بھی خدمات لی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے نائب صدر حاجی اختر کاکڑ،سابق صدر جمعہ خان بادیزئی، بدرالدین کاکڑ،حاجی جانان اچکزئی،محمد ایوب مریانی دیگر نے این پی او کے چیف ایگزیکٹو عالمگیر چوہدری کا استقبال کیا۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے نائب صدر حاجی اختر کا کڑ و دیگر نے کہا کہ بلوچستان میں 75 فیصد افراد کا روزگار بلواسطہ یا بلا واسطہ زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے بلکہ یہاں معدنیات ،صنعت و تجارت کے شعبوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد کا روزگار وابستہ ہیں تاہم ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ان کی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر وہ کاوشیں نہیں کی گئی جو ہونی چاہیے تھی صنعت و تجارت اور دیگر شعبوں میں بلوچستان کو ترجیح نہ دینا بلوچستان میں محرومی کا سبب بن رہا ہے جو کہ مایوس کن ہے،انہوں نے کہا کہ حکمران اور ادارے صرف بلوچستان سے ٹیکسز وصولی میں دلچسپی رکھتے ہیں صوبے میں فرسودہ طرز صنعت تجارت و زراعت کی وجہ سے یہاں کے عوام اور کاروباری طبقے کی معیار زندگی بہتر نہیں ہو پا رہی۔اس موقع پر نیشنل پروڈیکٹو آرگنائزیشن (این پی او)کے چیف ایگزیکٹو عالمگیر چوہدری کا کہنا تھا کہ اب وہ بلوچستان کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے،ان کے یہاں آنے کا مقصد چیمبر کے عہدیداران اور پیداواری شعبہ جات سے وابستہ افراد کی تجاویز لے کر حکام بالا تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ ملک بھر میں پیداواری شعبہ جات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ یہاں کی صنعت و تجارت اور زراعت جیسے شعبوں سے وابستہ افراد تیکنیکی معاونت و دیگر نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کا مقابلہ نہیں کر پاتے ہم ملک بھر کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے لیے یکساں مواقع چاہتے ہیں ہم نا صرف تاجروں و صنعتکاروں کی تیکنیکی معاونت کرتے ہیں بلکہ بیرونی ممالک کے صنعتوں و دیگر تک رسائی کو ممکن بنانے اور تربیت بھی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سال میں دو بار مختلف شعبوں کے ملکی و بین الاقوامی ماہرین کی تیکنیکی معاونت بھی صنعتکاروں و دیگر کو دی جا سکتی ہے اگرچہ پاکستان کا سالانہ حصہ دو تیکنیکی ماہرین ہیں مگر سال رواں کے دوران اب تک 7 تیکنیکی ماہرین پاکستان لائے جا چکے ہیں۔ہم بلوچستان میں صنعت وتجارت ،زراعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لئے ہر قسم کی کونسلگ،تیکنیکی معاونت کے لیے تیار ہیں بلکہ ہم اے پی او فنڈز سے متعلق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے تجاویز کا بھی خیر مقدم کریں گے۔
اختر محمود
ترجمان این پی او
0333-5252348

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں