6

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ( ڈریپ) کی مبینہ ملی بھگت نے پاکستانی شہریوں کی زندگیاں داو پر لگا دی

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ ) وزارت قومی صحت کے ماتحت ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ( ڈریپ) کی مبینہ ملی بھگت سے پاکستانی شہریوں کی زندگیاں داو پر لگا دی گئیں ، کراچی کی کمپنی الحمد کی جانب سےمبینہ جعل سازی کرتے ہوئے ڈریپ سے غلط شیلف لائف جمع کروا کر منظوری لئے جانے کے خلاف شہری نے وزیر اعظم پورٹل پر درخواست دے دی ، مارچ میں شروع ہونے والی انکوائری پر آج تک کارروائی نہ ہو سکی مذکورہ کمپنی نے رواں مالی سال میں بھی کئی اداروں میں ٹینڈر جمع کروا دیئے ۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے شہری نے وزیر اعظم پورٹل پر درخواست دی کہ الحمد کمپنی نے ڈریپ میں غلط شیلف لائف جمع کرواتے ہوئے منظوری لی ہے جس پر مارچ 2020 میں انکوائری شروع کر دی گئی ، درخواست وزیر اعظم پورٹل پر فروری 2020 میں دی گئی اس پر انکوائری شروع ہوئی لیکن آج تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی ، کمیٹی بنائی گئی کمیٹی نے کہا کہ اس کو منسوخ کیا جائے دو شیلف لائف نہیں ہو سکتیں ۔ بھرپور کارروائی کی سفارش کی۔ کمیٹی نے گلشن اقبال میں کراچی میں موجود آفس عمران خان ولد اسلم اللہ ، اسلم اللہ خان پروپرائٹر کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے ۔ پولی بیلون کیتھیٹر،مکمل بین کیا جانا چاہیے ، کمپنی نے موقف دیا کہ کنسلٹنٹ نے پانچ سال لکھ دیا ۔ اس کے باوجود ٹینڈرز میں حصہ لیا ۔ عدالت سے ایک دن کا حکم امتناعی حاصل کیا گیا وہ بھی ختم ہو گیا ۔ چیف ڈرگ کے پی کے کی ملی بھگت سے یہ کمپنی اب بھی کام کر رہی ہے جب کہ کے پی کے کہ چیف ڈرگ انسپکٹر ابراہیم خان کے پاس پانچ عہدے ہیں ،سیکرٹری فارمیسی کونسل ، سیکرٹری صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ ، ٹینڈر ایولیوشن ٹیکننکل کمیٹی برائے ٹینڈر، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ کے پی کے کا چارج ہے ۔ فارمیسی کونسل سنٹرل کا بھی ممبر ہے ۔ ڈریپ کی جانب سے کارروائی نہیں کی جا رہی ۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر کی مبینہ سفارش پر روکی گئی ہے ۔ ڈریپ سے رجسٹرڈ کرائے گئے کینولے کی تاریخ زائد المعیاد 3 سال تھی مبینہ طور پر جعلی رجسٹریشن لیٹر بناتے ہوئے اسی کینولے کی تاریخ میعاد 5 سال کر دی گئی ۔ عمران خان نے کراچی سے اپنی رجسٹرڈ کمپنی الحمد انٹرپرائزر کراچی کے نام سے مصر سے کینولہ منگوا کر رجسٹرڈ کرایا ، 2011 میں رجسٹرڈ ہونے والے کینولے کی معیاد 3 سال درج تھی ۔2016 میں مبینہ طور پر ریونیو کرائے گئے لائسنس میں اس کی معیاد 5 سال کر دی گئی تا کہ سرکاری اداروں میں سپلائی کرتے وقت اس کی شیلف لائف زیادہ ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں